جناب زرداری پنجاب میں

Asif Anayat, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan

زرداری صدر تھے اور منظور وٹو وزیر، میں کسی کے کام کے سلسلے میں میاں منظور وٹو کی کوٹھی ماڈل ٹاؤن گیا۔ وہاں پر اوکاڑہ کے لوگوں کے علاوہ لاہور کے جیالے اور دیگر علاقوں سے پیپلزپارٹی کے لوگ موجود تھے۔ جیالے جئے بھٹو کے نعرے لگا رہے تھے۔ مجھے منو بھائی کا لکھا ہوا ایک فقرہ یاد آ گیا کہ ”ضیاء نے جناب بھٹوکو قتل کیا، سولی چڑھایا مگر دفنانہ پایا۔ اب یہ کام زرداری صاحب کر رہے ہیں“۔ مجھے بہت دکھ ہوا کہ زرداری صاحب کی سیاست نے جناب بھٹو کے جیالوں کو وٹو کے گھر کی راہ دکھا دی۔ بابر اعوان اور نہ جانے کس کس کی راہ دکھائی۔ جب ایم آرڈی کی تحریک تھی بابر اعوان، رحمن ملک، وٹو، مظفر ٹپی، فریال تالپور وغیرہ کے ناموں سے بھی کوئی واقف نہ تھا مگر زرداری صاحب کی کوئی مجبوری ہو گی کہ جناب بھٹو صاحب کی پھانسی پر مٹھائیاں بانٹنے والوں کو وزارتیں بانٹی گئیں مگر تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں تو زرداری صاحب نے جئے بھٹو کا نعرہ ان گھروں میں سنا دیا جو گریٹ بھٹو کی شہادت پر محو دھمال تھے لیکن اس قیمت پر پہنچایا کہ پیپلزپارٹی کی اساس اس کا ورکر نظر انداز ہی نہیں ذلیل کیا گیا۔ زرداری صاحب پنجاب کے دور ے پر ہیں ملاقاتیں جاری ہیں۔ چار دیواری میں ملاقات کی عادت شاید لمبی جیل سے پڑی ہے جو کھلے عام ورکرز میں نہیں آتے۔ بہرحال ملاقاتیوں کی تصویروں اور خبروں سے لگتا ہے کہ زرداری صاحب ملاقاتیں کرنے نہیں بلکہ نشاندہی کرنے آئے ہیں کہ ان لوگوں نے پیپلزپارٹی کا بیڑا غرق کیا۔ خصوصاً پنجاب میں جی بھر کر لوٹا بھی اور پیپلزپارٹی کو نیست و نابود کرنے کی کوشش بھی کی۔ 

زرداری صاحب کو سیاست کی بہت سمجھ ہے مگر رہنمائی مقبولیت مانگتی ہے جو پیپلزپارٹی میں بلاول بھٹو کے پاس ہے۔ گریٹ بھٹو سیاست کو ڈرائنگ روموں، اقتدار کی راہداریوں اور مقتدرہ کے نہاں خانوں سے کھیت کھلیانوں، سڑکوں بازاروں، تھڑوں اور عام آدمی کے در پر لے آئے تھے۔ جاگیردار اور سرمایہ دار کے سگار سے غریب کے حقے کے کش میں لے آئے تھے۔ یہ کیا ماجرا ہوا کہ بی بی شہید کے بعد بلاول بھٹو اگر ورکرز میں آتے ہیں تو کون روک دیتا ہے۔ زرداری صاحب واپس ڈرائنگ روموں اور مقتدرہ کے نہاں خانوں میں گھسے بیٹھے ہیں۔ مجھے یاد ہے 18 اکتوبر 2007ء کو بی بی شہید ابھی ٹرک پر تھیں تو ایک صحافی ان سے انٹرویو کر رہا تھا۔ بی بی شہیدنے اس کی بات کاٹ دی انٹرویو ختم کر دیا۔ یہ کہتے ہوئے کہ اگر میں آپ سے بات کرتی رہی تو وہ روٹھ جائیں 

