مفلوج بازو الیکٹروڈز اور تاروں کے ذریعے دماغ سے جوڑ کر فعال

مفلوج بازو الیکٹروڈز اور تاروں کے ذریعے دماغ سے جوڑ کر فعال

نیو یارک: امریکی سائنسدانوں نے ایک شخص کے مفلوج بازو  کو  الیکٹروڈز  اور تاروں کے ذریعے دماغ سے جوڑ  کر بازو  کو  قابل حرکت بنا لیا۔


دس سال سے بازو سے مفلوج امریکی شخص اپنا کھانا خود کھانے کے قابل ہو گیا۔ امریکی شہری دس سال قبل بائیک حادثے میں اپنے کندھے سے ہاتھ دھو بیٹھا اور ریڑھ کی ہڈی سے بازو کا تعلق ختم ہو جانے کی وجہ سے اس کا بازو مکمل طور مفلوج ہو گیا تھا تاہم کیس ویسٹرن ریزرو یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اس شخص ،جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، کی معذوری اپنے تجربات کے ذریعے دور کر کے اس کو دنیا کا پہلا کیس بنا دیا جس میں ایک مفلوج انسانی اعضا مفلو ج ہونے کے دس سال بعد تندرست ہو گیا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق انہوں نے شہری کے کندھے کو مصنوعی جوڑوں سے دوبارہ ریڑھ کی ہڈی سے جوڑ کر اس کے اعصابی نظام کو الیکٹروڈز، وائرز اور کمپیوٹر سے منسلک کیا۔ ان کے اس تجربے نے معذور شخص کا دماغی تعلق اس کے بازوں سے بحال کر دیا جس کی وجہ سے وہ ایک تندرست انسان کی طرح اپنے بازوں کو اب حرکت دینے لگا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ دنیا مین اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے کہ ایک عضوئ کی معذوری ختم ہوئی اور وہ شخص اپنے بازو اور ہاتھ کو حرکت دینے لگا ہے۔

نیوویب ڈیسک< News Source