’’آواز مسعود للہ‘‘ ایک منفرد آپ بیتی

’’آواز مسعود للہ‘‘ ایک منفرد آپ بیتی

تاریخ اور جغرافیہ سے آگہی آپ کو کسی مخصوص علاقہ اور علاقہ مکینوں کی نفسیات کو سمجھنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ موٹروے پر لاہور سے اسلام آباد کی جانب سفر کریں تو ضلع جہلم سے کافی پہلے ہی آپ کو بار بار گرین سائن بورڈز یہ بتانا شروع کر دیتے ہیں کہ للہ انٹر چینج کتنی دور ہے۔ ہم نے ان سائن بورڈز کو ہمیشہ تاریخ اور جغرافیہ سے عدم واقفیت کی بنا پر نظر انداز کیا حالانکہ یہ جہلم کے جنگجوؤں یا worriers کی سرزمین ہے جو تاریخی طور پر راجہ پورس کا علاقہ ہے جس نے فاتح عالم سکندر اعظم کا مقابلہ کیا تھا۔ گزشتہ دنوں لاہور کے فلیٹیز ہوٹل میں محترم مسعود اسلم للہ کی خود نوشت ’’آواز مسعود للہ‘‘ کی تقریب رونمائی کے مناظر دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ All Roads go to Lillah  گویا یہاں سے نکلنے والے سارے رستے ایک ہی سمت جاتے ہیں اور اس منزل کا نام للہ ہے۔ کینیڈا کے علاقے دینکور میں مقیم ہمارے دوست مسعود للہ کے بارے میں مرحوم حبیب جالب کا یہ شعر ادھار لینا پڑے گا کہ 

یہ اعجاز ہے حسن آوارگی کا

جہاں بھی گئے داستان چھوڑ گئے

کافی عرصہ پہلے جب مسعود للہ صاحب کے ساتھ ہمارا رسمی تعارف ہوا تو میں نے ان سے سوال کیا کہ آپ کینیڈا میں کیا کرتے ہیں تو ان کا ایک لفظی اور برجستہ جواب تھا ’’موجاں‘‘ بات یہاں ختم ہو گئی مگر ان کے بارے میں میرا اشتیاق وہاں سے شروع ہوتا ہے۔ ان کی ذات کے بارے میں میری معلومات اور میرا تجسس دونوں ہی اب تک بے نتیجہ ہیں لہٰذا جب انہوں نے اپنی آٹو بائیو گرافی کی تقریب کی خبر مجھے ارسال کی تو میں نے جواباً ان سے پوچھا کہ یہ انفارمیشن ہے یا Invitation تو انہوں نے وضاحت کی یہ دعوت نامہ ہے۔ یہ سوال پوچھنا اس لیے بھی ناگزیر ہو گیا تھا کہ تقریب میں دو سابق وزیراعظم جناب یوسف رضا گیلانی اور سردار عتیق خان سابق وزیراعظم آزاد کشمیر مہمان خصوصی تھے۔ اتنی Hight Leveled چکا چوند تقریب سے میرا گزر کم ہی ہوتا ہے میں سیاست کی lime lights سے الگ تھلگ رہنے کو ترجیح دیتا ہوں۔ 

1963ء میں پیدا ہونے والے مسعود للہ نے سوشیالوجی، پولیٹیکل سائنس اور پنجابی تین مضامین میں پنجاب یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا ہوا ہے اور اپنے زمانہ طالب علمی میں طلبا سیاست میں خاصے سرگرم رہے ہیں۔ اپنی مادر علمی  سے ان کی وابستگی کی گہرائی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی زمانہ طالب علمی کی رفاقتیں ابھی تک ترو تازہ ہیں اور اس وقت بھی ان کے اردگرد ان کے جو جتنا زیادہ تقریب ہے وہ اتنا ہی قدیم بھی ہے۔ آواز مسعود للہ ان کی ذاتی زندگی کی Memeir ہے جس میں ہر دور کی یادداشتیں رقم ہیں۔ یہ انسانی رشتوں کہ کہانی ہے اور اپنے جائے پیدائش اور آباء و اجداد کی سرزمین کی مٹی سے محبت کی داستان ہے جس میں ہر اس شخص کا ذکر موجود ہے جو زندگی کے کسی بھی مرحلے پر ان کے ساتھ رہا ہو۔ ان کی پرواز تخیل، طرز اظہار یا طرز بیان بڑا ادبی اور تخلیقی 

