کارِ سرکار میں مداخلت پر مفتی کفایت اللہ سمیت دو افراد پر مقدمہ

 کارِ سرکار میں مداخلت پر مفتی کفایت اللہ سمیت دو افراد پر مقدمہ
مفتی کفایت اللّٰه سمیت دونوں افراد کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا، ایس پی مختیار احمد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

مانسہرہ: مانسہرہ میں کارِ سرکار میں مداخلت پر مفتی کفایت اللّٰه سمیت دو افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ مفتی کفایت پر الزام ہے کہ انہوں نے طالب علم سے زیادتی کیس کے ملزم کو 3 روز تک پناہ دی تھی۔


تھانا سٹی مانسہرہ کے سب انسپکٹر محمد فیاض کی مدعیت میں مفتی کفایت اللّٰه اور ملزم کے بھائی عبدالمالک کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

مقدمے کے مطابق زیادتی کیس میں گرفتار ملزم شمس نے پولیس کو بیان دیا تھا کہ وہ گرفتاری دینا چاہتا تھا لیکن مفتی کفایت نے اُسے گرفتاری دینے سے 3 دن تک روکے رکھا۔ اس سے پہلے مفتی کفایت نے شمس الدین کو تین دن تک رکھنے کی تردید کی تھی۔

ایس پی مختیار احمد کا کہنا ہے کہ مفتی کفایت اللّٰه سمیت دونوں افراد کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ 25 دسمبر کو 10 سالہ طالب علم کو زیادتی اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

مانسہرہ میں مدرسہ کے طالبعلم سے زیادتی کے مبینہ ملزم قاری شمس الدین کو 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ میڈیکل رپورٹ میں بھی بچے کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہو چکی ہے۔

مفتی کفایت اللّٰه کا کہنا ہے کہ مدرسہ میں دو طلباء کی لڑائی ہوئی تھی اور سازش کے تحت مقدمہ ٹیچر کے خلاف درج کرا دیا گیا۔ بچے سے بدفعلی کے الزام کا کوئی ثبوت نہیں اور قاری شمس الدین کا فوری ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جائے۔

انہوں نے کہا ہے کہ واقعہ کی تحقیقات کیلئے علماء ایکشن کمیٹی بنا دی ہے جو حقائق منظر عام پر لائے گی۔ قاری شمس الدین کو 3 دن رکھنے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔

ڈسٹرکٹ بار کے صدر نے متاثرہ بچے کا کیس مفت لڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ملزم قاری شمس الدین پر جرم ثابت ہو گیا تو کوئی وکیل ملزم کا کیس نہیں لڑے گا۔