تین لاکھ یہودیوں کے قتل میں معاونت،نازی مجرم کی سزا برقرار

تین لاکھ یہودیوں کے قتل میں معاونت،نازی مجرم کی سزا برقرار

برلن :جرمنی کی ایک وفاقی عدالت نے دوسری عالمی جنگ کے دوران نازی دور میں تین لاکھ یہودیوں کے قتل میں معاونت پر سزا پانے والے اس وقت پچانوے سالہ مجرم اوسکار گروئننگ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اسے سنائی گئی سزا برقرار رکھی ہے۔آوشوِٹس کے نازی اذیتی کیمپ میں کئی برسوں کے دوران مجموعی طور پر ایک ملین سے زائد انسانوں کو قتل کیا گیا تھا۔


غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق عشروں پہلے جرمنی پر ہٹلر کے دور حکومت میں آوشوِٹس کے نازی اذیتی کیمپ میں ایک محافظ کے فرائض انجام دینے والے مجرم گروئننگ کا اس اپیل میں کہنا تھا کہ وہ آوشوِٹس کیمپ میں گارڈ کے فرائض انجام دیتے ہوئے کسی یہودی کے قتل میں معاونت کا مرتکب نہیں ہوا تھا اور اسے سنائی گئی سزا اس لیے منسوخ کی جائے۔

شمالی جرمن شہر لِیونے برگ کی ایک عدالت نے اوسکار گروئننگ کو گذ شتہ برس جولائی میں تین لاکھ یہودیوں کے قتل میں معاونت کے جرم میں چار سال کی سزائے قید سنائی تھی۔ تب اس صوبائی عدالت نے یہ سزا اس لیے کم رکھی تھی کہ فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے اس ضعیف العمر مجرم کی بزرگی کا بھی خیال رکھا تھا، جو اس وقت 94 برس کا تھا۔ صوبائی عدالت کے جج فرانس کومپِش نے کہا تھاکہ ملزم گروئننگ اس لیے قابل سزا ہے کہ وہ نازیوں کی ’ڈیتھ مشینری‘ کا حصہ رہا ہے۔

آو¿شوِٹس کے نازی اذیتی کیمپ میں کئی برسوں کے دوران مجموعی طور پر ایک ملین سے زائد انسانوں کو قتل کیا گیا تھا۔جرمنی کی وفاقی عدالت انصاف نے اپنے فیصلے میں اس مقدمے کے مدعیان کے طور پر آوشوِٹس کے نازی اذیتی کیمپ میں مارے جانے والے بہت سے یہودیوں کے کئی پسماندگان کی طرف سے دائر کردہ وہ اپیلیں بھی خارج کر دیں۔