ہے وہ واقعات میں شروع کا آزادانہ استعمال کرتے ہیں جس وجہ سے ان کی تصنیف ادبی شناخت کی حامل ہے۔ ان کے پبلشر محترم فرخ سہیل گوئندی نے درست کہا ہے کہ یہ بائیو گرافی ان کے ارد گرد کے کرداروں کی بائیوگرافی بھی ہے۔ یہ سارے کردار اس کتاب کے صفحات میں اپنے چہرے تلاش کر سکتے ہیں۔ کتاب کے جملہ مندرجات پر ایک کالم میں اظہار خیال ممکن نہیں ہے۔ آج کے کالم میں کتاب کی تقریب رونمائی کا احوال واقعی پیش نظر ہے۔ 

عام طور پر مسعود للہ جیسے Dynamic لوگ اپنی عمر کے آخری حصے میں جا کر اپنی یادداشتیں اکٹھی کرتے ہیں لیکن انہوں نے یہ کام اپنے کیریئر کے بھرپور دور میں ہی کر دیا ہے۔ شاید وہ جلدی میں ہیں اور انہوں نے ابھی کئی بڑے بڑے کام اور کرنے ہیں تقریب میں ایک بازگشت یہ بھی سنی گئی کہ وہ پارلیمنٹ کے مستقبل کے ممکنہ رکن ہیں۔ البتہ اس بات کا تعین ہونا باقی ہے کہ وہ پارلیمنٹ پاکستان کی ہے یا کینیڈا کی ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تقریب کے آغاز کے موقع پر پاکستان اور کینیڈا دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے۔ 

کتاب کو مصنف نے اپنے والدین کے نام منسوب کیا ہے اور تقریب میں شیخ کے دونوں جانب انہوں نے اپنی والدہ اور والد مرحوم کی تصاویر آویزاں کر رکھی تھیں۔ مصنف بے نظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کو رول ماڈل سمجھتے ہیں ان کی تقریر کے دوران بھی اس کی جھلک نمایاں تھی۔ انہوں نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کو سیاستدان یا سابق وزیراعظم ہونے کی وجہ سے نہیں مدعو کیا گیا بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے ان سے عشق ہے۔ 

مسعود للہ کی زندگی کی کتاب ایکشن اور ایڈونچر سے بھرپور فلم کی طرح ہے جس میں انہوں نے ہر طرح کے حالات میں جدوجہد اور زندگی سے محبت کا راستہ اپنایا ہے یہ نئی نسل کے لیے ایک motivation ہے کہ کس طرح ایک دیہاتی پس منظر سے نکل کر انہوں نے زندگی میں غیر معمولی کامیابیاں حاصل کیں۔ سرگودھا کے پرائمری سکول سے تعلیم کا سلسلہ شروع کرنے والے مسعود للہ نے اپنے انگریزی کے استاد شاہ محمد کے انگریزی اور اردو زبانوں کے تلفظ اور زبان کو بطور خاص موضوع گفتگو بنایا ہے جو girl کو گرل کہتے ہیں اور اس کا ترجمہ سرگودھا والی پنجابی میں ’’چھوئیر‘‘ پڑھا کر زیور تعلیم سے آراستہ کرتے تھے۔ 

مسعود للہ قومی سیاست کے بہت سے رازوں کے امین ہیں جس کا ذکر ان کی کتاب میں موجود ہے۔ 1974ء میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے واقعہ کی جو فوری وجہ بنی وہ چناب ایکسپریس میں نشتر میڈیکل کالج کے طلبا پر ربوہ ریلوے سٹیشن پر احمدیوں کا حملہ تھا ۔ مصنف کہتے ہیں کہ وہ اس ٹرین کے مسافر تھے جو سرگودھا سے کراچی کے لیے عازم سفر تھے۔ا نہوں نے احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے بھٹو کے فیصلہ کو تاریخی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے ایک سال پہلے آزاد کشمیر اسمبلی مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان کی قیادت میں احمدیوں کو پہلے ہی غیر مسلم قرار دے چکی تھی۔ 

