قرار داد دہلی… مزید تفصیلات …!

قرار داد دہلی… مزید تفصیلات …!

حسین شہید سُہروردی کی قراردادِ دہلی پر کی جانے والی تقریر کے سلسلے کو جاری رکھتے ہیں۔ حسین شہید سروردی اپنی تقریر یا پیش کردہ قرارداد (قراردادِ دہلی) میں کہتے ہیں 

"ہر گاہ ہندوؤں کا ذات پات کا نظام  اسلام کے عادلانہ نظام کے بالکل منافی ہے جس کا مقصد قومیت، مساوات ، جمہوریت اور زندگی کے بارے میں دوسرے اعلیٰ وارفع نظریات کو قائم کرنا ہے"۔ 

"ہر گاہ ہندوؤں اور مسلمانوں کی مختلف تاریخی روایات، ان کی جداگانہ تہذیب و معاشرت اور مختلف اقتصادی و اجتماعی نظام نے کسی ایک ایسی متحدہ ہندوستانی قومیت کی تشکیل کو ناممکن بنا دیا ہے جو مشترکہ تعاون اور تصورات سے فیض حاصل کر سکے اور ہر گاہ کہ صدیوں تک ایک ملک ہی میں رہنے کے باوجود مسلمان اور ہندو دو جدا جدا قومیں ہیں"۔ 

ـ"ہر گاہ کہ مسلمانوں کو یقین و اثق ہو چکا ہے کہ ہندوؤں کے غلبے سے مسلمانوں کو نجات  دلانے کے لئے ضروری ہے کہ ایک بااقتدار اور با اختیار مملکت کا قیام عمل میں لایا جائے جو شمال مشرقی منطقے میں آسام و بنگال اور دوسرے مسلم اکثریتی علاقوں اور شمال مغربی منطقے میں پنجاب، سندھ، سرحد، بلوچستان بشمول دوسرے مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل  ہوں"۔ 

"مرکزی اور صوبائی اسمبلیوں کے مسلم ارکان کا یہ اجلاس مکمل غور و خوض کے بعد یہ اعلان کرتا ہے کہ مسلم قوم متحدہ ہندوستان کی بنا پر مرتب کردہ کسی دستور کو ہر گز قبول نہیں کرے گی اور نہ مسلمان ہر گز کسی ایسی دستور ساز اسمبلی میں شرکت کریں گے جو اس مقصد کے لیے قائم کی جائے گی۔ ملت اسلامیہ متحدہ ہندوستان کے سلسلے میں ہر گز تعاون نہیں کرے گی جب تک حکومت برطانیہ کی جانب سے ہندوستانیوں کو اختیار ات منتقل کرنے کے لیے کوئی ایسا فارمولا نہ پیش کیا جائے جو مندرجہ ذیل منصفانہ اور عادلانہ اُصولوں کے مطابق ہو جس سے ملک میں داخلی امن امان برقرار کیا جا سکتا ہے"۔ 

۱۔" منطقے جن میں بنگال و آسام شمال مشرق میں اور پنجاب و سرحد، سند ھ و بلوچستان ہندوستان کے شمال مغرب میں واقع ہیں اور جو عام طور پر پاکستانی منطقوں کے نام سے بااختیار اور آزاد مملکت سے موسوم ہیں اور جہاں مسلمانوں کو غالب اکثریت حاصل ہے۔ ان منطقوں کو بااختیار و آزاد مملکت کی حیثیت سے تشکیل دیا جائے اور یہ وعدہ کیا جائے کہ پاکستان بلا تاخیر قائم کیا جائے گا"۔ 

۲۔"علیحدہ علیحدہ دستور بنانے کے لیے پاکستان اور ہندوستان کے باشندے دو علیحدہ دستور ساز اسمبلیاں قائم کریں گے"۔ 

ـ۳۔"آل انڈیا مسلم لیگ کی قرارداد لاہور منظور شدہ مارچ ۱۹۴۰ء کی بنیاد پر پاکستان و ہندوستان کی اقلیتوں کے لیے آئین میں تحفظات فراہم کیے جائیں گے۔ "

"مجھے انتہائی مسرت اور فخر ہے کہ میں آج یہ اہم قرارداد تمام ہندوستان کے منتخب مسلم ارکان اسمبلی کے سامنے پیش کر رہا ہوں اور سب سے بڑی بات یہ کہ ملت اسلامیہ کے جو نمائندے یہاں موجود ہیں انھیں مسلم قوم نے مطالبہ ء پاکستان کی بنیاد پر ہی منتخب کیا ہے"۔ 

مسٹر ُسہروردی کی پیش کردہ قرارداد کی تائید یوپی اسمبلی میں مسلم لیگ کے لیڈر چودھری خلیق الزمان نے کی۔۱۹۴۰کی قرارداد کی تائید بھی چودھری صاحب نے کی تھی۔ اس کنونشن سے خطاب کرنے والوں میں قائداعظم محمد علی جناح ،حسین شہیدسہروردی وزیراعظم بنگال، چودھری خلیق الزماں ، غلام حسین ہدایت اللہ (سندھ)، سید محمد سعد اللہ لیڈر مسلم لیگ پارلیمانی پارٹی و وزیراعظم آسام ، سید عبدالروف مسلم لیگ پارلیمانی پارٹی سی پی، نواب افتخار حسین ممدوٹ لیڈر مسلم لیگ پارلیمانی پارٹی پنجاب، اسماعیل ابراہیم چند دیگر لیڈر مسلیم لیگ پارلیمانی پارٹی بمبئی، خان عبدالقیوم خان لیڈر مسلم لیگ پارلیمانی پارٹی سرحد، جناب محمد اسماعیل لیڈر مسلم لیگ پارلیمانی  پارٹی مدراس ، مولوی لطیف الرحمٰن لیڈر مسلم لیگ پارلیمانی پارٹی بہار ، بیگم سید اعزاز رسول (یوبی) ، سردار شوکت حیات خان (پنجاب)، ملک فیروز خان نون (پنجاب) ، بیگم شاہنواز (پنجاب) راجہ غضنفر علی خان (پنجاب) مولانا ابوالہاشم سیکرٹری بنگال مسلم لیگ شامل تھے۔ اس کنونشن میں مولانا ظفر علی خان، راجہ محمود آباد، سید حسین امام، مولانا حسرت موہانی اور بیگم مولانا محمد علی جوہر نے بھی شرکت کی تھی۔ یہ حضرات منتخب ارکان اسمبلی تھے۔

 "قرارداد دہلی"کی اہمیت بھی "قرارداد لاہور"کے مقابلے میں بہت واضح تھی کہ اس میں پہلی بار ایک منزل متعین کی گئی اور واضح الفاظ میں اس پر کسی قسم کی سودے بازی یا گفت و شنید کے امکانات رد کردیے گئے۔ اس قرارداد میں کھل کر کہا گیا کہ بنگال ۔پنجاب سندھ، سرحد اور بلوچستان بلکہ آسام کا صوبہ بھی متوقع پاکستان میں شامل ہوگا اور وہ علاقے بھی پاکستان میں شامل ہوں گے جن کی سرحدیں متوقع پاکستان سے ملحق ہیں اور جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔

مصنف کے بارے میں