سرکاری اشتہارات میں تصویر چھپوانے پر وزیراعلیٰ سندھ کو چودہ لاکھ پچاس ہزار جرمانہ

 سرکاری اشتہارات میں تصویر چھپوانے پر وزیراعلیٰ سندھ کو چودہ لاکھ پچاس ہزار جرمانہ
سکرین شاٹ

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سرکاری اشتہارات میں تصویر چھپوانے کے معاملے پر وزیراعلیٰ سندھ کو دس دن میں چودہ لاکھ پچاس ہزار جمع کروانے کا حکم دے دیا۔ 


تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سرکاری خرچ پر عوامی عہدیداروں کی تشہیر سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی جانب سرکاری اشتہارات میں ذاتی تصاویر چھپوانے پر پچاس لاکھ روپے جمع کروانے کا حکم دے چکے ہیں۔

سیکرٹری اطلاعات خیبر پختونخوا کی جانب سے دس دن کی تشہیری مہم کی تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ پیش کی گئی جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے دو اشتہارات میں سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی تصویر چھاپی گئی، اس معاملے پر پیر تک جواب جمع کرایا جائے۔

چیف جسٹس نے سیکرٹری اطلاعات خیبر پختونخوا سے کہا کہ کیوں نہ انہیں ذاتی جیب یا تنخواہ سے تیس ہزار جرمانہ کیا جائے۔ سرکاری افسر بن کر سیاسی لوگوں کا جائز و ناجائز کا دفاع کرتے ہیں، ایسے افسران سے عدالت کو کوئی ہمدردی نہیں، عدالت نے تفصیلات کے ساتھ پیر تک بیان حلفی جمع کروانے کا حکم دے دیا۔