گے، ناراض ہو جائیں گے۔ وہ کون تھے؟وہ مقتدرہ والے یا الیکٹیبلزنہیں تھے وہ بی بی شہید کے استقبال کے لیے آئے ہوئے ننگے پاؤں مختصر لباس (عمران خان والا نہیں) میں پیپلزپارٹی کے ورکرز تھے جو استقبال میں جئے بھٹو کی دھن پر دھمال ڈال رہے تھے۔ بی بی شہید کی شہادت کے بعد ورکرز اور ووٹر نے وفا کی ان کے پاکیزہ کفن کو ووٹ دیئے اور صدر زرداری و گیلانی کی حکومت بن گئی جس میں ورکرز محکوم ہو گئے۔ محروم رہ گئے، عزت نفس بھی گئی اور ان کی بی بی بھی شہید ہو گئیں۔ 

ان ورکرز نے ان کے بیٹے کے جوان اور رہنمائی سنبھالنے کا انتظار کیا۔ بلاول بھٹو نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے نانا اور والدہ کی سیاست کریں گے یعنی ورکرز اورعوامی سیاست مگر کیا ستم ہے کہ پیپلز پارٹی دولتانہ کی پارٹی بن گئی۔ پیپلزپارٹی کے ورکرز کا مطالبہ ہے زرداری صاحب آرام فرمائیں اور ان کے گریٹ بھٹو کا نواسہ اور بی بی شہید کابیٹا ان کی قیادت کے لیے سامنے آنے دیں۔ بھٹو صاحب کے قاتلوں میں شامل لوگوں کو پارٹی میں شامل کرنا اس سے بڑھ کر پیپلزپارٹی سے اور کیا انتقام ہو سکتا ہے۔ پچھلے دنوں میں نے گریٹ بھٹو کا عوامی رابطہ میں اچانک رک کر کبھی غریبوں کی جھونپڑی، کبھی تندور پہ بیٹھی عورتوں،کبھی ہاریوں کی گداگاڑی، کبھی غریب بستیوں، کبھی گوجرانوالہ کے امین عرف میناں چائے والا کے کھوکھے، کبھی سیالکوٹی دروازہ گوجرانوالہ، کبھی کسی شہر کبھی کسی نگر اچانک رک جانا اور عوام سے مخاطب ہونے کا ذکر کیا پولیس انسپکٹر شاہد فاروق کا بیان بھی دہرایا جو ان کی سکیورٹی پر مامور تھے کہتے تھے کہ ہمیں بہت مشکل پیش آتی تھی۔ گریٹ بھٹو جہاں چاہتے ہیں رک جاتے تھے“۔ ان سے زیادہ کس کی جان کو خطرہ تھا جو بالآخر لے لی گئی۔ ان کی بیٹی بیٹوں اور اولادوں کو مار ڈالا مگر عوام سے رابطہ نہیں چھوڑا۔ سیاست میں وہ طاقت کا سر چشمہ عوام جبکہ زرداری صاحب مقتدرہ کو سمجھتے ہیں۔ مقتدرہ اقتدار کا سرچشمہ تویقینا ہے مگر مقبولیت کا ہرگز نہیں اور اس گھوڑے پر مقتدرہ بھی ریس میں رسک نہیں لیتی جو مقبول نہ ہو۔ لہٰذا مقبولیت ہر حالت میں شرط ہے جو پیپلزپارٹی کے ہاتھوں سے پانی کی طرح سرکتی گئی محض زرداری صاحب کی مصالحت پسندی کی بدولت، ورکرز کو چھوڑ کر قاتلان جمہوریت اور قاتلان گریٹ بھٹوز سے ہاتھ ملانا ہے تو پھر مقبولیت نہیں رہے گی۔ پنجاب سے تو اب واقفیت نہیں رہی۔ سندھ میں اللہ کرے اقتدار بنا رہے اور میلے لگے رہیں۔ زرداری صاحب! 2008ء سے اب تک وفاق اور 1977ء سے اب تک پنجاب میں ویسے بھی تو اقتدار سے محروم ہیں مگر بی بی شہید کے وقت دھاندلی کے ذریعے پنجاب سے محروم رکھا جاتا تھا۔ اب مصالحت پسندی خود کشی ثابت ہو گی۔ جس کے بدن پر چٹکی کاٹیں درد اسی کو ہوتا ہے۔ گریٹ بھٹو تو عوام کے تھے محترمہ بینظیر شہید کے تھے۔ زرداری صاحب رحم کریں اور ورکرز کو گریٹ بھٹو سے عشق  اور بی بی شہید کی تقلید کی اس قدر سزا نہ دیں کہ ان کا نواسہ اور بیٹا اعلان کرنے کے باوجود عوامی سیاست سے محروم رکھا جائے۔ 

