آن لائن کلاسز سے والدین اور بچوں کی ذہنی صحت پر منفی اثرات پڑے ہیں، امریکی ادارے کی تحقیق

آن لائن کلاسز سے والدین اور بچوں کی ذہنی صحت پر منفی اثرات پڑے ہیں، امریکی ادارے کی تحقیق
سورس:   فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

لاہور: امریکی ادارے نے اپنی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ عالمگیر موذی وباءکورونا وائرس کے دوران آن لائن کلاسز لینے سے والدین اور بچوں کی ذہنی صحت پر منفی اثرات پڑے ہیں۔ 

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینٹر برائے ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری وینشن (سی ڈی سی) نے عالمی وباءکے دوران آن لائن کلاسز سے بچوں اور والدین کے ذہنی صحت پر اثرات مرتب ہونے کا مطالعہ کیا۔ یہ تحقیق ایک ہزار 290 والدین اور ان کے 5 سے 12 سال کے بچوں کے اکتوبر اور نومبر 2020ءکے درمیان سروے کے ذریعے کیا گیا۔

محققین نے دعویٰ کیا کہ تحقیق کے دوران حاصل ہونے والے نتائج سے بچوں اور والدین کی جذباتی، جسمانی اور ذہنی صحت میں 17 میں سے 11 خطرات کی نشاندہی ہوئی۔ بچوں کی جسمانی حرکات اور کھیل کود کے اوقات کار کم ہونے سے بچے سست اور بیمار ہوگئے جبکہ ان میں چڑچڑاپن، ضد اور غصے کی علامات میں بھی اضافہ ہوا۔ بچوں کی قوت مدافعت اور قوت برداشت میں بھی کمی دیکھی گئی، ایسے بچے زیادہ تر سوتے رہے یا انٹرنیٹ استعمال کرتے رہے جس سے پٹھے اکڑ گئے اور جسم میں درد جیسی شکایات کا سامنا رہا۔

اسی طرح 25 فیصد والدین میں بھی بچوں جیسی علامتیں دیکھی گئیں، بچوں کے ہر وقت گھر میں رہنے سے کام کے بوجھ میں اضافہ ہوا اور گھر کا نظم و ضبط بھی خراب ہوا جس کی وجہ سے خاتون خانہ جسمانی تکلیف اور ذہنی دباؤکا شکار رہیں۔ اس کے مقابلے میں جو بچے سکول جاتے رہے وہ بچے تندرست و چست رہے اور ان کے والدین بھی ہشاش بشاش رہے جبکہ سکول جانے کے دوران ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد کیا گیا۔