شہ مات

شہ مات

پنجاب میں پرویز الٰہی کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت ہی نہیں سیاست کے لیے خطرات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ اب وفاقی حکومت صحیح معنوں میں گھیرے میں آچکی ہے۔ سپریم کورٹ کے تین ہم خیال ججوں نے جس طرح فل کورٹ بنانے کی مشترکہ استدعا مسترد کرکے اپنا حکم سنایا اس سے یوں تو حکومتی اتحاد میں شامل تمام جماعتوں کی سیاست ، عوامی حمایت اور ساکھ کو نقصان پہنچا ہے مگر سب سے زیادہ متاثر ن لیگ ہوئی ہے۔ سیاستدانوں کی اپنی بصیرت ہے ، تجزیہ کاروں کی اپنی صلاحیت مگر کسی کا کوئی بھی اندازہ غلط ہوسکتا ہے۔ دانشمندی کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ جب اپنی غلطیوں کا احساس ہو جائے تو ٹھنڈے دل و دماغ سے جائزہ لے کر نئی حکمت عملی تیار کرکے میدان عمل میں اترا جاتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کی کوئی شکست خواہ وہ شہ مات ہی کیوں نہ ہو مستقل نہیں ہوتی۔ یہ جائزہ لینا ہوگا کہ ن لیگ کے ساتھ آخر ہوا کیا ہے ؟ اس حوالے سے ایک تازہ رپورٹ نظروں سے گزری جس میں کہا گیا ہے مسلم لیگ نون کو دال میں کچھ کالا نظر آ رہا ہے اسلئے وہ اپنے سیاسی بیانیے پر نظرثانی کر رہی ہے اور اس میں یہ امکانات بھی شامل ہیں کہ شاید اسے اپنے پرانے ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا بیانیہ اختیار کرنا پڑے۔ متعلقہ حلقوں سے کچھ ’’پریشان کْن‘‘ اشارے ملنے کے بعد نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور کچھ اداروں کے حوالے سے پارٹی کے سخت موقف کی پالیسی اختیار کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ اس بات پر بھی غور کیا جا رہا ہے کہ میاں نواز شریف عوام اور میڈیا کے ساتھ اپنی رابطہ کاری دوبارہ شروع کریں۔ پارٹی کے ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ ہمیں حکومت نہیں لینی چاہئے تھی اور ہم رواں سال مئی میں نئے انتخابات کے خواہشمند تھے لیکن ہمیں کہا گیا کہ آپ ملک کے بھلے کیلئے کام جاری رکھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعد میں نون لیگ کی زیر قیادت اتحاد نے پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کیلئے غیر مقبول اور سخت فیصلے کیے۔ لیکن اب معاملات کو نئے انتخابات کی طرف دھکیلا جا رہا ہے جو حکمران جماعتوں بالخصوص ن لیگ کیلئے فائدہ مند نہیں۔ ن لیگ کے ذرائع سے پتہ چلتا ہے کہ پارٹی قیادت جلد انتخابات کے امکانات کی اطلاعات سے خوش نہیں۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ ہم یہ بات نواز شریف کی واپسی، موزوں حالات کی غیر موجودگی اور تمام سیاسی جماعتوں کیلئے یکساں اصول طے کیے جانے تک قبول نہیں کریں گے۔اصولی طور یہ تمام باتیں درست ہیں مگر دیکھنا ہوگا کہ اس ٹارگٹ کو حاصل کرنے کے لیے اب کونسے آپشن باقی بچے ہیں۔ سانپ گزرنے کے بعد لکیر پیٹنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا مگر یہ سوال تو بنتا ہے کہ عمران خان کو گرانے کے بعد حکومت سنبھالنے کی ذمہ داری کیوں لی گئی۔ مذاکرات کس نے کیے ؟ گارنٹرز کون تھے۔ یہ سطور گواہ ہیں کہ شہباز شریف کے وزیر اعظم بننے کے فوری بعد جب ایف آئی اے کے چند افسروں کے تبادلے پر سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لے کر سرزنش کی تو اسی وقت کہہ دیا تھا کہ اگر آپ کا حکومت کرنے کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ سے کوئی معاہدہ ہوا ہے تو جان لیں آج وہ ٹوٹ چکا۔ حیرت کی بات ہے اس وقت بھی اس حوالے اگر کوئی زور دار لہجے میں بولا وہ صرف مولانا 

فضل الرحمن تھے۔ حالانکہ اگر اسی وقت حکومتی اتحاد میں شامل تمام جماعتیں بشمول پیپلز پارٹی صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے مشترکہ پریس کانفرنس کے ذریعے ٹھوس جواب دے دیتیں اور بتا دیا جاتا کہ عدلیہ کو انتظامیہ کے اختیارات استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں تو شاید آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتے ۔ مقام افسوس کہ حکومت نے اس دوران سوائے عوام پر پٹرول اور بجلی کے بم گرانے اور اپنی بے بسی کا رونا رونے کے کچھ نہیں کیا۔ سادہ سی بات ہے منصوبہ ساز نیوٹرل ہوئے ہی اس وقت تھے جب ایک پیج کی ’’مشترکہ محنت ‘‘کے نتیجے میں پاکستان معاشی طور قلاش اور سفارتی طور پر خلاص ہو چکا تھا۔ لیکن یہ واضح ہے کہ پہلے ہی طے کرلیا گیا تھا کہ نئی حکومت کی حیثیت مہمان اداکار کی سی ہوگی اور وہ پچھلی حکومت کے دوران ہونے والے ہر طرح کے واقعات سے لاتعلق رہے گی۔ اتحادی جماعتوں کی حکومت نے تھوڑی بہت بیان بازی تو کی مگر اپنے اصل سیاسی و غیر سیاسی حریفوں کی جانب آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکے۔ حکومت کی بزدلی ، مہنگائی اور عوام کو زچ کرنے کی پالیسی کا نتیجہ پنجاب کے ضمنی انتخابات میں زبردست شکست کی صورت میں سامنے آگیا۔ اور تو اور اس دوران حکومت میں شامل جماعتیں اپنے مخالفین کے جھوٹے سچے پراپیگنڈے کا معمولی سا بھی توڑ نہ نکال سکیں۔ اس دوران کارکن کیا سوچ رہے تھے اس کی بالکل درست عکاسی سابق وفاقی وزیر عابد شیر علی کے والد چودھری شیر علی کے خیالات سے ہوتی ہے۔ اسی ہفتے فیصل آباد میں لیگی کارکنوں کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا وزیراعظم شہباز شریف سے کہنا چاہتا ہوں میاں صاحب ! رزلٹ نہیں آرہا۔انہوں نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ ایوان میں گالیاں دینے والوں کے استعفے کیوں نہیں منظور کررہے۔ میں اتحادی جماعتوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا مریم نواز کسی کی بیٹی اور ماں نہیں ہے۔ میں اپنے وزیرداخلہ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ پہلے بہت دعوے کرتے تھے اب کیا ہو گیا۔ اب ہمارے وزیرداخلہ کہتے ہیں کہ مجھے اجازت نہیں کسی کو پکڑنے کی ، اگر اجازت نہیں ہے تو چھوڑ دو اقتدار کو اور وزارت کو۔ اگر مریم نواز جیل جا سکتی ہیں تو علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو بھی جیلوں میں جانا چاہیے۔ میاں نوازشریف واپس آئیں کیسز کو ہم دیکھ لیں، گزشتہ چھ ماہ سے ملک میں فلم چل رہی ہے ، سازش ہمارے ساتھ ہوئی ہے جو عمران کا ملبہ ہے وہ ہمارے سر پر لاد دیاگیا۔ مسلم لیگ نواز کا اس حکومت کو قبول کرنا ایک غلط فیصلہ تھا جس کا خمیازہ ہمیں ضمنی انتخابات میں بھگتنا پڑا’’یقینی طور پر تقریباً تمام لیگی کارکنوں بلکہ حامیوں کے یہی خیالات تھے اور ہیں۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ صورتحال پارٹی قیادت کے علم میں نہ ہو۔ اس کے باوجود بھی اس حوالے اگر خود کچھ نہیں کیا گیا یا اتحادی جماعتوں نے روکا یا مقتدر حلقوں کا دبائو تھا تب بھی اسے لیڈر شپ کی کمزوری ہی کہا جائے گا۔ اب ایک بار پھر وہی منظر ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی ، ق لیگ ایک طرف کھڑی نظر آتی ہیں۔ غالب ا مکان ہے کہ حکومت میں اس وقت شامل ٹائوٹ پارٹیاں بھی جلد اسی صف میں جا کھڑی ہوں گی۔ وفاقی حکومت کو کتنی دیر اور چلانا ہے یا پنجاب حکومت کو کتنا وقت دینا ہے اس کا فیصلہ سکرپٹ رائٹر نے کرنا ہے۔ اس دوران کس جماعت کو کس حد تک فکس کرنا ہے وہ ٹارگٹ حاصل کرنے کے بعد اگلا مرحلہ آئے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلم لیگ ن کو شہ مات ہوچکی۔ سیاسی جماعتیں مگر اتنی آسانی سے اپنا وجود نہیں گنواتیں۔ دیکھنا ہوگا کہ اب اس کی جماعتی حکمت عملی کیا ہوگی ؟ پی ڈی ایم کو متحد اور متحرک کرکے سیاست آگے بڑھائی گئی تو پھر اقتدار مکمل طور بھی ہاتھ سے جانے کے بعد بھی ن لیگ کو آسانی سے انتقامی کارروائیوں کا نشانہ نہیں بنایا جاسکے گا۔ مگر معاملہ اتنا سادہ نہیں پی ٹی آئی مخالف سیاسی جماعتوں کو جس ہولناک جوڈیشل ایکٹو ازم اور نایدیدہ حلقوں کی نفرت کا سامنا ہے۔ اس کے اثرات سے صرف اپنا دفاع کرکے بچا نہیں جاسکتا بلکہ آگے بڑھ کر دبائو ڈالنا ہوگا ، عملی مزاحمت کرنا ہوگی۔ ظاہر یہ آسان کام نہیں مگر اتنا مشکل بھی نہیں جتنا لگتا ہے۔بڑی سیاسی پارٹیوں دینی سیاسی جماعتوں اور قوم پرست سیاسی تنظیموں  کے کارکنوں کو ساتھ ملا کر متحرک رکھا جائے تو بڑے سیاسی کھیل میں پھر سے بھرپور انٹری دی جاسکتی ہے۔ دوسری کسی بھی صورت میں کم ازکم ن لیگ کے لیے تو ہرگز کوئی گنجائش نہیں نکلنے والی۔ سیاسی جماعتوں کو حکومت میں لاکر مشکل ترین فیصلے کراکے استعمال کیے جانے کے بعد ادارے ایک بار پھر کھل کر پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہوگئے ہیں ۔ صاف نظر آرہا ہے کہ اگلے عام انتخابات میں پی ٹی آئی مخالف تمام سیاسی پارٹیوں کی پوزیشن  خطرے میں پڑ گئی جبکہ ن لیگ کو صرف الیکشن ہی نہیں بلکہ اپنی بقا کی جنگ بھی لڑنی ہے۔جو لیڈروں کے موجودہ گروہ اور ڈھیلی ڈھالی پالیسیوں کے ساتھ ممکن نہیں۔

مصنف کے بارے میں