مہاجرین کا بحران, اٹلی کی مہاجرین کو واپس بھیج دینے کی دھمکی

روم:  اطالوی حکومت کا کہنا ہے کہ اگر یورپی یونین کے باقی ممالک مہاجرین کا بوجھ بانٹنے پر رضامند نہ ہوئے تو بحیرہ روم میں سرگرم امدادی بحری جہازوں کو تارکین وطن کو اطالوی ساحلوں پر لانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں نے یہ بات اعلی اطالوی حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتائی ہے کہ اٹلی نے تارکین وطن کو اطالوی ساحلوں پر آنے سے روکنے اور انہیں واپس بھیج دینے کی دھمکی دی ہے۔

جرمن میڈیا کے مطابق اطالوی حکومتی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ بحیرہ روم میں مہاجرین کو ریسکیو کرنے والے امدادی بحری جہازوں میں کئی سماجی تنظیموں کے بحری جہازوں کے علاوہ یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں کے محافظ ادارے فرنٹیکس کے بحری جہاز بھی شامل ہیں۔ماہی گیری کے لیے استعمال ہونے والی اس کشتی میں سوار مہاجرین نے جب ایک امدادی کشتی کو دیکھا تو اس میں سوار افراد ایک طرف کو دوڑے تاکہ وہ امدادی کشتی میں سوار ہو جائیں۔ یوں یہ کشتی توازن برقرار نہ رکھ سکی اور ڈوب گئی۔

روم حکومت نے دھمکی دی ہے کہ اگر دیگر یورپی ممالک نے اٹلی میں موجود تارکین وطن کا بوجھ بانٹنے پر رضامندی کا اظہار نہ کیا تو سمندر سے بچائے جانے والے تارکین وطن کو واپس لوٹا دیا جائے گا اور انہیں بحیرہ روم سے ریسکیو کر کے اطالوی ساحلوں پر لانے والے تمام امدادی بحری جہازوں کو اطالوی بندرگاہوں پر آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یورپی یونین کے امور سے متعلق اطالوی وزیر موریزیو ماساری نے روم حکومت کا یہ پیغام یورپی یونین کے کمشنر برائے مہاجرت دیمیتریس افراموپولوس تک پہنچا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس پیغام میں افراموپولوس کو بتایا گیا کہ اٹلی کو ایک انتہائی سنجیدہ صورت حال کا سامنا ہے اور یورپ اس صورت حال میں اٹلی کو تنہا نہیں چھوڑ سکتا۔

ایک نیوز ایجنسی سے گفتگو  کرتے ہوئے ایک اور اطالوی حکومتی اہلکار نے بھی اس منصوبے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا، غیر ملکی امدادی بحری جہازوں کی اطالوی ساحلوں پر آمد پر پابندی زیر غور ہے۔ اس اہلکار کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کے ذریعے دیگر یورپی ممالک پر دبا ڈالا جا سکتا ہے کیوں کہ بحیرہ روم میں سرگرم زیادہ تر سماجی تنظیموں کا تعلق جرمنی، مالٹا اور اسپین جیسے یورپی ممالک سے ہے۔

یورپی یونین اور ترکی کے مابین طے پانے والے معاہدے کے مطابق یونان پہنچنے والے غیر قانونی تارکین وطن کی ترکی واپسی کا عمل پیر چار اپریل سے شروع ہو جائے گا۔ فی الحال واضح نہیں ہے کہ پیر کے روز کتنے پناہ گزین ملک بدر کیے جائیں گے۔روم حکومت کا یہ اعلان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب ایک طرف اٹلی میں مقامی انتخابات کا انعقاد ہو رہا ہے اور دوسری طرف رواں ہفتے ریکارڈ تعداد میں دس ہزار تارکین وطن کو سمندر سے ریسکیو کر کے اطالوی ساحلوں تک پہنچایا گیا۔

اٹلی کی موجودہ حکومت کو تارکین وطن کے حوالے سے نرم رویہ اختیار کرنے کے باعث شدید عوامی دبا کا سامنا بھی ہے۔اٹلی نے دو لاکھ تارکین وطن کو رہائش مہیا کرنے کا بندوبست کر رکھا تھا تاہم یہ جگہیں تقریبا بھر چکی ہیں۔

گزشتہ برس بحیرہ روم کے سمندری راستوں کے ذریعے ایک لاکھ اسی ہزار سے زائد تارکین وطن اٹلی پہنچے تھے تاہم اس برس اٹلی کا رخ کرنے والے تارکین وطن کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور رواں برس کے پہلے پانچ ماہ میں چھہتر ہزار سے زائد غیر ملکی بحیرہ روم کے ذریعے اٹلی پہنچ چکے ہیں۔

دوسری جانب یورپی ممالک میں مہاجرین کی منصفانہ تقسیم کا منصوبہ بھی عملی طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دو برس قبل یورپی یونین نے اٹلی اور یونان سے ایک لاکھ ساٹھ ہزار تارکین وطن کو دیگر یورپی ممالک میں آباد کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ تاہم زیادہ تر مشرقی یورپی ممالک کی مخالفت کے باعث اس منصوبے پر عمل درآمد نہیں ہو سکا.

مصنف کے بارے میں