کینیڈا ہجرت سے پہلے انہوں نے محکمہ صحت میں بطور سوشل ویلفیئر آفیسر لاہور کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں خدمات انجام دیں جہاں انہیں معاشرے کے پسے ہوئے انتہائی غربت زدہ بے آواز طبقوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا جو سرکاری ہسپتالوں میں جاتے ہیں کیونکہ ان کے پاس ڈاکٹر کی فیس اور دوائی کے لیے پیسے نہیں ہوتے۔ اس سماجی ناانصافی نے ان کے دل پر بہت گہرا اثر کیا اور انہوں نے اپنے آپ کو اس طبقے کی آواز بننے کے لیے وقف کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ میرا انسانیت کا معیار یہ ہے کہ میں اپنے صفائی کرنے والے اور کوڑا اٹھانے والے کے ساتھ بیٹھ کر ایک ہی برتن میں کھانا کھا چکا ہوں اور یہ میرے لیے فخر کی با ت ہے۔ 

ان کی پوری زندگی کی ہجرتوں کے سفر کی داستان ہے وہ کہتے ہیں کہ تلاش رزق میں پرندے بھی ہجرت کرتے ہیں۔ بعض اوقات ہجرت بندوقوں کے خوف سے بھی ہوتی ہے۔ ہجرت کرنا انبیاء اولیاء کا شیوہ ہے البتہ درخت ہجرت نہیں کر سکتے۔ یہ بہت گہری اور فلسفیانہ بات ہے۔ 

انہوں نے قائداعظم ؒ ، ذوالفقار علی بھٹو، مجاہد اول کشمیر سردار عبدالقیوم خان اور بے نظیر بھٹو جیسی شخصیات کو اپنی کتاب میں بطور لیڈر پیش کیا ہے۔ اس کتاب میں سانحہ کار ساز کا خصوصی ذکر ہے جس میں 168 بے گناہ شہری شہید ہوئے تھے اور بے نظیر بھٹو نے لاوارث میتوں کی خود وارث بننے کا اعلان کیا تھا اور ان کی اپنے آبائی قبرستان میں تدفین کرائی تھی۔ 1977ء کی پی این اے کی تحریک کے دوران ان کا کہنا تھا کہ سردار عبدالقیوم جیل میں تھے بھٹو صاحب نے اپنا طیارہ بھیج کر انہیں بلوایا کہ مولویوں سے میری جان چھڑائیں ان کا کہنا ہے کہ معاملات طے ہو چکے تھے مگر چھوٹے قد کے کچھ کرداروں نے اس بازی کو الٹنا تھا۔ مسعود للہ کا ذاتی خیال ہے کہ سچ کی راہ میں انسان تنہا رہ جاتا ہے۔ 

انہوں نے جوڈیشری کے بارے میں تاریخی واقعہ بیان کیا کہ جسٹس کارنیلس ریٹائرمنٹ کے بعد فلیٹیز ہوٹل کے ایک کمرے میں مقیم تھے اور اسی کمرے میں وفات پائی اور وہیں سے ان کا سفر آخرت ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کی جوڈیشری کو دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے کہ کارنیلس جیسے جج کہاں ہیں وہ پاکستان کے مستقبل پر بڑے دل برداشتہ ہیں۔ 

مسعود للہ نے زندگی کے ہر محاذ پر جنگ لڑی ہے اور زندگی میں ناکام ہونا نہیں سیکھا۔ وہ cancer survivor ہیں کینسر جیسے موذی مرض کو شکست دینا ان کے حوصلے اور عزم کی زندہ مثال ہے۔ یہ جنگ ابھی جاری ہے اور ہم ان کے کامیابی کے لیے دعا گو ہیں۔ اپنی خود نوشت لکھ کر انہوں نے اپنے قلم کا لوہا منوا لیا ہے۔ مستنصر حسین تارڑ اور امجد اسلام امجد جیسے رائج الوقت لکھاریوں نے ان کی اس کاوش کو لائق تحسین قرار دیا ہے۔