پاکستان کا وہ علاقہ جہاں کے لوگ100سال سے بھی زیادہ زندہ رہتے ہیں

اسلام آباد: اکثر آپ نے سنا ہوگا کہ پاکستان میں لوگوں کی صحت کچھ خاص اچھی نہیں ہے لیکن آپ کے لئے یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہوگی کہ ہمارے ملک میں ایک جگہ ایسی بھی ہے جہاں کے لوگوں کی صحت قابل رشک ہے۔
یہ شہر کسی میدانی علاقے میں واقع نہیں ہے بلکہ بلند و بالا پہاڑوں میں گھرا ہوا ہنزہ ہے جہاں کے لوگوں کی صحت اس قدر اچھی ہے کہ ان کی عمریں 100سال سے بھی زیادہ ہوتی ہیں جس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ یہ لوگ فطرت کے قریب ترین رہتے ہیں اور ان کی خوارک بھی خالص ہے۔ایک مغربی لکھاری رینی ٹیلر نے اپنی کتاب Hunza Health Secrets for Long Life and Happinessمیں لکھا ہے کہ ہنزہ میں لوگ بآسانی 100سال سے بھی زائد عمر تک جی لیتے ہیں اور ان کی دماغی اور جسمانی صحت بھی ٹھیک رہتی ہے،مرد تو90سال کی عمر میں بچے کے باپ بھی بن جاتے ہیں۔


ان کی طویل عمروں کے بارے میں کئی کہانیاں بتائی جاتی ہیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس علاقے کے لوگ تمام دنیا سے الگ تھلگ رہا کرتے تھے اور پھر جب چین اور مشرق وسطیٰ کے درمیان تجارتی شاہراہیں وجود میں آئیں تو ان لوگوں کا تعلق باہر کی دنیا سے بنا۔ایک مغربی ماہر ڈاکٹر میک کارسن کی تحقیق کے مطابق ان لوگوں کی خوارک ایسی ہے جس کی وجہ سے یہ بہت زیادہ توانا،صحت مند اور طویل عمر ہیں۔کچھ لوگوں کے نزدیک ان لوگوں کی صحت کا راز بہت زیادہ خوبانی کا استعمال ہے جس کی وجہ سے یہ کینسر جیسی موذی بیماریوں سے محفوظ ہیں۔

اس خطے میں50سے زائد خوبانی کی قسمیں موجود ہیں جبکہ دیگر پھلوں میں سیب، ناشپاتی،چیریز اور آڑو بہت شوق سے کھایا جاتا ہے۔سال میں دو سے چار ماہ تک یہ لوگ صرف خشک خوبانی کا جوس پیتے ہیں،ماہرین صحت کا ماننا ہے کہ اس طریقے سے خوبانی کے استعمال کی وجہ سے صحت اچھی رہتی ہے اور یہی راز ہنزہ کے لوگوں کی صحت کا بھی ہے۔یہ لوگ چکن کھانے سے پرہیز کرتے ہیں اور زیادہ تر پھل،سبزیاں،بھیڑ کا دودھ اوردالیں پسند کرتے ہیں،گوشت اہم تہوار پر کھایا جاتا ہے۔

یہ لوگ گھی اور چکنائی سے بھی دور بھاگتے ہیں اور اس بات پر قوی یقین رکھتے ہیں کہ انسان کو قدرت کے قریب ترین رہنا چاہیے۔یہ لوگ صبح سے شام تک محنت کرتے ہیں اور انجوائے کرنے کے لئے کوئی فلم دیکھنے کی بجائے کھیلوں میں حصہ لینا پسند کرتے ہیں۔ہنزہ کے لوگ ذہنی مسائل سے بھی دورہیں اور کبھی بھی اس طرح کے مسائل سے دوچار نہیں ہوتے۔یہاں جرائم کی شرح بھی بہت کم ہے جس کی وجہ سے جیل اور عدالت کی ضرورت پیش نہیں آتی۔

گذشتہ سوسال میں کسی بھی طرح کا بڑا جرم نہیں ہواجس کی وجہ سے یہ لوگ دنیاکے خوش رہنے والے افراد میں سرفہرست ہیں۔یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگاکہ یہ لوگ بچوں کی طرح زندگی گزارتے ہیں اور اپنے آپ میںمگن رہتے ہوئے خوشحال ہیں۔

مصنف کے بارے میں