انڈونیشیا کا سزائے موت کے قانون پر عمل درآمد روکنے پر غور

انڈونیشیا کا سزائے موت کے قانون پر عمل درآمد روکنے پر غور

جکارتہ: انڈونیشیا نے سزائے موت کے قانون پر عمل درآمد روکنے پر غور شروع کردیا ۔


انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدودو نے کہا ہے کہ وہ پھانسی کی سزاؤں پر عمل درآمد روکنے کے لئے تیاری کررہے ہیں۔ صدر ویدودو نے ملک میں پھانسی کے قانون میں ترمیم کا عندیہ دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ سزائے موت پر پابندی پرغور کررہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ کیوں نہیں مگر میں پہلے اپنی کابینہ سے پوچھوں گا۔

صدر نے کہا کہ اگر عوام سزائے موت روکنے پر راضی ہوں تو وہ دی گئی موت کی سزاؤں پرعمل درآمد روکنے کے لیے اقدامات کریں گے۔ واضح رہے کہ 2015 میں لیے گئے رائے عامہ کے ایک جائزے میں کہا گیا تھا کہ انڈونیشیا کے 85 فیصد شہری منشیات کی روک تھام کے لیے منشیات کے سودا گروں کو سزائے موت دینے کے حامی ہیں۔

صدر جوکو ویدودو کے اقتدار سنھبالنے کے بعد 15 غیر ملکیوں سمیت 18 افراد کو منشیات کے دھندے میں ملوث ہونے کے جرم میں پھانسی دی گئی تھی۔