عمران خان صاحب۔۔۔منجی تھلے ڈانگ پھیرو

عمران خان صاحب۔۔۔منجی تھلے ڈانگ پھیرو

اس حکومت پہ بھی قربان جانے کو دل چاہتا ہے ایک طرف وزیر اعظم صاحب یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے اس ملک سے کرپشن کو پہلے نوے دن میں ہی ختم کر دیا تھا ناجانے انہیں یہ اعداد وشمار کون دیتا ہے کونسا مشیر ہے جو انہیں بتاتا ہے کہ ملک میںکرپشن ختم ہو چکی ہے ۔اس طرح کے بیانات سے اب عوام کو بیوقوف بنانا مشکل کام ہے۔دوسری طرف وہی بین الاقوامی ادارہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل جس کا نام لے کر وہ بتاتے تھے کہ نواز حکومت کرپٹ ہے نے ایک رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں پاکستان کا نمبر عمران خان حکومت میں کرپشن میں بہت اوپر چلا گیا ہے یعنی کرپشن کے ماضی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں ۔لیکن حکومت بجائے ٹھیک کرنے کے میں نہ مانوں کی رٹ لگائے کھڑی ہے اور وہی پرانا جواز کہ یہ رپورٹ نواز شریف نے کرائی ہے کہہ کر اپنے اوپر سے ملبہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔اگر یہ بات کرنے سے پہلے وہ یہ جائزہ لے لیں کہ کیا واقعی کہیں کرپشن تو نہیں ہو رہی تو بہتر ہو گا زیادہ دور کیا جانا ہے صرف رنگ روڈ راولپنڈی دیکھ لیں اور راوی ریور پراجیکٹ میں کس کس نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کی کوشش کی ہے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ کرپشن کا انڈکس اوپر جانے کی وجہ کیا ہے ۔بدقسمتی سے موجودہ حکومت کے سر سے جب تک نواز شریف کا حوا ختم نہیں ہوتا یہ کچھ نہیں کر سکتی ۔دراصل عمران خان کو بھی اپنی منجی تھلے ڈانگ پھیرنے کی ضرورت ہے جب انھیں اس بات کا احساس ہو جائے گا ملکی مسائل خود بخود ختم ہو جائیں گے ۔وزیر اعظم صاحب کسی بھی بات کے خلاف ایکشن تو لے لیتے ہیں لیکن ان کے رفقاء اس میں ان کا ساتھ نہیں دیتے شاید یہی وجہ ہے کہ اس طرح کی رپورٹ آئی ہے۔اب ذرا رپورٹ کا جائزہ لیں تو علم ہو گا کہ جب سے موجودہ حکومت آئی ہے ہر سال کرپشن میں اضافہ ہوا ہے ۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان کرپشن پر انڈیکس برائے سال 2021میں 180 ممالک میں 140 ویں درجے پر آچکا ہے جبکہ گزشتہ برس پاکستان سی پی آئی رینکنگ میں 124ویں نمبر پر تھا۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے انکشاف کیاہے کہ قانون کی حکمرانی اور ریاستی گرفت کی عدم موجودگی سے پاکستان کے سی پی آئی اسکور میں 16درجے کی نمایاں تنزلی ہوئی۔سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے وزیر اعظم کے دعوؤں کے باوجود ایسا کیوں ہو رہا ہے۔کیا وزیر اعظم کو دھوکے میں رکھا جا رہا ہے بظاہر تو ایسا ہی لگتا ہے کہ ان کے گرد جن افراد کا قبضہ ہے وہ اصل حقیقت ان تک پہنچنے ہی نہیں دیتے بہت سے وفاقی وزراء پر بھی الزامات لگ رہے ہیں پنجاب کے وزیر اعلیٰ کا تو نہیں کہتے لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب کے دفاتر کی درودیوار بھی رشوت مانگنے میں مصروف ہے پیسے خرچو تماشا دیکھو۔اب ذرا ملاحظہ کریں کہ وزیراعظم نے پنڈورا پیپرز میں شامل 700 سے زائد پاکستانیوں کے بارے میں تحقیقات کرنے کا عزم ظاہر کیا ۔ انہوں نے احکامات تو کر دیئے لیکن اس پر آج تک عمل نہیں ہو سکا آخر عوام یہ تو پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ کونسی قوتیں ہیں جو وزیر اعظم کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیتی ہیں ۔چینی سکینڈل ہو ، آٹا سکینڈل ہو ، مالم جبہ ہو ،شریف فیملی کیس ہو، خورشید شاہ کیس سمیت بہت سے کیس میں حکومت کرپشن ثابت کرنے میں ابھی تک ناکام رہی بلکہ بعض کیسوں میں تو لگتا ہے جیسے حکومت انہیں کلین چٹ دینا چاہتی ہے ایسے کیس بنائے گئے کہ سب عدالتوں سے ریلیف لینے میں کامیاب ہوئے ۔عدالتوں پر الزام تو دیا جاتا ہے کہ وہاں کیسز کا فیصلہ نہیں ہوتا لیکن یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کیس کیسا پیش کیا جا رہا ہے اس میں جان ہے کہ نہیں ۔شہزاد اکبر کو تو تبدیل کر دیا گیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ لیگل ٹیم کو بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہو گی جو آج تک کوئی بہتر کیس ہی پیش نہیں کر سکی جس پر عدالت سزا سنا سکے ۔ 

بدعنوانی یقینا پاکستان کی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے یہاں نہایت منظم طریقے سے بدعنوانی کا کھیل کھیلا جا رہا ہے ۔ رشوت ہر جگہ مختلف اشکال میں موجود ہے ۔ عدلیہ کو آزاد نہیں سمجھا جاتا اس پر دبائو ڈالنے کے لئے ہر ہربہ اختیار کیا جاتا ہے اور یہ سب موجودہ حکومت ہو یا ماضی کی حکومتیں سب ایک سے بڑھ ایک ہیں۔ گزشتہ برسوں میں مختلف کوششوں نے ان مسائل کو حل کرنے کے لیے ادارہ جاتی میکانزم تیار کرنے کی کوشش تو کی ہے لیکن اس کا بھی کوئی خاص فائدہ نہ ہو سکا۔ ایک قومی انسداد بدعنوانی حکمت عملی، 02 20میں تیار کی گئی تھی، جس میں بدعنوانی سے نمٹنے کے لیے ایک جامع منصوبہ تھا۔ عمل درآمد کرنے والی ایجنسی، قومی احتساب بیورو (نیب) کو مقدمات کی تحقیقات اور مقدمہ چلانے کے لیے جامع اختیارات دیئے گئے۔ تاہم، سیاسی طورپر آنے والی رکاوٹیں دور نہ ہو سکیںجس کے باعث اس کا بھی فائدہ نہ ہوا۔بد عنوانی کا سارا ملبہ بھی اس حکومت پر نہیں ڈالا جا سکتا یہ کسی نہ کسی شکل میں بہت پہلے سے موجود تو تھی ہی لیکن ضیا ء الحق کے دور میں اس وقت اس میں اضافہ ہو گیا جب 1985 میںغیر جماعتی انتخابات کروائے گئے۔ اس کے بعد سے ہی پاکستان پر سیاسی انتشار بد عنوانی اور عدم تحفظ کا غلبہ ہے۔ 1990 اور 1999 کے درمیان چار مختلف حکومتیں برسر اقتدار آئیںجمہوری طور پر منتخب ہونے والی حکومتیں دو سیاسی رہنماؤں کے ماتحت اقتدار میں رہیں۔ ہر ایک کوبدعنوانی کے الزامات کے نتیجے میں برطرف کیا گیا یا الٹ دیا گیا۔

ان حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو سارا ملبہ موجودہ حکومت پر نہیں ڈالا جا سکتا یہ وہ پودا ہے جو تیزی سے پھیل رہا ہے لیکن موجودہ حکومت جب بر سر اقتدار آئی تو اس کا ایک ہی ایجنڈا تھا کہ وہ اس بدعنوانی کے پودے کو جڑ سے اتار پھینکے گی لیکن بری طرح ناکام ہو چکی ہے اس دور میں بھی یہ پودا تیزی سے پھل پھول رہا ہے ۔عمران خان کے ساتھ اگر کوئی ان کے مخلص ساتھی ہیں تو انہیں اس پر سوچنا ہو گا ۔جو توجیحات وہ پیش کر رہے ہیں وہ ان کی ناکامی کے اعتراف کے سوا کچھ نہیں ابھی بھی وقت ہے کہ اس سلسلے میں دوسروں کو مورود الزام ٹھہرانے کے بجائے اپنی منجی کے نیچے ڈانگ پھیری جائے ورنہ شائدعمران حکومت کا نام بھی ماضی کے حکمرانوں کی طرح چوروں ڈاکوئوں کی فہرست میں آئے گا۔