گوجرانوالہ بار: یادوں کا سفر

گوجرانوالہ بار: یادوں کا سفر

جب میں نے وکالت شروع کی تو گوجرانوالہ بار ایسوسی ایشن میں وکلا کی تعداد 600 سے زائد نہ تھی۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو بار کے رکن تو تھے مگر وکالت نہیں کرتے تھے، پیشہ ور وکیل 3/4 سو ہوں گے۔ ان میں ڈیڑھ سو کے قریب ینگ لائرز تھے۔ سینئر کا ادب اور باہمی احترام بار کی روایات تھیں۔

خواجہ جاوید میرے استاد اور قابل تقلید شخصیت تھے، وہ کبھی کبھار گپ شپ میں سمجھاتے اور تاریخ بھی بیان کرتے۔ کہتے ہیں کہ اگلے وقتوں میں خواجہ مطیع اللہ ایڈووکیٹ ہوا کرتے تھے۔ بہت ذہین، فطین اور کمال درجے کے وکیل۔ ان کی بہت سی حکایات مشہور تھیں۔ ایک دفعہ انہیں پتہ چل گیا کہ ایک جج صاحب، جن کے پاس ان کے موکل کا مقدمہ تھا، مقدمہ میں دوسری طرف سے پیسے لے چکے ہیں۔ مقدمہ کی سماعت کے دوران خواجہ صاحب کے تیار کردہ سکرپٹ کے مطابق خواجہ صاحب نے بحث شروع کر دی۔ ان کا موکل مخل ہوا کہ باؤ جی میری بات سنیں، کان میں سرگوشی کا اشارہ کیا۔ خواجہ صاحب نے کان اس کے منہ کے نزدیک کیا وہ کٹہرے میں کھڑا تھا، اس نے کوئی بات کی۔ خواجہ صاحب نے اس کو چند سیکنڈ کی سرگوشی میں نفی میں ہی جواب دیا اور اپنی بحث جاری کر دی۔ موکل پھر مخل ہوا، خواجہ صاحب پھر متوجہ ہوئے پھر یہی منظر دہرایا گیا۔ جج صاحب بھی چوکنے تھے کہ خواجہ صاحب نے کوئی سکرپٹ نہ تیار کیا ہو۔ بہرحال جج صاحب صبر کے ساتھ منظر دیکھتے رہے، یہ حرکت تین چار بار جب دہرائی گئی تو جج صاحب غصے میں آ گئے کہ خواجہ صاحب یہ کیا طریقہ ہے، عدالت کا کوئی ڈیکورم ہوتا ہے، آپ پہلے اس کی بات سن لیں مقدمہ بعد میں سن لوں گا۔ خواجہ صاحب نے معذرت کی، سر مہربانی فرمائیں نظر انداز کر دیں، لہٰذا دوبارہ بحث شروع ہو گئی۔ تھوڑی دیر بعد پھر وہی حرکت ہوئی ۔ جج صاحب کا غصہ فشار کی حدیں عبور کرنے لگا اور خواجہ صاحب بھی طیش میں آ گئے اور اس کی بات سننے کے لیے آگے ہوئے، ابھی اس نے آدھی بات کی ہو گی کہ اسے کہتے ہیں بند کرو بکواس گھٹیا انسان، جانور، بدتمیز، بے ہودہ، بے غیرت ایسی اور بھی گالیوں کی گردان ابھی جاری تھی کہ جج صاحب کا غصہ ہرن ہوا اور کہنے لگے خواجہ صاحب کیا کہتا ہے۔ خواجہ صاحب کہنے لگے، بکتا ہے الو کا پٹھہ، جج صاحب نے کہا پھر بھی، ایسی کیا بات ہے میں بہت ڈسٹرب ہوں۔ خواجہ صاحب مزید غصے میں آ گئے، بکواس کرتا ہے حرامی۔ جج صاحب بڑے پریشان، انہوں نے کہا، نہیں اب سماعت نہیں ہو گی، آپ پہلے یہ قضیہ حل کریں۔ خواجہ صاحب کہنے لگے، سر یہ پاگل ہے مجھے بار بار کان میں کہتا ہے باؤ جی آپ ایسے ہی بحث کر رہے ہیں جج صاحب تو دوسری پارٹی سے پیسے پکڑ چکے ہیں جس پر میں اس کو لعن طعن کر رہا ہوں۔ جج صاحب کا حال کہ کاٹو تو خون نہ نکلے۔ عدالت برخواست ہوئی، مقدمہ موخر ہوا اور غالباً پیسے بھی واپس ہوئے۔ ہمارے وقتوں میں کبھی کبھار ایسا واقعہ ہو جایا کرتا تھا۔ ایک مجسٹریٹ صاحب طبعاً راشی تھے، انڈے ڈبل روٹی تک بھی لے لیا کرتے تھے۔ ہم سے سینئر وکیل غالباً فاروقی صاحب تھے، ان کی ان مجسٹریٹ صاحب سے ان بن ہو گئی۔ گزشتہ روز کی گرما گرمی کی حدت ابھی باقی تھی۔ بار کے وکلا صلح صفائی کا سوچ رہے تھے کہ فاروقی صاحب ان کی عدالت میں دوبارہ پیش ہو گئے۔ مجسٹریٹ صاحب بھی ذہنی طور پر تیار تھے کہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے غیر محسوس انداز میں ہاتھ شیشے کے پیپر ویٹ پر رکھا ہوا تھا۔ وکیل صاحب نے اپنے مدعا کا آغاز کیا، تلخی جو ذہن و قلب میں تھی، آنکھوں سے چھلک رہی تھی۔ دونوں جانب غصہ قابو سے باہر تھا۔ وکیل صاحب نے جونہی کوئی غیر پارلیمانی لفظ مجسٹریٹ صاحب کی کسی بات کے جواب آدھا سا بولا ہی تھا کہ مجسٹریٹ صاحب نے ہاتھ کے نیچے جو پیپر ویٹ تھا اس کو اٹھا کر مارنے کے لیے ابھی بدن اور ہاتھ کو جنبش ہی دی تھی چہرے کے تاثرات درندگی اختیار کیے ہوئے تھے کسی کو شبہ ہی نہ ہوا کہ وکیل صاحب نے پہلے سے ایک پاؤں کا جوتا جو ہاتھ میں پکڑ رکھا تھا۔ پوری پھرتی سے مجسٹریٹ صاحب کے پیپر ویٹ اٹھاتے ہوئے ہاتھ پر دے مارا۔ آن کی آن میں عدالت میں موجود وکلا نے چابکدستی سے چھڑایا اور معاملہ رفع دفع کرایا۔ عدالت میں گالیاں بھی گونجیں لیکن وکلا تب جتھہ بن کر نہیں آیا کرتے تھے بلکہ ایسے وقت میں صلح جوئی سے کام لیتے اور دونوں طرف سے معذرت معافی تلافی ہو جایا کرتی۔ دین محمد گورنر (ریٹائرڈ) جسٹس کے بیٹے شیخ محمد اسلم سینئر ترین وکلا میں پذیرائی اور توقیر رکھتے تھے۔ زیادہ تر وقت بلکہ کل وقتی مصروفیت بار روم میں ڈیرہ جمائے ہوتے۔ کبھی کبھار کسی کی سفارش پر مقدمہ لیتے۔ ایک ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت گئے۔ ابھی مقدمہ کی آواز ہی ہوئی تھی کہ مخالف وکیل کے ایما پر جج صاحب نے شیخ صاحب، جو کہ کشمیری شیخ تھے، سے لائسنس پوچھ لیا۔ یہ بات شیخ صاحب کو کھا گئی، انہوں نے عدالت میں لگی گھڑی کی طرف دیکھا، جج صاحب سے کہا کہ سوا گیارہ ہوئے ہیں کل سوا گیارہ بجے اپنا لائسنس دوں گا اور عدالت سے باہر آ گئے۔ وکلا ہکے بکے رہ گئے کہ اتنے سینئر ترین وکیل سے لائسنس کا سوال کرنا کوئی مناسب بات نہ تھی۔ شاید ان دنوں ہر سال لائسنس ری نیو ہوا کرتا تھا۔ بہرحال شیخ صاحب عدالت سے آ گئے۔ ان دنوں چیف جسٹس جناب جاوید اقبال تھے جو شیخ محمد اسلم صاحب کے بھائی معظم جو بار ایٹ لا تھے، کے دوست اور کلاس فیلو تھے وہ روڈ ایکسیڈنٹ میں وفات پا گئے تھے۔ ورنہ گوجرانوالہ کی سیاست یہ نہ ہوتی جو آج ہے۔ بہرحال شیخ صاحب نے بار میں واپس آ کر دوست سے گاڑی منگوائی، ایک جونیئر وکیل کو ساتھ لیا اور سیدھے جاوید اقبال چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی کوٹھی آ گئے۔ شیخ صاحب کے لیے دروازے کیا گھر کھول دیا گیا۔ ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے کہ جسٹس صاحب آ گئے اور انہوں نے کہا، پاء جی حکم؟ کہنے لگے، فلاں ایڈیشنل جج گدھے کا بچہ تم نے گوجرانوالہ لگایا ہوا ہے اور پورا واقعہ سنایا۔ جج صاحب نے کہا کہ میں اس کا تبادلہ کرتا ہوں، شیخ صاحب نے کہا، نہیں ابھی کل صبح 8:30 بجے جب وہ بیٹھ جائے اور مقدمات کی سماعت شروع کر دے تو 10 بجے اس کو پہلے کام سے روکنا اور اس کے بعد سیشن جج اس کو بلا کر اس کے تبادلے کے احکامات سنا دے۔ اگلے روز ایسا ہی ہوا، جج صاحبان کو پتہ تو چل گیا تھا کہ وجہ شیخ صاحب کی ناراضی ہے۔ وہ جج صاحب تمام ججز اور سینئر وکلا کو لے کر بار روم میں آ رہے تھے ادھر شیخ صاحب نے بار روم کے ملازمین کو کھڑا کیا ہوا تھا کہ وہ لوگ آئیں تو مجھے بتا دو۔ ملازم نے بتایا کہ شیخ صاحب! جج صاحبان اور سینئر وکلا آ رہے ہیں۔ تھوڑی دیر میں سیشن جج صاحب دیگر ججز اور سینئر وکلا صاحبان بار میں داخل ہوئے کہ ہم دیکھ رہے ہیں، شیخ صاحب کدھر ہیں۔ شیخ صاحب کہنے لگے، مجھے نہیں گھڑی کو دیکھو اس وقت اس گھڑی پر 11:10 بج رہے تھے۔ کہنے لگے، میں نے اس گھڑی کے مطابق کل کہا تھا کل 11:15 پر لائسنس دکھاؤں گا، ابھی 11:15 نہیں ہوئے۔ وہ جج صاحب پریشانی کے ہاتھوں موت کے منہ میں اترنے والے ہو رہے تھے کہ چیف صاحب نے ناراضگی میں آرڈرز کیے ہیں۔ شیخ صاحب عموماً درگزر کرنے والے انسان تھے مگر اس پر ڈٹے رہے اور کہا کہ نہیں لوگوں کو راہ مل جائے گی کہ 10 بندے لے جاؤ تو شیخ مان جایا کرتا ہے، لہٰذا ان جج صاحب کو صادق آباد کے قریب جانا پڑا۔ تب لوگ ذاتی تعلقات، اثر رسوخ کی بدولت یا اخلاقی اعتبار سے بات منوا لیا کرتے تھے جتھہ گیری کا رواج نہ تھا شاید چلتے لمحے میں عدلیہ کو ہی اپنے رویے پر غور کرنا ہو گا اور آج وکلا کو بھی بار کی روایات واپس لانے کے لیے قربانی دینا ہو گی۔