درجہ حرارت میں اضافے کا ذمہ دار کون؟

درجہ حرارت میں اضافے کا ذمہ دار کون؟

مجھے یاد ہے کہ ہماری سکول لائف میں عموماََ31مارچ کو ہمارے سکول کا ’’نتیجہ‘‘ نکلتا تھا ، جس کے بعد ہم اگلی کلاس میں پروموٹ کیے جاتے تھے۔ اور یہ نتیجہ ہم اکثر کھلے آسمان کے نیچے سنتے تھے،اس مہینے نارمل درجہ حرارت ہوا کرتا تھا، کڑاکے کی دھوپ نہیں تھی، بلکہ ہوا میں ہلکی ہلکی خنکی کا احساس ہوتا تھا۔ لیکن اب چند سال ہوگئے دنیا بھر کے درجہ حرات میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے، اور خاص طور پر لاہور میں تو ویسے ہی درجہ حرارت اس قدر بڑھ چکا ہے کہ اس کے نزدیکی شہروں یا ملحقہ علاقے بھی اس کی لپیٹ میں آنا شروع ہوگئے ہیں۔ اور یہ شاید کوئی مانے یا نا مانے یہ میٹرو بس پراجیکٹ ، اورنج ٹرین جیسے بے ہنگم پراجیکٹس کے آنے کے بعد ہوا اس میں اضافہ ہوا ہے، کیوں کہ ان پراجیکٹس میں ہزاروں درختوں کی کٹائی کر دی گئی، ائیر کوالٹی انڈکس کا خیال نہ رکھا گیا جس سے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا۔ حالانکہ دنیا اس وقت زیر زمین پراجیکٹس پر زیادہ اکتفا کررہی ہے مگر ہم آج بھی ’’کاسمیٹکس پراجیکٹس‘‘بنا رہے ہیں کہ جس سے عوام میں خوب شہرت پائیں اور اگلا الیکشن جیت جائیں۔ اور اسی بدولت آج ہماری حالت یہ ہے کہ ہم ہر سال آلودگی کے حوالے سے دنیا کے 10ہزار شہروں میں ’’فرسٹ‘‘ پوزیشن حاصل کر رہے ہیں۔ قصہ مختصر کہ جس ماحولیاتی آلودگی انڈیکس کو 0-50کے درمیان ہونا چاہیے تھا اْس میں سے ہم ریکارڈ 250-380 پوائنٹ حاصل کر رہے ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس دنیا کے مصروف ترین شہر نیویارک کا ائیرکوالٹی انڈکس 41اور لندن جیسے شہر کا ائیر کوالٹی انڈکس 37ہے۔اور پھر یہی نہیں ہم تو دریائوں میں آلودگی کا معاملہ ہو، نہری نظام میں فیکٹریوں کے زہریلے پانیوں کی ملاوٹ ہو یا سبزیاں کیمیکل والے پانی سے اْگائی جا رہی ہوں،ہم ہمیشہ سے ہی ’’فشٹ ‘‘ آتے رہے ہیں۔ ظاہر ہے اس میں قصور محکمہ ماحولیات ، حکومتی پالیسیوں اور ان منصوبہ سازوں کا ہے جو اپنی دیہاڑیاں لگانے کے لیے انڈسٹری کے لیے بنائے گئے قوانین پر عمل درآمد کرانے سے قاصر رہتی ہیں۔ تبھی آج 12کروڑ آباد والا صوبہ پنجاب دل، پھیپھڑوں کے امراض کا مرکز بنا ہوا ہے۔ 

خیر سوال یہ ہے کہ آخر کار درجہ حرارت میں اضافہ کیوں ہوتا ہے؟ یا ماحولیاتی تبدیلی سے مراد کیا ہے؟تو جناب! جب سے انسان نے تیل، گیس، کوئلہ اور دیگر معدنیات زمین سے نکال کر استعمال کرنا شروع کی ہیں تب سے زمین پر موجود گیسوں کی مقدار کے تناسب میں فرق آگیا ہے۔ جیسے کوئلہ، گیس یا آئل جلنے سے دھواں( کاربن ڈائی آکسائیڈ) بنتا ہے جو فضا میں موجود آکسیجن کی مقدار کو کم کر دیتا ہے اور جب آکسیجن کم ہوتی ہے تو درجہ حرارت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اور پھر جب درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے تو زمین پر موجود بڑے بڑے گلیشئر پگھلنا شروع ہو جاتے ہیں اور جب گلیشئر پگھلتے ہیں تو سمندروں کی سطح بلند ہوجا تی ہے اور جب سمندروں کی سطح بلند ہوتی ہے تو بڑے بڑے طوفان ، سونامی یا سیلاب جنم لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ گرمیوں میں درجہ حرارت جب نارمل سطح سے اوپر جاتا ہے تو یہ انسانی زندگی کے لیے سخت خطرناک ہوتا ہے بلکہ یوں کہہ لیں کہ جو لوگ 45ڈگری سنٹی گریڈ تک گرمی برداشت کرنے کے عادی ہیں، انہیں جب 50ڈگری میں لے جایا جائے گا تو اْن کی ہیٹ ویو کی وجہ سے موت ہونے کے امکانات 90فیصد تک بڑھ جاتے ہیں۔پھر سائبیریا جیسی جگہوں پر منجمد زمین پگھل رہی ہے، جہاں سے میتھین جو ایک گرین ہائوس گیس ہے فضا میں خارج ہورہی ہے، جس سے موسمیاتی تبدیلی کی صورتحال مزید خراب ہورہی ہے۔پھر دنیا بھر میں درختوں کو جلایا یا انھیں بے دردی سے کاٹا جارہا ہے تو عام طور پر ان میں کاربن کا ذخیرہ ہوتا ہے، اْس کا اخراج ہوجاتا ہے۔

اور پھر سائنسدانوں کے مطابق اگر یہی صورتحال رہی تو سب سے پہلے دنیا بھر میں موجود چھوٹے چھوٹے جزیرے سمندر میں غرق ہو جائیں گے پھر سمندری ممالک جیسے برطانیہ انتہائی بارش کی وجہ سے سیلاب کے خطرے سے دوچار ہو جائے گا، یعنی بحر الکاہل کے نشیبی جزیروں والے ممالک بڑھتی سطح سمندر کی وجہ سے پانی کے نیچے غرق ہو سکتے ہیں، بہت سے افریقی ممالک خشک سالی اور خوراک کی قلت کا شکار ہوں گے، شمالی امریکہ میں بگڑتی خشک سالی کی وجہ سے مغربی حصے متاثر ہوں گے جبکہ دیگر علاقوں میں اضافی بارش اور زیادہ شدید طوفان آنے کا امکان ہے اس کے علاوہ آسٹریلیا کا سخت گرمی اور شدید خشک سالی کی لپیٹ میں آنے کا امکان ہے۔ یعنی خطرہ صرف پنجاب یا لاہور کو نہیں بلکہ پوری دنیا خطرے کی لپیٹ میں آچکی ہے اور پھر جب پوری دنیا کوئلے سے چھٹکارہ حاصل کر رہی تھی تو عین اْس وقت ہماری سابقہ حکومتوں نے کوئلے سے بجلی حاصل کرنے والے بجلی گھر مہنگے داموں خرید لیے اور اب جب دنیا کوئلے کو جلانے پر پابندی لگا رہی ہے تو ہمیں اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ 

بہرکیف کوئلہ ہر سال تقریباً 40 فیصد کاربن کے اخراج کا موجب بنتا ہے اور اس لیے یہ درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک رکھنے کے لیے مرکزی اہمیت کا حامل ہو جاتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کوئلہ استعمال کرنے والے ممالک غریب نہیں بلکہ دنیا کے امیر ترین ممالک سب سے زیادہ کوئلہ جلا کر کاربن بنا رہے ہیں جن میں چین سرفہرست دوسرے نمبر پر انڈیا، تیسرے پر امریکا، چوتھے پر روس، پانچویں پر جرمنی، چھٹے پر جنوبی کوریا، ساتویں پر جاپان، آٹھویں پر پولینڈ، نویں پر ترکی اور دسویں نمبر پر انڈونیشیا ہے۔ تبھی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گتریز نے کہاہے کہ ہمارا نازک سیارہ(زمین) ایک دھاگے سے لٹک رہا ہے۔ ہم اب بھی موسمیاتی تباہی کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔

اور رہی بات پاکستان کی تو یہاں پچھلی ایک دہائی کے دوران موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید موسمیاتی واقعات بشمول سیلاب، قحط سالی، گلیشیئر پگھلنے سے بننے والی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب، سائیکلون اور ہیٹ ویو کے باعث نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان ہوا اور ملکی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ اور یہ نقصان ہماری اپنی غلطیوں کے باعث بھی ہے۔ جسے ہم آسانی سے دور بھی کر سکتے ہیں، جیسے ہم جو کوڑا اکٹھا کرتے ہیں اسے آگ لگانا اپنا فرض سمجھتے ہیں، وہ چاہے بلدیاتی حکومت کے ادارے ہوں یا انفرادی طور پر عوام، ہم کوڑا جلا دیتے ہیں۔ اس میں سب سے زیادہ خطرناک پلاسٹک بیگز ہیں جو اگر جلتے ہیں تو ہوا کو زہریلا کر دیتے ہیں۔ پاکستان کے تمام چھوٹے ، بڑے شہروں کے قریب بڑی تعداد میں فیکٹریاں لگائی جا رہی ہیں اور اس عمل میں تمام ماحولیاتی اصولوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔جگہ جگہ فیکٹریاں بننے کی وجہ سے پنجاب اور سندھ کے زرعی علاقوں میں کئی اقسام کے کینسر، پھیپھڑوں اور جگر کی بیماریاں عام ہیں۔ حکومت ان کرم کش کیمیکلز کے استعمال کو کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ لگ بھگ زراعت میں استعمال ہونے والی تمام کرم کش ادویات ملٹی نیشنل کمپنیاں بناتی ہیں۔ ادھر بے شمار ہائوسنگ سکیمیں زرعی زمینوں کو ختم کرکے بنائی جارہی ہیں ، دولت کی ہوس میں لوگ اندھے ہوگئے ہیں ، بحیثیت قوم ماحول دشمنی میں ہم اپنا پورا حصہ ڈال رہے ہیں۔اور کہہ رہے ہیں کہ یہ ہمارا اکیلے کا قصور نہیں بلکہ یہ تو ’’گلوبل وارمنگ‘‘ کا کیا دھرا ہے!لہٰذاحکومت اس حوالے سے کوئی واضح پالیسی مرتب کرے تاکہ ہم اور ہماری آنے والی نسلیں اس گلوبل وارمنگ میں کہیں غرق ہوکر نہ رہ جائیں!

مصنف کے بارے میں