بابر اعوان سینیٹ کی رکنیت سے مستعفی، اپنا استعفی چیئرمین سینیٹ کو بھجوا دیا

اسلام آباد:  پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق رہنماو سینیٹربابر اعوان سینیٹ کی رکنیت سے مستعفی ہوگئے، جمعرات کو انہوں نے اپنا استعفی چیئرمین سینیٹ کو بھجوا دیا, استعفی سپریم کورٹ سے بذریعہ ڈاک بھجوایا  گیا, ان کی طرف سے بھجوائے گئے استعفے میں مستعفی ہونے کی وجوہات تحریر نہیں کی گئیں۔

یاد رہے کہ بابر اعوان چند روز قبل پیپلزپارٹی چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تھے۔ چیئرمین سینیٹ پاکستا ن کے نام ہاتھ سے تحریر کردہ استعفی کے متن میں کہا گیا ہے کہ اپنی آزادانہ مرضی سے آئین پاکستان کے آرٹیکل 64(1) کے تحت مستعفی ہو رہا ہوں، سینیٹ فیڈریشن کا آئینی کسٹوڈین ہے اس کی رکنیت اعلی ترین اعزاز رہا اور سینیٹ کے فاضل ارکان کی پارلیمانی کارکردگی ہمیشہ سراہی گئی ۔

بابر اعوان نے استعفی میں امید ظاہر کی ہے کہ چیئرمین سینیٹ کی رہنمائی میںایوان بالا کمزور طبقات، پسماندہ علاقوں، اقلیت، خواتین اور صنف ثالث کے حقوق کا تحفظ کرے گا۔ بعد ازاںپی ٹی آئی کے رہنما بابر اعوان نے سپریم کورٹ میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی کاکام وقت پر مکمل ہونا قانون کی بالادستی کا ثبوت ہو گا.

پاناما معاملہ میں وفاقی وزیر خزانہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ حدیبیہ پیپر ملز کیس میںاسحاق ڈار بیان حلفی سے فائدہ اٹھا کر بطور ملزم رہا ہوئے اور انہوں نے کسی عدالت میں بیان حلفی کی تردید نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے اسحاق ڈار کے اعترافی بیان کو درست تسلیم کیا ہے اورمشترکہ تحقیقاتی ٹیم اس اعترافی بیان کی بنیاد پر تحقیقات کر رہی ہے.

بابر اعوان کا کہنا تھا کہ شریف خاندان کی جانب سے جے آئی ٹی کو دھمکیاں نواز شریف سے استعفے کا مطالبہ درست ثابت کرتی ہیں لیکن اب وکلاسپریم کورٹ پر دوسرا حملہ نہیں ہونے دینگے.

انہوں نے کہاکہ نواز شریف نے لندن میں ڈنکے کی چوٹ پر کہا کہ جے آئی ٹی سے میں نے سوالات کیے،ایسی بات کرکے نواز شریف نے یہ تاثر دیا جیسے جے آئی ٹی بطور ملزم انکے سامنے پیش تھی. 

مصنف کے بارے میں