وزیراعظم نے ملک کا بیڑا غرق کردیا،معیشت تباہ کرنے کا اعتراف کریں اورمعافی مانگیں، بلاول بھٹو

وزیراعظم نے ملک کا بیڑا غرق کردیا،معیشت تباہ کرنے کا اعتراف کریں اورمعافی مانگیں، بلاول بھٹو

اسلام آباد:چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ملک کا بیڑا غرق کردیا،معیشت تباہ کرنے کا اعتراف کریں اورمعافی مانگیں۔


وزیراعظم نوٹس لینا چھوڑدیں، آٹا، ادویات، پٹرول، چینی کا نوٹس لیا کیا نتیجہ نکلا، بہترہوگا وزیراعظم خود کو قرنطینہ کرلیں اور کوئی کام نہ کریں  ،لوگوں کو بے روزگار کرنا کس قسم کا ریلیف ہے، تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہ کرنا ظلم ہی ہوتا ہے، یہ نالائق اورنااہل ہیں کام نہیں کر سکتے، پیپلز پارٹی میں جس پر بدعنوانی کا الزام لگا وہ باعزت بری ہوا، جب ہم باعزت بری ہوں گے تو ان کے لوگ جیل میں نیب کے کیسز بھگت رہے ہوں گے۔

بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ سارے پاکستان کو نظرآرہا ہے کہ وزیراعظم کے لیے دوآپشنزہیں، وزیراعظم معافی مانگیں کہ انہوں نے ملک کا بیڑا غرق کردیا، وزیراعظم معیشت تباہ کرنے کا اعتراف کریں، یا تووزیراعظم سب کوساتھ لے کراورملک کی بہتری کے لیے کام کریں اوردوسرا آپشن یہ ہے کہ استعفیٰ دیں اورگھرجائیں کسی قابل بندے کو آنے دیں۔

بلاول بھٹو نے تحریک انصاف کی حکومت کو منافق حکومت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ تقریر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا لکھا ہوا ہے لیکن ابھی بجٹ منظور ہی نہیں ہوا اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا دی گئیں ،  بجٹ پاس ہونے سے قبل ہی عوام پر پیڑول بم گرایا گیا،یہ واپس اپنے حلقوں میں کیسے جائیں گے اورعوام کو کیا منہ دکھائیں گے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کے عوام کورونا اور معاشی بحران کا مقابلہ کر رہے ہیں کہ ایسے میں پٹرولیم لیوی کا بم گرا دیا گیا۔ یہ اقدام ناانصافی کے ساتھ غیر قانونی بھی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات میں اضافے کا فائدہ صرف کمپنیوں کو پہنچا۔انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات میں اضافے سے مہنگائی بڑھ جائے گی، ہم ہر فورم پر اس فیصلے کو چیلنج کریں گے کیونکہ حکومت عوام کی جیب سے پیسہ نکال کر پٹرولیم کمپنیوں کو دے رہی ہے۔

طیارے حادثے سے متعلق بلاول بھٹو نے کہا کہ پائلٹ اورسول ایوی ایشن کی عالمی سطح پر کردارکشی کی گئی، پی آئی اے طیارے حادثہ پرحکومتی ردعمل شرمناک ہے، اپنی غلطیوں کو چھپانے کیلئے شہید پائلٹ پرذمہ داری ڈال دی، پائلٹ کوکورونا کے دوران زبردستی جہاز پرچڑھایا گیا، طیارہ حادثے کی آڑ میں سول ایوی ایشن اور پی آئی اے کی نجکاری کی کوشش کی جارہی ہے، جس وزیر کی اپنی ڈگری جعلی ہونے کا الزام ہے وہ پائیلٹس کی ڈگریاں جعلی کیسے قرار دے سکتا ہے۔بلاول نے کہا کہ  لوگوں کو بے روزگار کرنا کس قسم کا ریلیف ہے، تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہ کرنا ظلم ہی ہوتا ہے، یہ نالائق اورنااہل ہیں کام نہیں کر سکتے.

وزیراعظم سے درخواست ہے نوٹس لینا چھوڑدیں، آٹا، ادویات، پٹرول، چینی کا نوٹس لیا کیا نتیجہ نکلا، بہترہوگا وزیراعظم خود کو قرنطینہ کرلیں اور کوئی کام نہ کریں۔بجٹ سے متعلق بلاول نے کہا کہ یہ بجٹ نہ کرونا کے خلاف موثر ہے نہ زراعت کی حفاظت کرتا ہے.

  انہوں نے ٹیکس بڑھا کر عوام کی جیب پر ڈاکہ ڈالا ہے، جب ہم بری ہوں گے تو یہ جیل میں ہوں گے، مسلم لیگ(ن)اورموجودہ حکومت ہم سے معافی مانگے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیر اعظم نے اسامہ بن لادن کو شہید قراردے دیا، یہ وزیر اعظم بے نظیر کو شہید نہیں کہتا اسامہ بن لادن کو شہید کہتا ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے اسٹاک ایکسچینج حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے عوام کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے اور اب کے الیکٹرک کی وجہ سے کراچی کے عوام عذاب میں مبتلا ہیں۔ بلوں میں اضافے کے ساتھ لوڈشیڈنگ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام پر پیٹرولیم لیویز کا بوجھ ڈالا گیا ہے اور یہ عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے کو بھی تیار نہیں ہیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی میں جس پر بدعنوانی کا الزام لگا وہ باعزت بری ہوا۔ جب ہم باعزت بری ہوں گے تو ان کے لوگ جیل میں نیب کے کیسز بھگت رہے ہوں گے۔ سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف رینٹل پاور کیس سے باعزت بری ہو گئے۔ایوان بلاول بھٹو کے اظہارخیال کے بعد بد نظمی کا شکارہوگیا جس کے بعد اپوزیشن بھی ایوان سے واک آئوٹ کر گئی۔