پنجاب کے بڑے شہروں میں مؤثر لاک ڈاؤن لگا دیا گیا

پنجاب کے بڑے شہروں میں مؤثر لاک ڈاؤن لگا دیا گیا
سورس:   file

لاہور: کابینہ کمیٹی برائے انسداد کورونا وائرس کے اجلاس میں کورونا کی روک تھام کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ تمام پارکس، تفریحی مقامات، سماجی اجتماعات پر مکمل پابندی لگادی گئی ہے۔ ہوٹل اور ریسٹورنٹس میں ان ڈور، آؤٹ ڈور ڈائننگ پر مکمل پابندی ہوگی۔ صرف ٹیک آوے کی اجازت ہو گی۔پنجاب کے بڑے شہروں میں موثر لاک ڈاؤن لگا دیا گیا۔

کیبنٹ کمیٹی برائے انسداد کورونا کے اجلاس کے بعد   وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ معاشی سرگرمیاں بند کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔12 فیصد سے زائد مثبت کیس والے اضلاع میں موثر لاک ڈاؤن لگادیا گیا ہے۔ لاک ڈاؤن یکم سے 11 اپریل تک لگایا گیا ۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کہا کہ   چاہتے ہیں معیشت کا پہیہ چلتا رہے اور لوگوں کو صحت مند رکھا جائے ۔ عوام کی حفاظت کیلئے ٹھوس اقدامات کرنا پڑے تو ضرور کریں گے۔چاہتے ہیں کورونا کے دوران عوام کو کم سے کم تکلیف ہو۔ ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی ۔ ماسک نہ پہننے سے جن لوگوں کیخلاف پرچے ہوئے ہیں اس معاملے کو آئی جی پنجاب دیکھیں گے۔ماسک کے استعمال کو یقینی بنایا جائے گا۔ 

انہوں نے کہا کہ مارکیٹس اور بازار شام 6 بجے تک کھلے رہیں گے۔ ہفتے میں 2 روز دکانیں بند رہیں گی۔ پارکس اور تفریحی مقامات مکمل طور پر بند رکھے جائیں گے۔ تمام ہوٹلز کے اندر انڈور اور آؤٹ ڈور پر پابندی ہے ۔ان ڈور اور آؤٹ ڈور شادیوں کی اجازت نہیں ۔ ہوٹلز ٹیک اوے  کیلئے کھلے رہیں گے۔

عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ  پنجاب  کے بڑے شہروں  میں لاک ڈاؤن 11 اپریل تک جاری رہے گا۔ فیکٹریز اور انڈسٹریز میں ایس او پیز کے تحت کام جاری رہے گا۔ معاشی سرگرمیوں پرکوئی پابندی نہیں لگائی جا رہی ۔ لاہور میں 21 فیصد مثبت کیسز کی شرح رہی جو خطرناک ہے۔ لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، راولپنڈی،فیصل آباد سمیت دیگر شہروں  میں کورونا کی تعدادزیادہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹے میں 15780 ٹیسٹ کئے گئے ۔ 39 اموات ہوئی ہیں۔ اب تک 6 ہزار 244  اموات ہوچکی ہیں۔  پنجاب بھر میں 252 افراد کی حالت تشویشناک ، 23ہزار 106 ایکٹو کیس ہیں۔ صوبے میں کل کیسز 2 لاکھ 15 ہزار 227  ہیں۔ مثبت کیسز کی شرح  14 فیصد ہوچکا ہے ۔

قبل ازیں اجلاس میں محکمہ صحت کی جانب سے حتمی سفارشات  کا جائزہ لیا گیا۔سفارشات میں کہا گیا تھا کہ زیادہ  مثبت کیسز والے اضلاع میں مکمل لاک ڈاؤن کیا جائے۔اجلاس میں کہا گیا کہ بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ پر پابندی کا فیصلہ ٹرانسپورٹ کمیٹی کرے گی۔