مہنگائی کا طوفان

مہنگائی کا طوفان

مہنگائی کا طوفان ہے کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا ۔ تیس روپے لیٹر پیٹرول بڑھانے ایسا سنگین مذاق چلیں ایک مرتبہ تو ہو گیا کہ جو آپ کے حمایتی ہیں انھوں نے اس پر کبھی کھسیانی ہنسی کے ساتھ اور کبھی منہ چھپا کر اور کبھی بات کا رخ موڑ کر محفل میں جان چھڑائی لیکن اب روز روز اگر ایسے سنگین مذاق قوم سے ہونے لگیں تو خودسوچیں کہ ہم ایسے لوگ کہ جنھوں نے تحریک انصاف سے شدید نظریاتی اختلاف کے سبب ان کے دور میں ہمیشہ مہنگائی ایسے عوام دشمن اقدام کی سخت مخالفت کی تھی ان کا ٹھکانہ کیا ہو گا ۔ حکومت کے شروع کے دنوں میں پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں پر بھی بریک لگے رہے لیکن بریک صرف ان دونوں کی قیمتوں پر ہی لگے ہوئے تھے ۔ ڈالر کی اڑان اس دوران دو سو کا نفسیاتی ہدف پار کر کے 212 تک پہنچ گئی اور آٹا ،چینی اور دیگر ضروریات زندگی کے نرخ آسمانوں سے باتیں کرنے لگ گئے ۔حکومت میں رہ کر کچھ باتیں یقینا ایسی ہوتی ہیں کہ جو مجبوری کے تحت حکومتوں کو کرنی پڑتی ہیں کہ جس میں خاص طور پر پیٹرول کی قیمتیں ہیں کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اگر ان کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو حکومت کو بھی بڑھانی پڑتی ہیں اسی طرح سونے اور ایسی تمام اشیاء کہ جن کا تعلق بین الاقوامی مارکیٹ سے ہوتا ہے ان کے نرخ مقامی نہیں بلکہ بین الاقوامی منڈی کے مطابق اوپر نیچے ہوتے ہیں ۔ اس میں ہم سیاسی مخالفت میں پوائنٹ اسکورنگ کر لیں وہ ایک الگ بات ہے لیکن زمینی حقائق کو جھٹلایا نہیں جا سکتا ۔ موجودہ حکومت کے آنے ے بعد اصل مسئلہ یہ ہوا کہ پیٹرول کی قیمتیں بھی نہیں بڑھیں لیکن وہ روز مرہ کی اشیاء کہ جن کا بین الاقوامی مارکیٹ سے کوئی لینادینا نہیں بلکہ وہ خالص مقامی تصور کی جاتی ہیں اوراس پر مزید ستم بلائے ستم یہ کہ مرغی ، چینی اور آٹا ان کی قیمتیں کنٹرول کرنے کا اختیار کسی اور کے پاس نہیں بلکہ اعلیٰ ترین منصب پر فائز حکومتی شخصیات کے پاس ہے کہ چینی یا آٹے کی ملیں ہوں یا پولٹری فارم ان کے جو مالک ہیں ان کی اکثریت اب حکومت میں ہے بلکہ کہا تو یہ جاتا ہے کہ چینی ہو یا مرغی کے نرخ روزانہ کی بنیاد پر اسے طے بھی حکومت کی اعلیٰ شخصیات کرتی ہیں تو سوال یہ ہے کہ پیٹرول کی قیمت تو کسی اور وجہ سے بڑھتی ہے لیکن ان کی قیمتیںدوگنی سطح پر کیسے پہنچ گئیں۔ 

