پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی پر عالمی توجہ

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی پر عالمی توجہ

پاکستان میں آنے والے سیلاب سے اب تک پندرہ سو اسی سے زائد اموات ہو چکی ہیں اور تقریبا 33 ملین افراد براہ راست متاثر ہوئے ہیں. ایسے میں وزیراعظم پاکستان، وزیر مملکت برائے خارجہ، اور وفاقی وزیر خارجہ بیرون ملک دورے پر موجود ہیں۔ اس دورے میں وہ کس حد تک کامیاب ہو سکے ہیں پاکستان کو درپیش مسائل کو عالمی فورمز پر، یہ سوال جواب طلب ہے۔

دنیا اس وقت معاشی بحران، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات،? کووڈ 19 کی وبا کی لپیٹ میں ہے اور حالات مزید سنگین ہو جاتے ہیں جب دنیای طاقتوں کے درمیان روابط خوشگوار نہ ہو ں۔ عالمی فورمز پر بیٹھ کر ان مسائل پر بات کرنا بے حد ضروری ہے کیونکہ جب تک ان معاملات پر بات نہیں ہوگی دنیا تباہی کے دہانے پر کھڑی ہوگی۔ اگر آج پاکستان ڈوبا ہوا، افریقہ میں قحط سالی ہے، تو کل کسی اور ملک کی باری بھی ہو سکتی ہے۔

یو این سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے دنیا کی توجہ پاکستان کی موجودہ صورتحال کی جانب مبذول کروائی اور کہا کہ یہ لمحہ فکریہ ہے۔ یونائیٹڈ نیشن جنرل اسمبلی کے 77 ویں اجلاس میں امریکی صدر جوبائیڈن نے پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کی پاکستان کو مدد کی ضرورت ہے اور وہ سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کی خصوصی سفیر انجلینا جولی نے بھی پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں پر دنیا کی توجہ میں کا عزم کیا ہے۔ سیلاب زدگان کی مدد کے لئے فلسطین کی جانب سے بھی رپیڈ ریسپونس اور ریسکیو ٹیم پاکستان بھیجی گئی جو کہ قابل ستائش ہے۔ پاکستان کو دنیا بھر سے امداد موصول ہو رہی ہے لیکن یہ معاملہ صرف یہیں تک کا نہیں کیونکہ ابھی ریلیف اور ریسکیو جاری ہے،،، ریہیبلیٹیشن کا فیز ابھی آنا باقی ہے۔

وزیر مملکت برائے امور خارجہ حنا ربانی کھر سے امریکی محکمہ خارجہ کی سابق امور انڈرسیکرٹری وکٹوریہ نو لینڈ نے کہا ہے کہ امریکہ تعمیر نو کے کاموں میں پاکستان کی مدد کرے گا جب کہ موسمیاتی تبدیلی، صحت، توانائی اور تجارت سمیت مختلف شعبوں میں پاکستان کے ساتھ مزید بات چیت کی جائے گی۔

وزیراعظم پاکستان سے عالمی رہنماؤں کی ملاقات ہوئی جس میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ شہباز شریف کی امریکی وزیر خارجہ اینتھنی بلنکن سے بھی ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے سیلاب زدگان کے لیے ہمدردی کا اظہار کیا اور وزیراعظم کو یقین دلایا کے اس مشکل وقت میں وہ پاکستان کے ساتھ ہیں۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے پاکستان کو سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کی یقین دہانی کرائی اور قیمتی جانوں کے نقصان پر تعزیت کا اظہار کیا۔ اس ٹیلی فون کال میں شہباز شریف نے کنگ سلمان ہیومینٹیرین  ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر سے ملنے والی امداد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

لمحہ فکریہ یہ ہے کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہوتا ہے جن پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات شدید متاثر کرتے ہیں جس کی مثال ملک بھر میں پیش آنے والے حالیہ سیلاب کی تباہ کاریاں ہیں۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے مختلف فورمز پر گفتگو کی جہاں انہوں نے بتایا کہ پاکستان 0.8 فیصد کاربن کے اخراج میں حصہ دار ہے مگر جو صورتحال اس وقت میں پیدا ہے یہ ملک اس کا ذمہ دار نہیں ہے۔ پاکستان ہر طرح سے عالمی توجہ کا منتظر ہے کیونکہ ہمیں امداد نہیں انصاف چاہیے۔ ایک اندازے کے تحت سیلاب کے باعث پاکستان کو معاشی نقصان کا ابتدائی اندازہ تیس ارب ڈالر کا ہے۔

وہ علاقے جہاں پر سیلاب کی آفت برپا ہے وہاں لوگوں کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے، ان علاقوں میں وبائی امراض جنم لے رہے ہیں اور زندگی ناپید ہو رہی ہے۔ اگر دنیا اس کا مستقل سدباب چاہتی ہے تو اجتماعی اقدامات کرنا ہوں گے جس میں فیوچر کورس آف ایکشن مرتب کرنا ہوگا تاکہ دنیا کو محفوظ مستقبل فراہم کیا جا سکے۔

مصنف کے بارے میں