بالی ووڈ کی ماضی کی معروف اداکارہ ممتاز کےانتقال کی افواہیں،بیٹی کی تردید

بالی ووڈ کی ماضی کی معروف اداکارہ ممتاز کےانتقال کی افواہیں،بیٹی کی تردید
فوٹو :سوشل میڈیا

ممبئی : بالی ووڈکی ماضی کی معروف اداکارہ ممتاز کے انتقال کی افواہوں کے بعد ان کی بیٹی بھی میدان میں آگئی ہیں اور ایسی تمام افواہوں کو مسترد کردیا ہے۔


یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی ساری تقریر کا متن 'میں' نہیں تو کچھ بھی نہیں، وزیراعلیٰ پنجاب

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ممتاز کے انتقال کی افواہوں ان دنوں سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہیں جبکہ ایک خبر میں کہا گیا ہے کہ اداکارہ ممتاز انتقال کرگئی ہیں۔انتقال کی خبروں کے بعد اداکارہ کی بیٹی تانیانے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر تردید کرتے اپنی اور اپنی والدہ کی تصویر شیئر کرتے ہوئے پیغام جاری کیا کہ میری والدہ بالکل صحتمند ہیں اور انتقال کی خبرجھوٹی ہے۔تانیا نے تصاویر بھی شیئر کی ہیں جس میں اداکارہ ممتاز ہشاش بشاش دکھائی دے رہی ہیں۔

A post shared by Tanya Madhvani (@tanyamadhvani) on

خیال رہے کہ محض 12سال کی عمر میں ممتاز نے فلمی سفر کا آغاز قدم رکھ دیا۔ 1960ء کے عشرے میں ممتاز نے کئی سٹنٹ فلموں میں کام کیا جن میں ان کے ساتھ ہیرو کا کردار دارا سنگھ نے ادا کیا تھا۔ دارا سنگھ کے ساتھ ممتاز نے جن فلموں میں کام کیا ان میں ’ہرکیولیس‘، ’فولاد‘، ’ویر بھیم سین‘،’سیمسن ‘ ،’ٹارجن کم ٹو دہلی‘ ،’آندھی اور طوفان‘،’سکندر اعظم ‘،’ ٹارجن ایند کنگ کانگ ‘،’رستم ہند‘،’باکسر‘،جوان مرد‘،’ ڈاکو منگل سنگھ‘ وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں سے کئی فلمیں باکس آفس پر ہٹ ثابت ہوئی لیکن کامیابی کا کریڈٹ دارا سنگھ کو دیا گیا ۔

یہ بھی پڑھیں:افغان دارالحکومت کابل میں دو دھماکے، 21 افراد ہلاک

1965ء میں ممتاز کے فلمی سفر کی اہم فلم میرے صنم ریلیز ہوئی اس میں ممتاز ویمپ کے کردار میں آئیں۔ اس میں آشا بھوسلے کی آواز میں اوپی نیر کی موسیقی سے آراستہ ان پر فلمایا گیا گیت ’یہ ہے ریشمی زلفوں کا اندھیرا ،نہ گھبرایئے ‘ان دنوں شایقین کے درمیان بڑا مقبول ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:ہاشم آملہ کو جنوبی افریقی حکومت نے بڑے قومی اعزاز سے نواز دیا

1967ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’پتھر کے صنم ‘ ممتاز کی اہم فلموں میں سمار کی جاتی ہے ۔منوج کمار اور وحیدہ رحمن کے مرکزی کردار والی اس فلم میں ممتاز نے بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس میں بھی ان پر ایک ائٹم گیت ’اے دشمن جاں ،چل دیا کہاں ‘ فلمایا گیا جسے شائقین نے خو ب پسند کیا ۔

’میرے صنم ‘ اور ’پتھر کے صنم ‘ کی کامیابی کے باوجود ممتاز اداکارہ کے طور پر اپنی شناخت بنانے کے لیے فلم انڈسڑی میں جدوجہد کرتی رہیں۔ اس دوران ان کی ’ساون کی گھٹا ‘،’یہ رات پھر نہ آئے گی ‘ اور’ میرے ہمدم میرے دوست‘ جیسی بہترین فلمیں ریلیز ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں:تحریک انصاف کا جلسہ ،گریٹر اقبال پارک کوڑے کے ڈھیر میں تبدیل

ان فلموں میں مرکزی اداکارہ کے طور پر شرمیلا ٹیگور نے کام کیا تھا،جبکہ ممتاز نے معاون اداکارہ کا کردار ادا کیا تھا۔ ممتاز کی اداکاری کا ستارہ ’رام اور شیام‘ کے ساتھ چمکا جس میں انہوں نے دلیپ کمار کے مد مقابل کام کیا۔ یہ فلم نہایت کامیاب رہی۔ اس کے بعد فلمساز اور ہدایت کار راج کھوسلہ کی کلاسیکل فلم ’دو راستے‘ نے انہیں کامیابی کی بلندیوں تک پہنچا دیا ۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں