مودی کا پہلی بارمسلمانوں کے قتل عام پر اپنی خاموشی توڑتے ہوئے افسوس کا اظہار

احمد آباد: بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے گائے کے نام پر ہونے والے قتل عام پر مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دے دیا۔ بھارت میں بی جے پی کے وزیراعظم نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد سے انتہا پسند ہندوں کے حوصلے بہت بلند ہوگئے ہیں اور انہوں نے گائے کے نام پر مسلمانوں اور نچلی ذات کے ہندوں سمیت درجنوں افراد کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کردیا ہے۔ان واقعات پر مودی نے پہلی بار اپنی خاموشی توڑتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا اور خونریزی کو ناقابل قبول قرار دیا۔

احمد آباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ ملک میں کسی شخص کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی، گائے کی حفاظت ضرور کرنی چاہیے، گاندھی اور اچاریہ سے زیادہ کسی نے گا رکھشا کے حق میں آواز بلند نہیں کی لیکن اس پر لوگوں کو قتل کرنے کی اجازت گاندھی بھی نہ دیتے، تشدد سے مسائل حل نہیں ہوتے، لوگوں کو گا بھگتی کے نام پر مارنا ناقابل قبول ہے۔

نریندر مودی نے بغل میں چھری اور منہ میں رام رام کے مصداق کہا کہ ہم گاندھی اور عدم تشدد کی سرزمین ہیں، بطور معاشرہ ہمارے ہاں تشدد کی کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ تشدد سے نہ پہلے کبھی مسائل حل ہوئے نہ آئندہ ہوسکتے ہیں، آئیں مل جل کر بھارت کو گاندھی کے خوابوں کا ملک بنائیں، ایسا ملک جس پر ہمارے تحریک آزادی کے لوگ فخر کریں۔

واضح رہے کہ نریندر مودی اپنی انتہا پسندی اور اسلام دشمنی کے لیے مشہور ہیں ۔ وہ کئی سال ریاست گجرات کے وزیراعلی رہے جہاں انہی کے دور میں 2002 میں مسلم کش فسادات میں انتہا پسندوں نے ہزاروں مسلمانوں کو شہید کردیا جن میں سے متعدد کو زندہ جلادیا گیا۔

واضح رہے کہ انڈیا کے کئی شہروں میں بدھ کی شام بڑی تعداد میں عام لوگ سڑکوں پر اترے، یہ پیغام دینے کے لیے کہ گائے کے تحفظ کے نام پر مسلمانوں اور دلتوں کو نشانہ بنانے والوں سے ان کا کوئی واسطہ نہیں۔اس تحریک کو ناٹ ان مائی نیم کا نام دیا گیا ہے، یعنی ہمارے نام پر خون نہ بہایا جائے، یہ تشدد ہمیں منظور نہیں۔تحریک فیس بک پر فلم ساز صبا دھون کی ایک پوسٹ سے شروع ہوئی جس میں انھوں نے لکھا تھا کہ اب اس تشدد کے خلاف آواز اٹھانے کا وقت آگیا ہے۔ 

مصنف کے بارے میں