حکومت سے نہیں صرف فوج سے مذاکرات ہوئے، خادم حسین رضوی کا دعویٰ

حکومت سے نہیں صرف فوج سے مذاکرات ہوئے، خادم حسین رضوی کا دعویٰ

لاہور: تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی نے انکشاف کیا ہے کہ مظاہرین کو ان کے مطالبات حکومت کی جانب سے پورے کروانے کی یقین دہانی فوج نے کرائی تھی۔


نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے خادم حسین رضوی کا کہنا تھا کہ ہم نے حکومت سے کہا تھا کہ ہم آپ سے بات نہیں کر سکتے پھر فوج درمیان میں آ گئی تھی اور ہمارے رہنماؤں نے فوج اور انٹر سروسز انٹیلی جنس کے افسران سے ملاقات کی تھی۔  ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہمیں بتایا کہ ہمارے تمام مطالبات کو پورا کیا جائے گا۔  خادم حسین رضوی کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم وزیر داخلہ سے نہیں ملی تھی جن کے اس معاہدے پر دستخط ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فوج کے افسران نے ہی احسن اقبال سے اس معاہدے پر دستخط کروائے ہوں گے۔

اسی دوران وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ معاہدہ بہتر مفاد میں نہیں پیش آیا لیکن حکومت کے پاس اختیارات بہت کم تھے جبکہ ایسی ہی صورت حال اگلے 24 گھنٹے تک رہتی تو فسادات برپا ہو سکتے تھے۔

یاد رہے کہ ہفتوں تک جاری رہنے والے اس دھرنے نے وفاقی دارالحکومت کو مفلوج کر دیا تھا جس میں کئی لوگوں کی جانیں بھی گئیں تاہم حکومت نے مظاہرین کے آگے گھٹنے ٹیک دیے تھے اور وزیر قانون زاہد حامد کا استعفیٰ منظور کر لیا تھا۔

وزیر قانون کا استعفیٰ فیض آباد پر مظاہرین کے خلاف ہفتے کے روز ہونے والے آپریشن کے بعد اتوار کی رات کو کامیاب مذاکرات کے بعد سامنے آیا تھا۔

واضح رہے کہ اس آپریشن کے دوران 6 افراد ہلاک جبکہ ایک سو سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں