بلاشبہ پاناما سے بچنے کے لیے نواز , زرداری ڈیل ہوئی، عمران خان

بلاشبہ پاناما سے بچنے کے لیے نواز , زرداری ڈیل ہوئی، عمران خان

لاہور :  پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ بلاشبہ پاناما سے بچنے کے لیے نواز زرداری ڈیل ہوئی ساری نورا کشتی ایک ڈیل کے تحت ہے دونوں کے مفادات ایک ہیں کبھی ایک دوسرے کو نقصان نہیں پہنچنے دیں گے چار سال تک فریندلی اپوزیشن چلتی رہی نواز شریف کو اب سندھ یاد آگیا .


لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ڈاکٹر عاصم کی ضمانت بھی حکومت اور پیپلز پارٹی میں پاناما پر ہوئی ڈیل کا نتیجہ ہے اسی ڈیل کے تحت ذرداری اور شرجیل کی واپسی ہوئی اور ایان علی کو بھی سزا نہ ہو سکی اس ڈیل کا ذکر چودھری نثار نے بھی کیا حکومت اور پیپلز پارٹی کی ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی نورا کشتی ہے عمران خان نے کہا کہ ملک میں خاص پلان کے تحت نورا کشتی ہو رہی ہے نواز شریف کو اب سندھ یاد آگیا ہے سندھ جا کر بڑے بڑے منصوبے آفر کیے جا رہے ہیں ان منصوبوں کے لیے پیسہ کدھر سے آنا ہے اس کے بارے میں کسی کو علم نہیں اب حیدر آباد میں ایئر پورٹ بھی بن جانا ہے جبکہ آصف زرداری لاہور میں بیٹھکر آگ اگل رہے ہیں ان کو بھی یاد آگیا ہے کہ ان کو اپوزیشن ہونا چاہیے یہ بالکل اسی طرح ہے جب 2013 ؁ سے پہلے پیپلز پارٹی کی حکومت کے چار سال میں ن لیگ فرینڈلی اپوزیشن بنی رہی جبکہ آصف زرداری کے 60ملین ڈالر پر سپریم کورٹ روتی رہی جبکہ ن لیگ نے اس پر کوئی بات نہ کی جبکہ شہباز شریف نے اپنے دھوئیں دار تقریروں میں کہا کہ آصف زرداری کا پیٹ پھاڑ کر پیسہ نکالیں گے. انہیں سڑکوں پر گھسیٹیں گے کھمبوں پر لٹکائیں گے وہ یکدم اپوزیشن بن گئے. جیسے ہی 2013میں الیکشن ہوا خاص کر جب دھرنا ہوا تو آصف زرداری کو 16ڈشوں پر مشتمل کھانے پر رائیونڈ میں مدعو کیا گیا 10ملین ڈالر لیکر بھول گئے جمہوریت بچانے کے لیے دونوں بھائی اکٹھے ہوگئے اب آصف زرداری کے بیانات آنا شروع ہو گئے ہیں کہ 2013 ؁ کے انتخابات میں ن لیگ بہت بڑی دھاندلی سے جیتی تھی اب آصف زرداری دھاندلی نہیں ہونے دے گا.

