سو دن کے اندر ہماری پالیسی کا مقصد عام آدمی کی مدد کرنا ہے, وزیراعظم عمران خان

سو دن کے اندر ہماری پالیسی کا مقصد عام آدمی کی مدد کرنا ہے, وزیراعظم عمران خان
فوٹو/ اسکرین گریب نیو نیوز

اسلام آباد: جب ٹی وی دیکھتا ہوں اور کسی پر کوئی ظلم ہورہا ہو تو بشریٰ بیگم کہتی ہیں یہ کیا ہورہا ہے ۔


کنویشن سینٹر اسلام آباد میں حکومت کی 100 روزہ کارکردگی کے حوالے سے منعقد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ 100 دن کا کریڈٹ بشریٰ بی بی کو دیتا ہوں، سو دن میں پہلی چھٹی ہفتے کو لی۔

انہوں نے کہا کہ جب کسی پر ظلم دیکھتا ہوں تو غصہ آتا ہے کہ کیا ہو رہا ہے، انسان کے ہاتھ میں صرف کوشش ہے اور نیت جو اللہ جانتا ہے، کامیابی اللہ دیتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 100 دن میں وہ کرنے کی کوشش کی جو راستہ ہم نماز میں مانگتے ہیں، یعنی نبی ﷺکا راستہ مانگتے ہیں، انہوں نے جو مدینے کی ریاست میں کیا۔

اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ تعلیم پرایک پلان لے کر آرہےہیں، چاہتے ہیں پورےملک میں ایک ہی نظام تعلیم ہو، یکساں نظام تعلیم سےغریب کابچہ بھی پڑھ کراوپر آسکتا ہے، نجی اسپتالوں میں امیروں کا، پرائیویٹ اسپتالوں میں امیرلوگوں کاعلاج ہوتا ہے، چاہتےہیں پرائیویٹ اورسرکاری اسپتالوں میں علاج کامعیارایک ہو، سرکاری اسپتالوں کوٹھیک کرنےکے لئے ٹاسک فورس بنائی گئی ہے، پاکستان میں غریب لوگوں کوصحت کارڈدینےکافیصلہ کیاہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کرپشن غربت پیدا کرتا ہے، امیراورغریب میں فرق ہی کرپشن پیداکرتی ہے، میرا بنیادی پلان تھا کہ کرپشن کا خاتمہ ہو، کرپشن کی وجہ سےہم پیچھےرہ گئے ہیں، کرپشن کی وجہ سےادارےتباہ ہوجاتے ہیں، پیسہ بنانے کے لئےاداروں کااستعمال کرتےہیں۔انھوں نے کہا کہ نیب حکومت کے نیچے نہیں، آزادادارہ ہے، نیب مزید بہتر کام کرسکتا ہے۔ یہاں عوام کو اندازاہ ہی نہیں تھا کہ کس سطح کی چوریاں ہوئی ہیں، وزیراعظم جب تک اداروں کو تباہ نہ کرے کرپشن نہیں کرسکتا۔

انھوں نے کہا کہ پچھلی حکومت نے قرضے لئے ہوئے تھے، قرضوں کی قسطیں اتارنے کے لئے مزید قرضے لینے پڑے، کرپشن سےمتعلق ہرروز نیا انکشاف ہوتا ہے، 26 ممالک کے ساتھ ایسٹ ریکوری کے لئے معاہدے کیے، ہم 12ارب ڈالرکے پیچھے بھاگ رہے ہیں، 26ممالک سے پتا چلا کہ پاکستانیوں کے 11 ارب ان ڈکلیئرڈا ثاثے پڑے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کےسابق وزیراعظم اور وزیر اقامے لے کربیٹھےتھے، ایف آئی اے نے 375 ارب روپےکےجعلی اکاؤنٹس پکڑے ہیں، ہماری پہلی حکومت ہے، جو منی لانڈرنگ پرہاتھ ڈال رہی ہے، اب کوئی بھی منی لانڈرنگ کرے گا، اس کے لئے مشکل ہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ دبئی والے اقامےوالوں کے بینک اکاؤنٹ نہیں بتاتے، پاکستانی شہریوں کے اکاؤنٹس کی معلومات دیتے ہیں، اب پتا لگا کہ باہر کی بینکوں میں رکھاپیسہ چھپانےکے لئے اقامے لیے گئے۔