قاہرہ: مصری عدالت نے حکومت مخالف مظاہرہ کرنے پر 75 افراد کو سزائے موت سنا دی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق مصر کی عدالت کی جانب سے اپنے اہم فیصلہ میں 2013 میں حکومت مخالف مظاہرے میں ملوث ہونے پر 75 افراد کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔تمام افراد پر 2013 میں حکومت کے خلاف احتجاج کا الزام تھا، سزائے موت پانے والے تمام افراد سابق صدر مرسی کے حامی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان 14 اگست تک وزیراعظم کا حلف اٹھالیں گے

سزا پانے والے مظاہرین پر فوجداری عدالت میں مقدمہ چلایا گیا تھا، خیال رہے کہ اخوان المسلون کے کارکنان بھی سزائے موت پانے والوں میں شامل ہیں۔ماضی میں ہونے والے احتجاج میں ملوث ملزمان کی تعداد 739 تھی، ان میں تحلیل شدہ مذہبی و سیاسی تنظیم اخوان المسلمون کے سپریم لیڈر محمد بدیع بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:این اے 131، دوبارہ گنتی میں بھی سعد رفیق ہار گئے

دوسری جانب مصر کے سرکاری اخبار کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں برس آٹھ ستمبر کو چھ سو سے زائد افراد کی سزائے موت پر عمل کیے جانے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سینئر پی ٹی آئی رہنما اعجاز احمد چودھری کو گورنر پنجاب بنائے جانے کا قوی امکان

خیال رہے کہ2013 میں مصر کے اس وقت کے صدر محمد مرسی کو فوج کی جانب سے حکومت سے باہر کرنے اور گرفتار کرنے کے خلاف قاہرہ میں عوامی احتجاج شدت اختیار کرگیا تھا اور طویل دھرنا دیا گیا تھا۔اس سے قبل 14 اگست 2013 کو مصری فوج کی جانب سے اس دھرنے کو بزور طاقت منتشر کردیا تھا جس میں 600 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے جبکہ مصر نے اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم بھی قرار دیا تھا۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں