شام میں جنگی طیاروں کی بمباری، 30 شہری ہلاک، درجنوں زخمی

دمشق: شام کے مشرقی حصے میں داعش کے زیر انتظام علاقے میں بمباری کے نتیجے میں کم سے کم 30 شہری ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق شام میں انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے والے مانیٹرنگ گروپ نے ایک بیان میں بتایا کہ نامعلوم جنگی طیاروں نے شام کے مشرقی حصے میں داعش کے زیر انتظام علاقے میں بمباری کی، جس کے نتیجے میں کم سے کم 30 عام شہری ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہو گئے۔

مانیٹرنگ گروپ کا کہنا تھا کہ مشرقی شام میں عام شہریوں کے قتل عام کا سبب بننے والے جنگی طیاروں کی شناخت نہیں کی جاسکی۔یاد رہے کہ شام کے مشرقی علاقے وادی فرات اور اس کے اطراف میں داعش کے خلاف کارروائی میں امریکا کی قیادت میں سرگرم عالمی اتحاد اور روس جبکہ شامی فوج بھی سرگرم ہے۔

قبل ازیں انسانی حقوق گروپ نے بتایا تھا کہ المیادین کے مقام پر داعش کی قائم کردہ جیل پر بمباری میں کم سے کم 57 قیدی ہلاک ہوگئے تھے۔امریکا کی قیادت میں قائم اتحادی فوج کا کہنا ہے کہ المیادین میں وہ مخصوص اہداف پر نہایت احتیاط کے ساتھ حملے کررہے ہیں تاہم المیادین میں دبلان کے مقام پر گذشتہ روز ہونے والے حملے کے بارے میں اتحادی فوج کی طرف سے کوئی ردعمل ظاہرنہیں کیا گیا۔

'

اتحادی فوج کی حمایت یافتہ کرد اور عرب جنگجوں پر مشتمل فورسز نے دبلان سے 200 کلو میٹر شمال مغرب میں واقع الرقہ شہر کا محاصرہ کررکھا ہے۔دوسری جانب شام کے شمال مشرقی علاقے دبلان سے 65 کلو میٹر دور شامی فوج اور اس کے اتحادی صحرا کی طرف پیش قدمی کررہے ہیں جس کا مقصد دیر الزور شہر کا محاصرہ ختم کرانا ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکا کے ایک انٹیلی جنس عہدیدار نے بتایا کہ داعش نےاپنی لیڈر شپ المیادین منتقل کردی ہے

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں