آج انصاف ہوا، اللہ تعالیٰ نے نواز شریف کو سرخرو کیا، مخالفین جھوٹے ثابت ہو گئے: مریم نواز

آج انصاف ہوا، اللہ تعالیٰ نے نواز شریف کو سرخرو کیا، مخالفین جھوٹے ثابت ہو گئے: مریم نواز

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی ہوں، آج انصاف ہو گیا اور ہماری بے گناہی ثابت ہو گئی، اللہ تعالیٰ نے نوازشریف کو آج سرخرو کیا۔ 

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے ایون فیلڈ ریفرنس میں بریت کا فیصلہ آنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ 6 سال گزر گئے، جھوٹ بولا گیا، بہتان لگایا گیا، نوازشریف نے 6 سال میں جھوٹ کا سامنا کیا، پاکستان کی تاریخ میں ایسا سیاسی لیڈر نہیں آیا جس کا اتنا کڑا احتساب ہوا، جس طرح نوازشریف سرخرو ہوئے ہیں ایسے کوئی سیاستدان نہیں ہوا، وہ جلد پاکستان واپس آئیں گے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ سچ کبھی چھپ نہیں سکتا، یہ ہر صورت سامنے آتا ہے، جھوٹ کا اختتام ایسے ہی ہوتا ہے جس طرح آج ہوا ہے، فیصلہ سنتے ہی سب سے پہلے نوازشریف کو بتایا، نوازشریف نے کہا تھا وہ احتساب عدالت کے فیصلے کا خودسامنا کریں گے، نوازشریف نے کہا تھا میری بیٹی اور خاندان بھی اس فیصلے کا سامنا کریں گے۔ 

انہوں نے کہا کہ آج اس شخص کا چہرہ دیکھنا چاہتی ہوں جس نے جھوٹے الزامات لگائے تھے، اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو جھوٹا اور سازشی ثابت کیا، وہ اب کیا کرے گا؟ وہ شخص سب کچھ کرنے کے باوجود جھوٹا اور ناکام ثابت ہوا، آج جھوٹے الزامات لگانے والے شخص کا چہرہ دیکھنے کے قابل ہو گا، عمران خان تین زندگیاں بھی لے آئیں تو بھی نواز شریف نہیں بن سکتے۔ 

مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار ایک وزیراعظم کے جہاز میں بیٹھ کر گیا اوردوسرے وزیراعظم کے جہاز میں واپس آیا جبکہ اسحاق ڈار سے حلف اس شخص کی جماعت کے ایک رہنما نے بطور صدر مملکت حلف لیا جبکہ عمران خان بیساکھیوں پر حکومت میں آیا، نواز شریف کے ہوتے ہوئے عمران خان حکومت میں نہیں آ سکتے، عمران خان اہم دستاویزات میں ٹیمپرنگ کر رہے ہیں، اب تک قذافی سٹیڈیم سے باہر نہیں نکلے۔ 

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر کا مزید کہنا تھا کہ دوران سماعت ججز کے ریمارکس سنے اور تمام معاملات کو ریورس ہوتے دیکھا، امجد پرویزنے میرا کیس نہایت بہتر طریقے سے لڑا، وکیل سلمان راجہ، امجد پرویز سمیت ان کی پوری ٹیم کی شکر گزار ہوں۔ 

مصنف کے بارے میں