وزیراعظم فریادی بن کر آئے لیکن دیا کچھ نہیں ، چیف جسٹس

وزیراعظم فریادی بن کر آئے لیکن دیا کچھ نہیں ، چیف جسٹس

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران وزیراعظم اور چیف جسٹس کی ملاقات کا تذکرہ چھڑنے پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے  کہا کہ اپنے ادارے اور وکلا کو مایوس نہیں کروں گا اوروکلاا پنے اس بھائی پر اعتبار کریں۔


یہ بھی پڑھیں :وزیراعظم کی چیف جسٹس سے دو گھنٹے کی ملاقات بلاوجہ نہیں تھی: سراج الحق

 چیف جسٹس نے کہا کہ میرا کام فریادی کی فریاد سننا ہے،وہ فریاد سنانے آئے تھے ۔انہوں نے کہا کہ ملاقات میں کچھ کھویا نہیں پایا ہی ہے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ میر ی ذمہ داری ہے کہ سائل کی تکلیف کوسنوں۔یاد رہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بذریعہ اٹارنی جنرل چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تھا جس کے بعد 27 مارچ کو یہ ملاقات چیف جسٹس کے چیمبر میں 2 گھنٹے تک جاری رہی۔

یہ بھی پڑھیں :وزیراعظم سے کل کی میٹنگ کے بعد معاملات جلدی حل ہوں گے، چیف جسٹس

 اس ملاقات پر اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔  تحریک انصاف نے اعلان کیا ہے کہ اگر نواز شریف کو کوئی این آر او ملا تو اسے قبول نہیں کریں گے اور اس کے خلاف سڑکوں پر ہوں گے۔دوسری جانب قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا اپنے ردعمل میں کہنا تھا کہ اگر ملاقات کرنا ہی تھی تو ایسی جگہ ملتے جہاں لوگوں کو پتہ نہ چلتا اور ملاقات کے لئے یہ وقت مناسب نہیں۔ 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں