صوبائی وزیر داخلہ کے خلاف غیر قانونی شکار کرنے پر مقدمہ درج

صوبائی وزیر داخلہ کے خلاف غیر قانونی شکار کرنے پر مقدمہ درج

کوئٹہ:صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی پر نایاب اور پاکستان کا قومی جانور مارخور کو شکار کرنے کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔ یہ مقدمہ تکتو کے علاقے میں درج کیا گیا ہے۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق مارخور کے شکار کے لیے قانونی طریقہ نہیں کیا گیابلوچستان ہائیکورٹ کے نوٹس لینے کے بعد محکمہ جنگلات کے ایک سینیئر اہلکار کی جانب سے 26مارچ کوتکتو لیویز تھانے میں وزیر داخلہ کے خلاف مقدمہ درج کیا۔


جب اس سلسلے میں بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی سے فون پر رابطہ کیا توان کا کہنا تھا کہ انھیں تاحال اس سلسلے میں کوئی نوٹس نہیں ملا۔ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے کوئی غیر قانونی شکار نہیں کیا تاہم نوٹس ملنے پر وہ تمام باتوں کا جواب عدالت میں دیں گے

مار خور کی نسل کو ناپید ہونے کے خطرے سے دوچار ہے یہ جانور بلوچستان کئی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ اس لیے اس کے شکار پر سخت پابندی عائد ہے

کوئٹہ کے قریب تکتو کے علاقے میں اس سال فروری کے مہینے میں ایک مارخور کا شکار ہوا تھا۔سوشل میڈیا پر اس کی باقاعدہ تصویر بھی جاری کی گئی تھی۔اس تصویر میں بلوچستان کے وزیر داخلہ شکار کے لیے استعمال ہونے والی ایک بندوق ہاتھ میں تھامے مارخور کے قریب بیٹھے نظر آرہے ہیں۔۔بلوچستان حکومت نے مار خور کو شکار کرنے کے لیے ایک قانونی طریقہ کار بنا رکھا ہے۔