عمران خان نے کہا کہ اس وقت تو میں بھی یہی کہہ رہا تھا اور دونوں بھائی ملکر جمہوریت بچا رہے تھے اب نورا کشتی ایک پلان اور ڈیل کے تحت ہو رہی ہے اس سے پاکستانی عوام پاگل نہیں بن رہی نواز شریف کو جب بھی مسئلہ آتا ہے تو دونوں اکٹھے ہو جاتے ہیں عمران خان نے کہا کہ ایک کرپٹ وزیر اعظم اپنی کرپشن بچانے کے لیے ملک کو تباہ کر رہا ہے یہ ڈیل پاکستان کی بہتری میں نہیں ہو رہی یہ پاکستان کی جمہوریت کے لیے ڈیل نہیں ہور ہی بلکہ اپنی کرپشن بچانے کے لیے ڈیل ہورہی ہے آصف زرداری اور نواز شریف دونوں منی لانڈرنگ میں پیسہ چوری کر کے باہر لے گئے ہیں ان کے مفادات ایک ہیں سوائے نورا کشتی کرنے کے یہ کبھی بھی دونوں کو نقصان نہیں پہنچنے دیں گے جب ان کو خوف آتا ہے کہ اگر تحریک انصاف اقتدار میں آگئی تو احتساب کرے گی دونوں اسطرح کے ڈرامے شروع کر دیتے ہیں میرا ایمان ہے کہ جب تک اس ملک میں وزیر اعظم کرپٹ رہے گا اس ملک کے ادارے ٹھیک نہیں ہونے دے گا وہ اداروں کو اپنی کرپشن بچانے کے لیے استعمال کرے گا اب نیب کا کام ہے کہ وہ ان دونوں کے کیسز پر کاروائی کرے آصف زرداری نے بڑی ڈھٹائی سے کہا تھا کہ نیب کی مجال نہیں مجھے ہاتھ لگائے کیونکہ آصف زرداری کو علم ہے کہ انہوں نے نواز شریف کے ساتھ  مل کر نیب کا چیئرمین بنایا ہے زرداری جانتا ہے جب نیب نواز شریف کے    خلاف    12 کیسز  پر کاروائی نہیں کرے گا تو  پھر  زرداری کو کیسے پکڑے

گا .

عمران خان نے کہا کہ ہم دعا کرتے ہیں کہ پاناما کا جلدی فیصلہ آئے پوری قوم انتظار کر کے تھک چکی ہے عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں ایک فیصلہ کن وقت ہے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ کرپٹ وزیر اعظم سارے نظام کو کرپٹ کرتا ہے کرپٹ کرپشن سے ڈیل کرتا ہے جسطرح یہ ڈیل ہوئی ہے میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ میرا ارادہ تو نہیں تھا کہ پیپلز پارٹی پر کوئی تنقید کروں کیونکہ اس وقت ہمارا نواز شریف سے پاناما پر بہت بڑا میچ ہورہا ہے انہوں نے ڈاکٹر عاصم کی 480ارب روپے کی کرپشن پر کیسے ڈیل کر لی اس پر ہم کیسے چپ رہیں یہ 480ارب شریف خاندان کا نہیں قوم کا پیسہ ہے انہوں نے کہاکہ شرجیل میمن اور ایان علی پر کرپشن کے الزامات ہیں اگر حکومت چاہے گی تو ایان علی، ڈاکٹر عاصم اور باقی ڈاکو بھی بچ جائیں گے کیونکہ پراسیکیوٹر جنرل حکومت کا ہے پھر حج سکینڈل میں حامد سعید کاظمی بھی بری ہو چکے ہیں عمران خان نے کہا کہ جس ملک میں غربت کی انتہا ہو وہاں 480ارب روپے پر ڈیل ہو اس پر ہم کیسے چپ رہ سکتے ہیں یہ پاکستان کے ساتھ ظلم ہے.

عمران خان نے کہا کہ کرپٹ لوگوں سے ہمارا اتحاد نہیں ہو سکتا پیپلز پارٹی کے اندر بہت سے ایسے لوگ ہیں جو یہ نہیں چاہتے کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان نورا کشتی ختم ہو زرداری کے ہوتے ہوئے اتحاد نہیں کر سکتے مگر ان کے درمیان ایسے لوگ بھی ہیں جو یہ نہیں چاہتے کہ یہ ڈیلز ہوں اور وہ چاہتے ہیں کہ یہاں احتساب ہو عمران خان نے کہا ہے کہ یہاں دو کام ہو رہے ہیں ایک یہ کہ پارک غائب ہو رہے ہیں اور دوسرا یہ کہ پلازے بنائے جا رہے ہیں جبکہ کوئی ٹاؤن پلاننگ نہیں ہے اور سیوریج کے پانی کا راول لیک کے علاوہ کوئی متبادل راستہ ہی نہیں ہے اور راولپنڈی کے لوگ راول لیک سے آنے والا پانی استعمال کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ کوئی ملک اپنی عوام سے ایسا نہیں کرتا تنگ ہونے کے بعد چیف جسٹس سے ملک میں باقاعدہ قانون لیکر آئیں۔