کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان اور پیپلز پارٹی آمنے سامنے آگئی

کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان اور پیپلز پارٹی آمنے سامنے آگئی
image by facebook

کراچی :کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان اور پیپلز پارٹی آمنے سامنے آگئی، ایم کیو ایم بہادر آباد نے ٹنکی گراؤنڈ پر پیپلز پارٹی کے جلسےکو جلسی قرار دے دیا۔


ایم کیو ایم بہادرآباد نے پانچ مئی کو تیر کا جواب پتنگ سے دینے کا اعلان کردیا جبکہ پی آئی بی گروپ کے فاروق ستار نے کہا کہ ہمارے  ہی ٹیکسوں سے ہمیں بھیک دی جارہی ہے، شہری علاقوں کو دیوار سے لگایا نہیں گیا بلکہ دیوار میں چنوادیا گیا , فاروق ستار نے بھی 4 مئی کو ٹنکی گراؤنڈ میں ہی جلسہ کرنے کا اعلان کردیا۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان پی آئی بی گروپ کے سربراہ فاروق ستار نے بلاول بھٹو کے لیاقت آباد جلسے پر ردعمل جاری کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ ’پییپلز پارٹی نے لیاقت آباد ٹنکی گراؤنڈ پر جلسہ کیا، پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے جو کہا وہ سب نے سنا، بلاول بھٹو زرداری یا بلاول زرداری بھٹو کو آئینہ دکھانا ضروری ہے۔

فاروق ستار نے کہا کہ کسی زبان کو صوبائی یا قومی زبان بنانے کے ہم خلاف نہیں لیکن اردو کی قیمت پر کسی زبان کو قومی زبان بنانے کے حق میں بھی نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اردو کو رابطہ اور انتظام کی زبان کے طور پر ختم کیا جارہا تھا، اس پراردو بولنے والوں نے احتجاج کیا جس میں شہادتیں بھی ہوئی، جولائی 1972 میں سرکاری سرپرستی میں فسادات کرائے گئے، رئیس امروہی کو یہ کہنا پڑا تھا کہ اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے , فاروق ستار نے کہا کہ بلاول بھٹو کو شہداءِ اردو کے ورثاء سے معافی مانگنی چاہیے۔

سربراہ ایم کیو ایم پی آئی بی فاروق ستار نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے لیاقت آباد میں جو جلسہ کیا وہ ہمارے وسائل سے کیا گیا، طاقت سے قبضہ تو کیا جاسکتا ہے لیکن دلوں میں نہیں اترا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ 30 سال میں پیپلز پارٹی کی حکومت میں فنڈز نہیں دیئے گئے، کوٹہ سسٹم نافذ کیا گیا جو توسیع نہ ہونے کے باجود آج تک قائم ہے، کوٹہ سسٹم کے ذریعے ہماری جائز ملازمتیں لے لی گئیں، کالجوں میں داخلوں پر پابندی لگائی گئی۔