گھڑا پراجیکٹس اور اسحاق ڈار……

گھڑا پراجیکٹس اور اسحاق ڈار……

بالآخر معیشت کے جادوگر کہلائے جانے والے اسحاق ڈار وطن واپس آ گئے اور میری رائے میں موجودہ سیاسی و معاشی بحران میں ان سے کسی معجزے کی توقع رکھنا درست نہ ہو گا۔ البتہ امید کی جا سکتی ہے کہ اب ہمارے معاشی معاملات بہتر سمت کی طرف چل پڑیں گے جیسا کہ ڈالر ریٹ کی پاکستانی روپے کے مقابلے میں کمی ایک نیک شگون ہے۔ میری رائے میں اسحاق ڈار کو سب سے پہلے ”گھڑا پراجیکٹس“ ختم کرنا ہوں گے۔ گھڑا پراجیکٹس کیا ہیں اس کا ذکر آگے چل کر ہو گا۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ان کے پیش رو ڈنگ ٹپاؤ غیر سیاسی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے معاشی فیصلوں سے جو سیاسی نقصان مسلم لیگ ن کو ہوا اور عوام کو مہنگائی، روپے کی بے قدری، افراط زر، پٹرولیم مصنوعات سمیت گیس، بجلی سمیت ہر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، بیروزگاری کا سامنا کرنا پڑا اس کا مداوا کرنا بہت بڑا چیلنج ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ اسحاق ڈار اس سے کیسے نبرد آزما ہوتے ہیں یقیناً اگلے عام انتخابات میں جانے سے پہلے یہ بہت بڑا ٹاسک ہو گا جبکہ موجودہ صورتحال میں عوام میں مسلم لیگ کے لیے غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ یہ کہنا بجا ہو گا کہ اس صورتحال کے ذمہ دار مفتاح اسماعیل تھے۔ لیکن ان پر وہ بوجھ ڈال دیا گیا جو وہ اٹھانے کے اہل ہی نہ تھے اور وہ ذمہ داریاں ڈال دی گئیں جن کی بجا آوری ان کی سکت سے باہر تھی ایسے میں ملک کے معاشی حالات کی تنزلی یقینی تھی جو ہوئی۔

میری رائے میں اسحاق ڈار کو سیاسی میں الجھے بغیر معیشت پر ہی فوکس کرنا ہو گا۔ گو کہ اسحاق ڈار کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ معاشی معاملات کے علاوہ سیاسی معاملات کا ادراک بھی رکھتے ہیں لیکن ان کا بنیادی ہدف معیشت کی بحالی ہونا چاہیے۔ البتہ امید کی جا سکتی ہے کہ سیاسی میدان کی افرا تفری میں بھی ٹھہراؤ آئے گا اس کی وجہ یہ ہے کہ نواز شریف کے سیاسی فیصلوں میں بھی ان کا عمل دخل ہے لیکن اس کے لیے دوسرے سیاسی فریق کو بھی لچک دکھانا ہو گی۔ اسحاق ڈار کو مسلم لیگ ن کے اندر گروپ بندی سے بھی بچ کر چلنے کے علاوہ سب کو ایک پیج پر لانا ہو گا۔

اسحاق ڈار کو معیشت کی بہتری پر لیکچر یا مشورے دینا سورج کو چراغ دکھانے کے برابر ہو گا میری رائے میں انہیں اپنے فیصلے آزادی سے کرنے دینا چاہیے۔ اس لیے میرے خیال سے تو انہیں کسی بھی مشورے کے بجائے سادہ لفظوں میں عوام کو مہنگائی سے نکالنے اور ملکی کی معیشت کی بحالی کے لیے دو طرفہ تجارت جس میں بھارت بھی شامل ہے پر توجہ دینی چاہیے۔

