سپریم کورٹ نے رجسڑڈ کمپنیوں کے تیار کردہ موٹر سائیکل رکشے چلانے کی اجازت دیدی

سپریم کورٹ نے رجسڑڈ کمپنیوں کے تیار کردہ موٹر سائیکل رکشے چلانے کی اجازت دیدی

اسلام آباد: جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے ملک بھر میں چنگ چی رکشوں سے متعلق کیس پر سماعت کی۔ چنگ چی رکشہ ایسوسی ایشن کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ فٹنس سرٹیفیکیٹ کے باوجود رکشے چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ کیا پالیسی بنانا عدالت کا کام ہے۔ سڑکوں پر اچانک چنگ چی آئے، ان کی کتنے حادثات ہوئے، کتنے لوگ مرے کیا اعدوشمار جمع کیے گئے۔ عوام کی حفاظت اہم ہے۔


جسٹس گلزار کا مزید کہنا تھا کہ اورنج ٹرین اور میٹرو کے بعد بھی چنگ چی کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ حکومتوں نے کیوں آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ پنجاب حکومت کے وکیل نے بتایا کہ پانچ بڑے شہروں میں چنگ چی رکشہ پر مکمل پابندی لگائی گئی ہے جبکہ سندھ حکومت کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ چنگ چی کے حوالے سے جامع پالیسی ہونی چاہیے۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملک بھر میں رجسٹرڈ کمپنیوں کے بنائے چنگ چی چلانے کی اجازت دے دی۔ عدالت نے ہدایت کی کہ صرف رجسٹرڈ کمپنیوں کو چنگ چی کا معیار چیک کر کے پرمٹ دیا جائے اورغیر تصدیق شدہ چنگ چی رکشہ کے خلاف کارروائی کی جائے۔

نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں