کل ایسا بیان دیا گیا جس میں قومی سلامتی کی تاریخ مسخ کرنے کی کوشش کی گئی، ترجمان پاک فوج

dg ispr,babar iftikhar
اسکرین گریب

راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہاایک نکاتی ایجنڈا ہے اور ریکارڈ کی درستگی کے لیے بات کرنا چاہتا ہوں کیونکہ

کہ کل ایک بیان دیا گیا اور معاملے کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی کیونکہ پلوامہ واقعہ کے بعد بھارت کو منہ کی کھانا پڑی جبکہ پاکستان نے بھارت کو دن کی روشنی میں منہ توڑجواب دیا بلکہ بھارت کے دو جنگی جہاز بھی مار گرائے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دشمن نے رات کی تاریکی میں بدحواسی میں پہاڑوں پر بم گرائے اور پاکستان کی فتح کو دنیا نے تسلیم کیا۔ پاکستان نے امن کوموقع دیتے ہوئے ابھی نندن کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان نے اعلانیہ طور پر دن کی روشنی میں دشمن کو جواب دیا۔ پاکستان کی قیادت اور افواج ہر صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار تھی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہ منفی بیانیے سے دشمن فائدہ اٹھا رہا ہے اور ہمیں ذمہ داری سے آگے بڑھنا ہوگا۔ ہم اندرونی اور بیرونی خطرات سے آگاہ ہیں اور ہر چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ ہر قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ مسلح افواج ایک منظم ادارہ ہے اور افواج کی قیادت اور رینک کو جدا نہیں کیا جا سکتا ہے۔

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے بھارتی ونگ کمانڈر ابھینندن کی رہائی کو کسی اور صورتحال سے جوڑنے کے بیان کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا اس فیصلے میں تمام سول اور ملٹری انتظامیہ یکجا تھی۔ 

خیال رہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کی پریس بریفنگ سے قبل  وزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملاقات کی ہے، جس میں پاک فوج کے پیشہ ورانہ امور سے متعلق بات چیت کی گئی۔

ملاقات میں ملک کی اندرونی و بیرونی سیکیورٹی امور پر مشاورت اور دہشتگردی کے حالیہ واقعات پر بھی بات چیت کی گئی۔ وزیراعظم عمران خان نے مادر وطن کے تحفظ کیلئے سیکیورٹی اداروں کی قربانیوں کو سراہا اور کہا پوری قوم دہشتگردی کے خلاف متحد ہے۔