اب آتے ہیں ”گھڑا پراجیکٹس“ کی طرف یہ 

وہ پراجیکٹس ہیں جو ملکی معیشت کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں اس میں سٹیل مل، پی آئی اے اور اس نوعیت کے چھوٹے بڑے ادارے ہیں لیکن پھر بھی ہم انہیں پال رہے ہیں۔ میری ناقص رائے میں ایسے تمام پراجیکٹس کی نجکاری کر دینی چاہیے۔ ”گھڑا پراجیکٹس“ بنائے تو جاتے ہیں عوام کی فلاح اور ملکی معیشت مضبوط کرنے کے لیے لیکن افسر شاہی کی بے اعتنائی کی وجہ سے یہ پراجیکٹس بوجھ بن جاتے ہیں۔ 

قارئین کو گھڑا پراجیکٹس کے بارے میں بتانے کے لیے ایک پرانی کہانی یاد آ گئی جس کے مطابق کسی بادشاہ کا گزر ایک ایسے علاقے سے ہوا جہاں کے لوگ نہر سے پانی پیتے تھے۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ عوام الناس کی سہولت کیلئے یہاں ایک گھڑا بھر کر رکھ دیا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا اور ہر چھوٹا بڑا سہولت کے ساتھ پانی پی سکے گا۔ بادشاہ یہ کہتے ہوئے اپنے باقی کے سفر پر آگے کی طرف بڑھ گیا۔شاہی حکم پر ایک گھڑا خرید کر نہر کے کنارے رکھا جانے لگا تو ایک اہلکار نے مشورہ دیا یہ گھڑا عوامی دولت سے خرید کر شاہی حکم پر یہاں نصب کیا جا رہا ہے۔ ضروری ہے کہ اس کی حفاظت کا بندوبست کیا جائے اور ایک سنتری کو چوکیداری کیلئے مقرر کیا جائے۔سنتری کی تعیناتی کا حکم ملنے پر یہ قباحت بھی سامنے آئی کہ گھڑا بھرنے کیلئے کسی ماشکی کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اور ہفتے کے ساتوں دن صرف ایک ماشکی یا ایک سنتری کو پابند نہیں کیا جا سکتا، بہتر ہو گا کہ سات سنتری اور سات ہی ماشکی ملازم رکھے جائیں تا کہ باری باری کے ساتھ بلا تعطل یہ کام چلتا رہے۔ایک اور محنتی اہلکار نے رائے دی کہ نہر سے گھڑا بھرا ہوا اٹھا کر لانا نہ تو ماشکی کا کام بنتا ہے اور نہ ہی سنتری کا۔ اس محنت طلب کام کیلئے سات بار بردار بھی رکھے جانے چاہئیں جو باری باری روزانہ بھرے ہوئے گھڑے کو احتیاط سے اٹھا کر لائیں اور اچھے طریقے سے ڈھکنا لگا کر بند کر کے رکھیں۔ایک اور دور اندیش مصاحب نے مشورہ دیا کہ اتنے لوگوں کو رکھ کر کام کو منظم طریقے سے چلانے کیلئے ان سب اہلکاروں کا حساب کتاب اور تنخواہوں کا نظام چلانے کیلئے محاسب رکھنا ضروری ہونگے، اکاؤنٹنگ کا ادارہ بنانا ہو گا، اکاؤنٹنٹ متعین کرنا ہونگے۔ایک اور ذو فہم و فراست اہلکار نے مشورہ دیا کہ یہ اسی صورت میں ہی یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ ہر کام اچھے طریقے سے چل رہا ہے تو ان سارے ماشکیوں، سنتریوں اور باربرداروں سے بہتر طریقے سے کام لینے کیلیئے ایک ذاتی معاملات کا ایک شعبہ قائم کرنا پڑے گا۔ایک اور مشورہ آیا کہ یہ سب کچھ ٹھیک ہو رہا ہے مگر ملازمین کے درمیان میں لڑائی جھگڑا یا کوئی زیادتی ہو جاتی ہے تو ان کا تصفیہ اور ان کے درمیان میں صلح صفائی کون کرائے گا؟ تاکہ کام بلا تعطل چلا رہے، اس لیے میری رائے میں خلاف ورزی کرنے والوں اور اختلاف کرنے والوں کی تفتیش کے لیے ایک قانونی امور کا محکمہ قائم کیا جانا چاہیے۔ایک صاحب کا یہ مشورہ آیا کہ اس سارے انتظام پر کوئی ہیڈ بھی مقرر ہونا چاہئے۔ ایک ڈائریکٹر بھی تعیینات کر دیا گیا۔ایک سال کے بعد بادشاہ کا پھر اس مقام سے گزر ہوا تو اس نے دیکھا کہ نہرکے کنارے کئی کنال رقبے پر ایک عظیم الشان عمارت کا وجود آ چکا ہے جس پر لگی ہوئی روشنیاں دور سے نظر آتی ہیں اور عمارت کا دبدبہ آنکھوں کو خیرہ کرتا ہے۔ عمارت کی پیشانی پر نمایاں کر کے ”وزارت انتظامی امور برائے گھڑا“ کا بورڈ لگا ہوا ہے۔بادشاہ اپنے مصاحبین کے ساتھ اندر داخل ہوا تو ایک علیحدہ ہی جہان پایا۔ عمارت میں کئی کمرے، میٹنگ روم اور دفاتر قائم تھے۔ ایک بڑے سے دفتر میں، آرام کرسی پر عظیم الشان چوبی میز کے پیچھے سرمئی بالوں والا ایک پُر وقار معزز شخص بیٹھا ہوا تھا جس کے سامنے تختی پر اس کے القابات ”پروفیسر ڈاکٹر فلان بن فلان ڈائریکٹر جنرل برائے معاملات سرکاری گھڑا“ لکھا ہوا تھا۔بادشاہ نے حیرت کے ساتھ اپنے وزیر سے اس عمارت کا سبب پوچھا اور ساتھ ہی اس عجیب و غریب محکمہ کے بارے میں پوچھا جس کا اس نے اپنی زندگی میں کبھی نام بھی نہیں سنا تھا۔ وزیر نے جواب دیا: حضور والا، یہ سب کچھ آپ ہی کے حکم پر ہی تو ہوا ہے جو آپ نے پچھلے سال عوام الناس کی فلاح اور آسانی کیلئے یہاں پر گھڑا نصب کرنے کا حکم دیا تھا۔بادشاہ مزید حیرت کے ساتھ باہر نکل کر اس گھڑے کو دیکھنے گیا جس کو لگانے کا اس نے حکم دیا تھا۔ بادشاہ نے دیکھا کہ گھڑا نہ صرف خالی اور ٹوٹا ہوا ہے بلکہ اس کے اندر ایک مرا ہوا پرندہ بھی پڑا ہوا ہے۔ گھڑے کے اطراف میں بیشمار لوگ آرام کرتے اور سوئے ہوئے پڑے ہیں اور سامنے ایک بڑا بورڈ لگا ہوا ہے: ”گھڑے کی مرمت اور بحالی کیلئے عطیات جمع کرائیں۔ منجانب وزارت انتظامی امور برائے گھڑا“۔

کیا یہ اپنے ہی وطن کی کہانی نہیں لگتی؟ اسحاق ڈار کو اپنے گرد ایسے کئی گھڑا پراجیکٹس نظر آئیں گے۔ باقی اقدامات کے علاوہ اسحاق ڈار صاحب کو یہ ”گھڑا پراجیکٹس“ بند کر کے متبادل انتظامات بھی کرنے چاہئیں اور سب سے بڑا ٹاسک اس ملک کو قرضوں اور بھیک سے نجات دلانا ہو گا۔ گو کہ یہ مشکل ٹاسک ہے لیکن ہم ان کی کامیابی کے لیے دعا گو ہیں۔

کالم کے بارے میں اپنی رائے 03004741474 پر وٹس ایپ کریں۔

مصنف کے بارے میں