سپریم کورٹ کا   توہین مذہب کیس میں آسیہ بی بی کی بریت کا فیصلہ برقرار

سپریم کورٹ کا   توہین مذہب کیس میں آسیہ بی بی کی بریت کا فیصلہ برقرار
تصویر بشکریہ ٹوئٹر

اسلام آباد:سپریم کورٹ کی جانب سے  توہین مذہب میں آسیہ بی بی کی بریت کا فیصلہ برقرار ۔


ذرائع کے مطابق چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نےفیصلہ دیا.سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی کی بریت کے خلاف نظر ثانی اپیل مسترد کردی۔

دوران  سماعت مدعی قاری سلام کے وکیل چوہدری غلام مصطفی نے دلائل دیئے کہ یہ بہت حساس اور قومی نوعیت کا معاملہ ہے،اس معاملے میں لارجر بینچ بنایا جائے جس میں مذہبی  سکالرز شامل ہوں،فیصلے میں لکھا ہے کہ خواتین گواہان نے کہا کہ انہیں نہیں پتہ آسیہ کس سے بات کر رہی تھی،مدعیوں کی جانب سے آسیہ کو کسی بدنیتی کی وجہ سے ملوث نہیں کیا گیا،فیصلے میں کہا گیا کہ بار ثبوت مدعی پر ہے،عیسائیوں اور یہودیوں نے جزیہ سے بچنے کے لیئے یہ معاہدہ کیا تھا،تمام علماء نے اس معاہدے کو باطل کہا ہے،بریت فیصلے میں آپ ص کے عیسائیوں کے ساتھ معاہدے کا حوالہ دیا گیا ہے،اگر کسی بیان پر جرح نہ کی گئی ہو تو اسی بیان کو درست سمجھا جاتا ہے،یہ لارجر بینچ کا فیصلہ ہے،سپریم کورٹ کی کچھ نظائر کو نظر انداز کیا گیا،انگلش ترجمہ درست نہیں،آپ نے بریت کا فیصلہ کلمہ شہادت سے شروع کیا ہے جبکہ بینچ مذہبی سکالرز کی معاونت لے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ ابھی تو مذہب کا معاملہ نہیں آیا،کیا اسلام کہتا ہے کہ شہادت نہ ہو تو سزا دے دی جائے،آپ شہادتوں کو پڑھیں بتائیں کہاں غلطی کی ہے،ترجمے کا فیصلے سے کیا تعلق ہے،ہم دیکھیں گے ایسا ایشو ہے کہ لارجر بینچ بننا چاہیے،چاہیئے ہو گا تو ضرور بنائیں گے،فیصلے میں بھی تو یہی لکھا ہے،آپ کہتے ہیں کہ آسیہ بی بی 25 لوگوں کو مخاطب کرکے کہہ رہی تھی،کیا وہ کسی جلسے سے خطاب کر رہی تھی۔چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیئے کہ تفتیشی افسر کے سامنے خواتین گواہان نے کہا کہ ان کے درمیان کوئی جھگڑا نہیں ہوا تھا، اس کیس میں اتنے سچے گواہ نہیں تھے جتنے ہونے چاہیں تھے،تفتیشی افسر کہتا ہے کہ خواتین گواہان نے بیان بدلے،تفتیشی افسر اور گواہان کے بیان میں فرق ہے،فالسے کے کھیت کا مالک عدالت میں بیان کے لیئے آیا ہی نہیں،قانون کہتا ہے کہ 342 کا بیان نہیں ریکارڈ کرایا تو بیان کی کوئی حیثیت نہیں،ایس پی نے جب تفتیش شروع کی تو تب فالسہ کھیت کا مالک آیا،تفتیش کے 20 دن بعد یہ میدان میں آیا،اس کے بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کوئی بات ہم نے ریکارڈ کے خلاف لکھی ہے ؟مدعی قاری سلام نے اپنے بیانات بدلے،قاری سلام کہتا ہے افضل نے اسے اطلاع دی،افضل حلف اٹھا کر کہتا ہے کہ یہ اس کے گھر آئے،ہم کچھ نہیں کہتے ہی سب مذہبی لوگ ہیں،قاری صاحب کہتے ہیں کہ 5 دن غور کرتے رہے،فوجداری قانون میں ایک گھنٹے کی تاخیر سے شکوک و شبہات شروع ہوجاتے ہیں،جن خواتین نے ابتدائی الزام لگایا وہ قاری صاحب کی بیگم سے قران پرھتی ہیں،کیا آپ اس اصول سے اختلاف کرتے ہیں،اگر کوئی وکیل ملزم سے سوال پوچھنا بھول جائے تو اسے پھانسی لگا دیں،آپ میرٹ پر بات کریں،ہم نے کتاب کا حوالہ بھی دیا ہے،کیا معاہدے میں کہیں لکھا گیا ہے کہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہآپ ص نے فرمایا کہ اقلیتوں کا خیال رکھو،اسلامی معاشرے کی خوبصورتی یہ ہے کہ اقلیتوں کا خیال رکھنا ہے،پہلے میرٹ پر بات کریں کہ غلطی کہا ہے،پہلے یہ بتائیں کہ کہاں گواہوں کے بیانات کو ٹھیک نہیں پڑھا گیا،اس کے بعد وہ سب باتیں آئیں گی کہ اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے،اسلام کہتا ہے کہ سچی گواہی دو چاہے اپنے عزیز و اقارب کے خلاف بھی ہو،اگر ہم نے شہادت ٹھیک نہیں پڑھیں تو فوراً درست کریں گے۔

خیال رہے کہ آسیہ بی بی کی رہائی کے فیصلےپر مدعی قاری عبدالسلام نے نظر ثانی اپیل دائر کی تھی جبکہ سپریم کورٹ نے 31 اکتوبر 2018 کو آسیہ بی بی کی رہائی کا حکم دیا تھا۔