خطے میں تجارت کے فروغ کیلئے بھی افغانستان میں امن ضروری ہے، شاہ محمود

خطے میں تجارت کے فروغ کیلئے بھی افغانستان میں امن ضروری ہے، شاہ محمود
پاکستان افغانستان مذاکرات کا ساتواں دور کامیابی سے ہمکنار ہو گا، وزیر خارجہ۔۔۔۔۔۔۔فوٹو/ شاہ محمود آفیشل فیس بُک پیج

اسلام آباد: پاک افغان مذاکرات کے ساتویں دور کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغان تنازع کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہوئے اور پاکستان چار دہائیوں سے لاکھوں افغان پناہ گزینوں کو پناہ دیے ہوئے ہے۔ افغان امن عمل کے لیے پاکستان مخلصانہ کوشش کر رہا ہے اور اس سلسلے میں امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد سے متعدد ملاقاتیں کر چکا ہوں۔


شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ افغانستان ہمارا بڑا تجارتی شراکت دار ہے کیونکہ پاکستان نے افغانستان کی تعمیر نو کے لیے مالی مدد بھی کی ہے۔ 50 ہزار افغان طالب علموں نے پاکستان میں تعلیم حاصل کی ہے اور افغانستان کی 100 طالبات کے لیے پاکستان کے تعلیمی اداروں میں سیٹیں رکھی گئی ہیں۔ پاکستان کی خواہش ہے کہ افغان بھائی پر امن ماحول میں زندگی گزاریں۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مختلف تنظیمیں کام کر رہی ہیں اور افغان امن عمل میں ہونی والی پیشرفت کو سراہتے ہیں۔ پاکستان افغانستان مذاکرات کا ساتواں دور کامیابی سے ہمکنار ہو گا۔ دونوں ممالک کو نئے آغاز کی ضرورت ہے اور کرپشن نے دونوں ممالک کو نقصان پہنچایا اور ہمیں کرپشن کے خلاف لڑنا ہوگا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن خطے میں مربوط روابط کے لیے ضروری ہے۔ خطے میں تجارت کے فروغ کے لیے بھی افغانستان میں امن ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان پاکستان کا قریبی اور قابل اعتماد دوست ہے۔ اقتصادی راہداری میں افغانستان کی حیثیت مسلمہ ہے جبکہ دونوں ممالک کا ایک دوسرے پر انحصار اور تجارتی مفادات ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تاریخ بتاتی ہے افغانستان نے کبھی کسی سپر پاور کو قبول نہیں کیا اور بہادر افغان عوام نے کبھی بیرونی آقاؤں کو تسلیم نہیں کیا۔ ہمیں تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے اور اپنے مستقبل کا فیصلہ افغان عوام کو خود کرنا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں پائیدار امن کے لیے کاوشیں کرتا رہے گا۔ کیا ہمیں تیسرے فریق کی ضرورت ہے کہ پاکستان اور افغانستان کو کیا کرنا چاہیے۔ پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں جبکہ پاکستان اور افغانستان کو اپنا مستقبل طے کرنا چاہیے۔