قوم وزیراعظم کی چیف جسٹس سے ملاقات کا مقصد جاننا چاہتی ہے: سراج الحق

قوم وزیراعظم کی چیف جسٹس سے ملاقات کا مقصد جاننا چاہتی ہے: سراج الحق

مظفر گڑھ: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ کوئی نیا این آر او قبول کریں گے نہ انتخابات میں ایک دن کی تاخیر برداشت کریں گے۔


مظفر گڑھ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ قوم وزیراعظم کی چیف جسٹس سے ملاقات کا مقصد جاننا چاہتی ہے، بروقت انتخابات نہ ہوئے تو آئینی بحران پیدا ہوگا، اصطبل خریدنے کا جو تماشا سینیٹ انتخاب میں لگا ہے، وہ عام انتخابات میں نہیں چاہتے۔ جنوبی پنجاب کے عوام الگ صوبہ کے حق میں ہیں، ملک میں میرٹ کی بالادستی اور صلاحیت کے ساتھ ساتھ صالحیت کے حامل حکمرانوں کی ضرورت ہے جو ملک و قوم کو موجودہ بحرانوں سے نجات دلا سکیں، بڑی دینی جماعتیں ایم ایم اے کے پلیٹ فارم پر متحد ہو گئی ہیں، اب دینی اور مذہبی لوگوں کا ووٹ بھی ایک بکس میں پڑنا چاہیے، دینی جماعتوں کا ووٹ تقسیم ہونے کا فائدہ اقتدار پر مسلط جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو ہوتا ہے۔ اگر ملک میں نظام مصطفےٰﷺ نافذ ہو جاتا تو مشرقی پاکستان بنگلہ دیش نہ بنتا۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ عوام اب حکمرانوں کو این آر او کے جہاز میں سوار نہیں ہونے دیں گے، عوام جاننا چاہتے ہیں کہ وزیراعظم کی چیف جسٹس سے ملاقات میں کیا باتیں ہوئیں؟ اس حوالے سے شکوک و شبہات کا پیدا ہونا فطری عمل ہے اور عوام مختلف خدشات اور تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام احتساب اور بروقت انتخاب چاہتے ہیں، احتساب کے نام پر انتخابات میں تاخیر ملک میں آئینی بحران پیدا کرے گی۔ جماعت اسلامی جنوبی پنجاب کے عوام کو یقین دلاتی ہے کہ ہم حکومت میں آئے تو ان کے غصب شدہ حقوق فوری ادا کیے جائیں گے۔