افغان سیکورٹی فورسز کی کاروائیوں میں حقانی نیٹ ورک کے 2کمانڈروں سمیت 60 ہلاک

افغان سیکورٹی فورسز کی کاروائیوں میں حقانی نیٹ ورک کے 2کمانڈروں سمیت 60 ہلاک

کابل: افغان سیکورٹی فورسز کی ملک کے مختلف علاقوں میں کاروائیوں کے دوران حقانی نیٹ ورک کے 2کمانڈروں سمیت 60طالبان جنگجو ہلاک اور 16زخمی ہوگئے، لوگر میں طالبان کے خلاف غیر ملکی افواج کے فضائی حملے میں 7 طالبان جنگجو مارے گئے ،ادھر داعش نے اپنے ایک ساتھی کو طالبان کے ساتھ تعلق کے الزام میں پھانسی دیدی،دوسری جانب کابل میں اغواءکے جرم میں 5قیدیوں کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا۔


بدھ کو افغان میڈیا کے مطابق وزارت دفاع کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے ملک کے مختلف علاقوں میں آپریشن کیے ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ افغان سیکورٹی فورسز نے مشرقی صوبہ ننگرہار،غزنی ،پکتیا،خوست،قندھار،ارزگان،فرح ،جاﺅزجان،فریاب ،قندوزاور ہلمند میں کلیئرنگ آپریشن کیے جس میں 60طالبان جنگجو مارے گئے جن میں حقانی نیٹ ورک کے 2کمانڈر بھی شامل ہیں۔

آپریشن میں 16جنگجو زخمی بھی ہوئے جبکہ 2کوگرفتار کرلیا گیا۔ادھر شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ (داعش) نے جاﺅزجان صوبے میں اپنے ایک ساتھی کو طالبان کے ساتھ تعلق کے شبے میں پھانسی دیدی۔صوبائی گورنر کے ترجمان محمد رضا غفوری نے بتایا ہے کہ جس شخص کو گولی مار کر ہلا ک کیا گیا ہے وہ فریاب کا رہنے والا ہے ۔ صوبہ لوگر میں طالبان کے خلاف غیر ملکی افواج کے فضائی حملے میں 7 طالبان جنگجو ہلاک ہوگئے۔

فضائی کارروائی گزشتہ رات افغان طالبان کے ٹھکانوں پر کی گئی۔افغانستان میں ڈونلڈ ٹرمپ کے نئی امریکی پالیسیوں کے بعد سے طالبان اور افغان اتحادی افواج کے درمیان جھڑپوں میں تیزی آگئی ہے۔گزشتہ روزافغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کے کمانڈر جنرل نکلسن نے اپنے بیان میں کہاتھا کہ 300 فوجیوں کی آمد کے بعد عسکریت پسندوں سے جنگ جیت رہے ہیں اور جلد طالبان اور داعش کا صفایا کردیں گے۔

دوسری جانب دارالحکومت کابل میں اغواءکے جرم میں 5قیدیوں کو پھانسی دیدی گئی ۔وزارت داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ 5قیدیوں کو کابل میں پل چرغی جیل میں پھانسی دیدی گئی ۔حکام کا کہنا مزید کہنا تھاکہ تمام افراد کو مغربی صوبہ ہرات میں اغواءکا جرم ثابت ہونے پر عدالتوں نے سزائے موت سنائی تھی ۔