حفیظ شیخ کو عہدے سے ہٹانے کی وجوہات سامنے آ گئیں

حفیظ شیخ کو عہدے سے ہٹانے کی وجوہات سامنے آ گئیں
کیپشن:    حفیظ شیخ کو عہدے سے ہٹانے کی وجوہات سامنے آ گئیں سورس:   فائل فوٹو

اسلام آباد: ڈاکٹر حفیظ شیخ کو وفاقی وزیر خزانہ کے عہدے سے ہٹانے کی وجوہات آخر کار سامنے آ گئیں۔ 

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے حفیظ شیخ کو وزیر خزانہ کا عہدہ چھوڑنے کی ہدایت کر دی ہے۔ اب اس کی وجوہات بھی سامنے آ گئیں ہیں کہ انہیں عہدے سے کیوں ہٹایا گیا ہے۔ 

دسمبر 2020 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک فیصلے میں قرار دیا تھا کہ منتخب نمائندے ہی کابینہ کمیٹی کی سربراہی کرسکتے ہیں اور عدالت نے یہ بھی فیصلہ دیا تھا کہ منتخب نمائندے ہی کابینہ کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کرسکتے ہیں۔

اس عدالتی فیصلے کے بعد حفیظ شیخ کو مشیرخزانہ سے وزیر خزانہ بنایا گیا اور انہوں نے  10دسمبر کو وزیر خزانہ کی حیثیت سے حلف اٹھایا تھا تاہم آئین کے تحت حفیظ شیخ کو 6 ماہ کے اندر قومی اسمبلی یا سیینیٹ سےمنتخب ہونا تھا۔

حفیظ شیخ کی چھ ماہ کی مدت 9 جون کو بطور وزیر خزانہ ختم ہونی ہے اور سینیٹ الیکشن میں یوسف رضا گیلانی سے شکست کے بعد ان کا زیادہ دیر تک عہدے پر رہنا ناممکن ہو گیا تھا۔

آئی ایم ایف سے مذاکرات اور بجٹ کی تیاری کے حوالے سے وزارت خزانہ کا اہم کردار ہے اس لیے وزیراعظم نے آئی ایم ایف سے مذاکرات اور بجٹ کے لیے منتخب نمائندے کو قلم دان دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حماد اظہر کی جانب سے دو مرتبہ بجٹ پیش کرنے کے پیش نظر انہیں وزیرخزانہ بنایا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ 11 دسمبر 2020 کو ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے وفاقی وزیر کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا جس کے بعد وزیراعظم عمران خان نے انہیں وزیر خزانہ کا منصب تفویض کر دیا تھا۔ قبل ازیں ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ کے عہدے پر فائز تھے۔ 

عبدالحفیظ شیخ سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر اور یوسف گیلانی کے دور میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر سینیٹ کے رکن منتخب ہو چکے ہیں۔

عبدالحفیط شیخ نے معاشیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے اور وہ مایہ ناز تعلیمی ادارے ہارورڈ یونیورسٹی میں پڑھا چکے اور کئی برسوں تک عالمی بینک کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔

صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے عبد الحفیظ شیخ 2003 سے 2006 تک وزیر برائے نجکاری اور سرمایہ کاری کے منصب پر بھی فائز رہے۔ بعدازاں پاکستان پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں وہ مارچ 2010 سے 19 فروری 2013 تک وزیر خزانہ، محصولات اور اقتصادی امور کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دورِ حکومت میں اسد عمر کے وزیر خزانہ کے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد 19 اپریل 2019 کو حفیظ شیخ کو وزیراعظم کے مشیر خزانہ کے منصب پر تعینات کیا گیا تھا۔