'کوئی مذہب انتہا پسندی اور دوسرے مذاہب کی بے حرمتی کی قطعی اجازت نہیں دیتا'

 'کوئی مذہب انتہا پسندی اور دوسرے مذاہب کی بے حرمتی کی قطعی اجازت نہیں دیتا'

لاہور: تر جمان پنجاب حکومت ملک احمد خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں پائیدار امن کے لئے ہمیں ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہیے ۔ دنیا کا کوئی بھی مذہب انتہا پسندی اور دوسرے مذاہب کی بے حر متی کی قطعی اجازت نہیں دیتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بُدھ کے روز ورلڈ کونسل آف ریلجینز کے زیر اہتمام دو روزہ بین المذاہب ’’مشاورتی ورکشاپ ‘‘ سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی اور امن کے لئے نفرت انگیز تقاریر کو فی الفور ختم کر نا ہو گا ۔


انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پر جو شدت پسندی کا کلنگ لگ گیا ہے اس کو ختم کر نے کے لئے تمام مذاہب اور مسالک کے لوگوں کو آگے آنا ہو گا ۔ ریاست سے گذشتہ 70بر سوں میں غلطیاں ضرور ہوئی ہیں لیکن مجھے اُمید ہے نئی نسل اس داغ کو دھونے میں اہم کر دار ادا کرے گی ۔ کانفرنس سے سمیعہ راحیل قاضی نے خطاب کر تے ہوئے کہا ریاست کا مذہب اسلام ہے لیکن ہم اقلیتوں کو اس سے خارج نہیں کر سکتے ۔ ملک میں امن کے لئے خواتین کو بھی آگے آنا ہو گا ۔

کرسچن رہنما فادر ندیم فرانسس نے کہا کہ پاکستان سب کا ہے جبکہ دہشت گردی اور شر پسندی کو روکنے کے لئے ہم حکومت کے ساتھ ہیں۔ تقریب کے آخر میں مشترکہ اعلامیہ پیش کیا گیا جس میں مذہبی جنو نیت ، انتہا پسندی ، فر قہ واریت اور باہمی جنگ و جدل اورمذہب کے نام پر قتل و غارت گری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ اس ملک میں دہشت گردی، فرقہ واریت اور قتل و غارت گر ی کی آگ کو بجھانے کی ہر ممکن کو شش کی جائے گی ۔

علماء کرام اور ریاست کے تمام اداروں کی طرف سے جاری کردہ قومی بیانیہ ’’ پیغامِ پاکستان ‘‘ کی مکمل تائید کرتے ہیں اور اس کو ہر سطح پر رائج کر نے کے لیے عملی کو ششوں کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ پاکستان میں اقلیتوں کو ہر طرح کے حقوق فراہم کرنے اور انہیں جان، مال اور عزت و آبرو کا مکمل تحفظ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا ۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں