ٹریفک اہلکار کو روندنے والا ایم پی اے مجید اچکزئی پرانا اشتہاری ملزم نکلا

کوئٹہ:ایم پی  اے مجید خان اچکزائی کو پولیس اہلکار کو گاڑی سے کچلنے اور 2009 میں اغواء کے مقدمات میں ریمانڈ پر بھیج دیا گیا۔   مجید اچکزئی پر دو ہزار نو میں اغوا کا مقدمہ بھی سامنے آگیا، عدالت نے سات روزہ جسمانی ریمانڈ پر دوبارہ پولیس کے حوالے کردیا ۔

بلوچستان رکن اسمبلی مجید اچکزئی کو پانچ روزہ ریمانڈ ختم ہونے پر  بکتر بند گاڑی میں عدالت لایا گیا ، ایک ہاتھ میں ہتھکڑی کی جگہ  بڑا سا رومال لپیٹا ہوا تھا۔عدالت میں پیشی کے دوران انکشاف ہوا کہ  ایم پی اے مجید اچکزئی کئی سال سے اشتہاری ملزم ہے۔  2009 میں نجی اسپتال کے مالک کے اغوا پر مجید اچکزئی کو گرفتار بھی کیا گیا، ضمانت پر رہائی پانے کے بعد بارہا نوٹس جاری ہونے پر بھی عدالت میں پیش نہ ہوئے  جس پر انہیں اشتہاری قرار دیدیا گیا۔ 

کوئٹہ سیشن کورٹ نے مجید خان اچکزئی کو دو مختلف مقدمات میں 7روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

  مجید خان اچکزائی کو پولیس اہلکار کو گاڑی سے کچلنے اور 2009 میں اغواء کے مقدمات میں ریمانڈ پر بھیجا گیا ہے.سیشن کورٹ نے مجید اچکزئی کو دو مختلف مقدمات میں 7،7 دن کے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

مصنف کے بارے میں