زرداری صاحب! گریٹ بھٹونے جماعت بنائی شاذ ہی کوئی پرانا چہرہ رکھا ہو۔ محترمہ مادر ملت نے خواہش کی پیغام دیا کہ میری جماعت میں آجائیں گریٹ بھٹو نے معذرت کی یہ جانتے ہوئے کہ اسٹیبلشمنٹ سے ان کی جماعت اٹی پڑی تھی۔ نئے لوگ، نئے ولولے، وقت سے ہم آہنگ نئے پروگرام کے ساتھ میدان میں اترے اور آج تک میدان میں ہیں۔ اشتراکیت کے حوالے سے عرض کروں کہ جب ان کو اقتدار ملا تو ملک آکسیجن پر تھا قوم پستیوں میں اتر چکی تھی۔ بہترین ڈرائیور اور رہنما کے طور پر انہوں نے قوم کی گاڑی کھائی میں گرنے کے بجائے اسلامی دنیا کی طرف اور مغرب و امریکہ مخالف روڈ پر ڈال دی اپنی جان دے دی۔ ملک و قوم بچا لی۔ یہ سب اس وقت ممکن تھاکہ قوم کا اعتماد حاصل تھا قوم ڈرائنگ روموں، مقتدرہ کی راہداریوں میں نہیں گلیوں بازاروں، کھیتوں کھلیانوں، جھونپڑیوں، فٹ پاتھوں پر ہے۔ 

حاجی زرداری صاحب! ورکرز سے رابطہ کریں۔ ورکرز کی عظمت کی نشاندہی کریں۔ گریٹ بھٹوز کے قاتلان اور پیپلزپارٹی کی بربادی کے ذمہ داران کی نشاندہی نہ کریں۔ عوام اسٹیبلشمنٹ مخالف جماعتوں کے ساتھ ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ حامی تو حکومت میں ہیں۔ آپ حکومت کی حمایت کرکے آئندہ مقبولیت اور حکومت نہیں بنا سکتے! نوکری کرسکتے ہیں۔ نوکری میں پیپلزپارٹی کا ورکر شامل نہیں ہو گا اگر وہ شامل نہیں تو آپ مقبول نہیں ہوں گے اورپھر کوئی غیر مقبول گھوڑے پر شرط لگا کر ریس میں شکست نہیں کھا سکتا۔ 

میری پچھلے سال راجہ پرویز اشرف کے ساتھ آواری لاہور میں افتخار شاہد کے ذریعے ملاقات ہوئی تھی۔ میں نے کہا تھا راجہ صاحب جو آدمی روزانہ شیشہ دیکھتا ہے اس کو اپنے چہرے کی تبدیلی کا احساس نہیں ہوا۔ 10/15 سال بعد دیکھنے والا بتاتا ہے کہ حالات نے تیری کیا صورت کر دی۔ آپ پیپلزپارٹی کو اپنے آئینے نہیں لوگوں کی آنکھ سے دیکھیں۔ بلاول بھٹو مقبول رہنما ہیں، اہلیت رکھتے ہیں۔ ان کو ورکرز اور عوامی رابطہ کے لیے پنجاب میں اتاریں اگر نہیں تو پھر آرام فرمائیں۔