خوش آمدید جنرل عاصم منیر!

 خوش آمدید جنرل عاصم منیر!

جنرل عاصم منیر پاکستان کے نئے سپہ سالار ہوں گے۔ یہ جملہ سننے کے لیے یقینا 6ماہ لگے، ایسا ہونا تو نہیں چاہیے تھا مگر وطن عزیز میں ہر چیز کو اس قدر مشکل بنا دیا جاتا ہے کہ بسا اوقات دن میں تارے نظر آنے لگتے ہیں۔ اور پھر ہمارا نومولود میڈیا(ویسے نومولود تو نہیں کہنا چاہیے کیوں کہ اس نے اپنی آمد کی دو دہائیاں دیکھ لی ہیں مگر اب بھی اس کے ”میچور“ہونے میں مزید عرصہ لگ سکتا ہے) اس قدر Hype create کر دیتا ہے کہ کسی اچھی بھلی چیز میں شکوک و شبہات پیدا ہونے لگتے ہیں۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ ملک کسی بڑے بحران سے بچ گیا ہے اور بالآخر جنرل عاصم منیر نئے آرمی چیف بن گئے ہیں، اْن کی تقرری کے بعد ایک دور کا اختتام اور ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔

کیوں کہ نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر ایک قابل افسر ہیں، جنرل عاصم منیر منفرد اور نمایا ں اس لیے بھی ہیں کیوں کہ عام طور پر آرمی چیف لانگ کورس سے آنے والے جنرل بنتے ہیں، مگر جنرل عاصم منیر لانگ کورس سے نہیں بلکہ او ٹی ایس سے آئے ہیں۔لانگ کورس سے مراد پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں منعقد ہونے والے دو سالہ کورس ہے، جس سے تربیت پا کر پاکستانی فوج کے افسران فوج کا حصہ بنتے ہیں۔ یہ لانگ کورس ایبٹ آباد کی کاکول اکیڈمی میں ہوتا ہے۔اس کے مقابلے پر ایک اور ادارہ او ٹی ایس یا آفیسرز ٹریننگ سکول کہلاتا ہے جو پہلے کوہاٹ میں ہوا کرتا تھا بعد میں منگلا منتقل ہو گیا۔ یہ ادارہ پاکستانی فوج میں افسران کی کمی کو پورا کرنے کے لیے خصوصی طور پر بنایا گیا تھا۔ او ٹی ایس پروگرام 1989 کے بعد ختم کر دیا گیا تھا اور 1990 میں آفیسر ٹریننگ سکول کو جونیئر کیڈٹ اکیڈمی کا درجہ دے دیا گیا۔

اس کے علاوہ جنرل عاصم منیر پاکستان کے وہ واحد آرمی چیف ہوں گے جو چیف بننے سے قبل دو مختلف انٹیلی جنس اداروں کے سربراہ رہے ہیں۔ جنرل عاصم منیر 25 اکتوبر 2018 سے 16 جون 2019 تک آئی ایس آئی کے سربراہ رہے۔ اس کے علاوہ وہ ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے بھی سربراہ رہ چکے ہیں۔ اس سے قبل آئی ایس آئی کے سربراہ تو آرمی چیف بنے ہیں، مثال کے طور پر جنرل اشفاق پرویز کیانی، مگر کوئی ایسا سربراہ نہیں آیا جو دو انٹیلی جنس اداروں کا سربراہ رہا ہو۔ پھر جنرل عاصم منیر سے قبل کوئی آرمی چیف نہیں گزرا جس نے اعزازی شمشیر یا سورڈ آف آنر حاصل کی ہو۔ یہ وہ اعزاز ہے جو جنرل عاصم منیر کے پاس ہے۔ سورڈ آف آنر وہ اعزازی تلوار ہوتی ہے جو پاس آؤٹ ہونے والے کیڈٹوں میں اول پوزیشن حاصل کرنے پر دی جاتی ہے۔ اس اعزاز کا حصول ہر کیڈٹ کا خواب ہوتا ہے اور اسے پانے کے لیے ان کے درمیان سخت مقابلہ ہوتا ہے۔ یہ شمشیر مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی کی بنیاد پر دی جاتی ہے۔

لہٰذا وہ جتنے قابل افسر ہیں اْن کے لیے چیلنجز بھی اتنے ہی زیادہ ہیں۔ جیسے اس وقت عوام اور پاک فوج کے درمیان خلیج بڑھ گیا ہے، میں اس کی وجوہات میں تو نہیں جانا چاہتی مگر یہ سو فیصد حقیقت ہے اور اسے تسلیم کرنا پڑے گا۔ لہٰذا اسے سمیٹنے کے لیے نئے آرمی چیف کو بھرپور کوششیں کرنا ہوں گی۔ دوسرا ان کے لیے جو سب سے بڑا چیلنج ہے وہ یہ ہے کہ معیشت کیسے ٹھیک ہو گی؟ ویسے تو یہ کام سیاستدانوں کا ہے مگر یہاں چاہتے نا چاہتے ہوئے بھی آرمی چیف کو اس میں کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی سعودی عرب سے بات کرنا پڑتی ہے تو کبھی دیگر عرب ممالک سے اور کبھی امریکا سے۔ تو ایسی صورت میں جنرل عاصم منیر تمام سیاسی جماعتوں کو میثاق معیشت پر راضی کرنے کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اور پھر سیاسی جماعتوں کو بھی سوچنا چاہیے کہ سیاسی استحکام کی خاطر سبھی فریق ذاتی اَنا کے جھگڑوں کو ختم کریں اور آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔ ہمارے رہنما جمہوریت کا پرچار بہت کرتے ہیں مگر جمہوریت کی روح اور تقاضوں کو سمجھنے اور لاگو کرنے میں خلوص کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ اس دو رنگی کا ختم ہونا بھی ضروری ہے۔ سیاسی قیادت کو سمجھنا ہو گا کہ جمہوریت میں عدم برداشت نہیں ہوتا، قومی مقاصد ہوتے ہیں جن کیلئے ہر جماعت اور لیڈر ایک ڈھنگ سے جدوجہد کرتا ہے، یہ ڈھنگ جمہوری کلچرسے آتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں حقیقی جمہوری کلچر کو فروغ دینے میں کیا رکاوٹیں ہیں، سیاسی رہنماؤں کو اس کا جائزہ اپنی ذات سے شروع کرنا چاہیے۔ ہمارے رہنما ماضی میں غیر جمہوری مداخلتوں کی تاریخ کو جمہوری اقدار کے فروغ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تعبیر کرتے ہیں؛ تاہم فوج کی جانب سے سیاست میں عدم مداخلت کی پالیسی کے ساتھ سیاسی قیادت کے لیے بڑا موقع پیدا ہوتا ہے جسے خلوصِ نیت کے ساتھ بروئے کار لا کر ملک میں جمہوری استحکام یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ افواجِ پاکستان کی جانب سے اس یقین دہانی کے ساتھ اب گیند سیاست دانوں کے کورٹ میں ہے۔ یہ ان قائدین کی صلاحیتوں کا امتحان ہے جو ملک میں جمہوریت کے علم بردار کہلاتے ہیں۔

بہرکیف اہل وطن! نیا دورشروع ہوا چاہتا ہے، اُمید ہمیشہ اچھے کی کرنی چاہیے، ورنہ مایوسی اور نااْمیدی گناہ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ لہٰذادوسری طرف سیاسی جماعتوں کو بھی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا کہ وہ اپنے مسائل حل کرانے کے لیے دوسروں کو کس قدر مدعو کرتے ہیں، اس لیے اب دیکھنا یہ ہے کہ سیاسی قائدین ان امکانات سے کس طرح فائدہ اٹھا تے ہیں۔ کیا وہ اب بھی مداخلت کا راگ الاپتے رہیں گے یا جمہوریت کو مستحکم کرنے میں اپنی ذمہ داریاں بھی ادا کریں گے۔ اگرچہ حالات کچھ اچھی تصویر پیش نہیں کرتے کہ جو منفی سیاست اس وقت دکھائی دیتی ہے اس کی مثال ماضی قریب میں تو کم از کم نہیں ملتی۔ اس صورتحال کو ختم کرنا ہو گا۔ سیاسی عدم برداشت کا خاتمہ اور میں نہ مانوں کے رویے میں مثبت تبدیلی کی ضرورت ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوج کو سیاست سے الگ کر نے کے اعلان کے بعد انہوں نے بڑا قدم اُٹھا لیا۔اب سیاسی قیادت کو بھی چاہیے کہ اپنے حصے کا کام کرے اور سیاسی سوجھ بوجھ، فراست اور تدبر و حکمت کے ساتھ ملک کو اس گمبھیرتا سے نکالیں۔