تھوڑی دیر کے لئے تصور تو کریں کہ پیٹرول کی قیمتیں ایک نہیں بلکہ دو بار اور وہ بھی تیس تیس روپے فی لیٹر کے حساب سے بڑھا دیں اس کے بعد بجلی کے نرخ فی یونٹ سات روپے سے زیادہ بڑھا دیئے ۔ اب ایک بندہ اس شدید گرمی کے موسم میں پہلے سے دوگنی قیمت پر بازار سے مرغی کا گوشت خرید کر لاتا ہے لیکن پسینے سے شرابور وہ شخص جب گھر میں داخل ہوتا ہے تو پتا چلتا ہے کہ بجلی تو غائب ہے ۔اب بجلی کے الگ مسائل ہیں اور اس کے جانے کی بھی کئی وجوہات ہیں ۔ایک وجہ تو لوڈ شیڈنگ ہیں ۔دوسر وجہ لوڈ مینجمنٹ ہے تیسری وجہ غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ ہے چوتھی وجہ ٹرپنگ ہے پانچویں ٹرانسفارمر کا خراب ہو جانا ہے چھٹی وجہ بارش کے پہلے نہیں تو زیادہ سے زیادہ دسویں یا حد پندرویں قطرے پر فیڈر ٹرپ کر جانا ہے اس کے علاوہ ایک ساتویں قسم بھی ہے کہ چھوٹے سے لے کر بڑا بریک ڈاؤن ہو جانا ۔8ویں قسم تیز یا ہلکی آندھی میں خود بجلی کی سپلائی کو منقطع کر دینا اور 9ویں وجہ کسی اور لوڈڈ ٹرک کا بجلی کی تاروں یا کھمبے کو ٹکر مار کر طویل دورانیہ کے لئے بجلی کو غائب کر دینا ۔بات اگر مہنگائی سے ہوتی ہوئی بجلی پر آ ہی گئی ہے تو لگے ہاتھوں ارباب اختیار سے عرض کرتے چلیں کہ مندرجہ بالا وجوہات میں سے بجلی کے جانے کی کوئی بھی وجہ بنے یہ صرف الفاظ کا ہیر پھیر ہے بجلی کے جانے سے جو تکلیف ہوتی ہے وہ تو ہونی ہی ہے لیکن خدا کے واسطے ایک تو ہر روز اس کے اوقات میں تبدیلی نہ کریں تاکہ لوگ اپنے کاموں کو ترتیب دے سکیں اور دوسرا صبح شام ان اوقات میں کہ جب لوگ عموماََ گھروں میں موٹر کے ذریعے پانی بھرتے ہیں ان اوقات میں کوشش کریں کہ بجلی نہ جائے اس لئے کہ ایک تو جہاں سے پانی آنا ہے وہاں بھی بجلی ضروری ہے اور دوسرا جن علاوقوں میں پانی جاتا ہے وہاں بھی موٹر کے بغیر چھت پر پانی نہیں چڑھتا ۔ ایک اور گذارش یہ تھی کہ رات کے اوقات میں بجلی کی آنیاں جانیاں اگر کچھ کم ہو سکیں تو یہ عوام الناس پر ایک بڑا احسان ہو گا۔

بات مہنگائی کی ہو رہی تھی ۔ ایک ہفتہ میں ساٹھ روپے پیٹرول کا بڑھنا کوئی مذاق نہیں ہے ۔جب تیس روپے بڑھے تھے تو مہنگائی کے طوفان کے لئے تو ہی یہی کافی تھے لیکن اب جس بے دردی کے ساتھ مزید تیس روپے فی لیٹر بڑھا دیئے گئے ہیں اس کے بعد تو یقین کریں کہ کہنے کے لئے بھی کچھ نہیں رہ گیا اور محترم وزیر خزانہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ڈیڑھ دو ماہ مشکل صورت حال ہے اس کے بعد حالات بہتر ہو جائیں گے حالانکہ انھیں غالب کے اس شعر سے مدد لینی چاہئے تھی کہ

رنج سے خوگر ہو انساں تو مٹ جاتا ہے رنج

مشکلیں مجھ پر پڑیں   اتنی کہ آساں ہو گئیں

لیکن عرض ہے کہ وہ اور مشکلیں ہوں گی کہ جن کا ذکر غالب کے شعر میں ہے مہنگائی تو ایک جہد مسلسل کی مانند ہے کہ اس نے زندگی کے ساتھ ساتھ چلنا ہے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اسی طرح اس کے حجم میں اضافہ ہوتے رہنا ہے تو غریب آدمی کے لئے آسانی کہاں سے آئے گی ۔بات یہ ہے کہ ایک بھوکا شخص کہ جس نے چار دن سے کھانا نہ کھایا ہو اسے آپ لاکھ دلائل سے سمجھائیں منطق فلسفہ اور دنیا بھر کے علوم و فنون سے بھی مدد لے لیں لیکن جب تک اس کے پیٹ میں روٹی نہیں جائے گی اس وقت تک آپ کی کسی دلیل سے اس کا پیٹ نہیں بھرے گا اور وہ بھوکا ہی رہے گا ۔پاکستان میں 95%سے زیادہ لوگوں کی جو آمدن ہے اس میں پہلے ہی ان کی گذربسر بڑی مشکل سے ہو رہی ہے اور اب جو حال ہو گا اسے سوچ کر ہی خوف آتا ہے ۔ میں ذاتی طور پر کئی لوگوں کو جانتا ہوں کہ جن کے پاس ائر کنڈیشنر ہے لیکن اس کے بل دینے کے پیسے نہیں ہیں ۔ عوام عمران خان کی نا اہلی سے تنگ تھے کہ جس نے معیشت کو تباہ کر دیا اس کے بعد لوگوں نے آپ سے امیدیں لگائیں لیکن اب یقین کریں کہ جو حالت ہے اسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے ۔ جب انسان کے پاس دو وقت کی روٹی کے لئے پیسے نہیں ہوں گے تو وہ اپنے بچوں کو پڑھائے گا کیسے ۔ وہ تو گھر کا خرچہ چلانے کے لئے انھیں بھی محنت مزدوری پر لگائے گا اور آخر میں کالم اس بات پر ختم کرتا ہوں کہ غریب بھی تو انسان ہی ہوتا ہے اس کا اور اس کے بچوں کا دل بھی تو پھل فروٹ کھانے کو کرتا ہو گا بس یہ بتا دیں کہ جس کے پاس کھانے کو کچھ نہ ہو وہ بچوں کو پھل فروٹ اور عید کے کپڑے کہاں سے لا کر دے گا۔

مصنف کے بارے میں