ڈی چوک سے پارلیمنٹ ہائوس تک…؟

ڈی چوک سے پارلیمنٹ ہائوس تک…؟

سیاسی اختلافات ہر دور میں تھے ہیں اور رہیں گے لیکن جو گند پی ٹی آئی نے 2014 میں ڈالا جس طرح کی بے ہودگی، لچر پن زبان کا استعمال شروع کیا گیا وہ اب پارلیمنٹ تک جا پہنچا ہے آج اختلافات شدید ہیں بھائی بھائی کے سامنے ،بیوی خاوند کے سامنے، بیٹا باپ اور بیٹی ماں کے سامنے اپنی من مانی کرتے ہوئے سینہ تانے کھڑی ہے اختلافات اس نہج تک جا پہنچے ہیں کہ ہرکوئی ایک دوسرے کو مرنے مارنے کو تیار ہے جب سے عمران خان شہر اقتدار سے نکلے ہیں ایسے لگتا ہے جیسے ہوش وہواس کھو بیٹھے ہیں اقتدارمیں تھے تو مخالفین کو گالیاں دینا فرض سمجھتے تھے اقتدار سے نکلے ہیں تو اور بھی زبان لمبی ہو گئی ہے اور آج ڈی چوک سے شروع ہونے والی بد کلامی،بد زبانی اور چرب زبانی پارلیمنٹ ہائوس تک پہنچ گئی ہے، ٹریلر عدم اعتماد کے موقع پر عوام دیکھ چکے ہیں ملک کو ریاست مدینہ بنانے کا دعویدار خود کو عقل کل اور دوسروں کو کم عقل سمجھتا ہے یہی وجہ ہے کہ تکبرانہ انداز گفتگو نے تخت سے دھڑن تختے تک پہنچا دیا آج بھی دھمکیاں لگائی جا رہی ہیں جن کو پہلے دھمکیاں دی گئی تھیں کہ اقتدار سے نکالا تو اور خطر ناک ہو جائوں گا انہوں نے تو ان دھمکیوں کو خاطرمیں نہ لایا جس کا خان صاحب کو اندازہ ہو گیا ہو گا اپنے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آنے کی دعائیں کرنے والے عمران خان نے عدم اعتماد آنے پر جس غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا اس سے قوم کے سر شرم 

سے جھک گئے تھے،کیا ہی اچھا ہوتا اگرسابق وزیر اعظم کسی ملک پر سازش کا الزام لگانے کے بجائے اندر کی توڑپھوڑ کو قابو کر سکتے اور پارلیمنٹ میں بھی میلہ نہ لگتا۔

 وزیراعظم اگر پارلیمنٹ میں بتاتے کہ کیا سازش ہورہی ہے تو زیادہ بہتر ہوتا جبکہ سکیورٹی اداروں اور دوسرے متعلقہ اداروں کو پہلے سے پتہ ہوتا ہے،امریکا اور پاکستان کے تعلقات 60کی دہائی سے ہی ایسے رہے ہیں، ہم امداد بھی لیتے رہے ہیں اور غصہ بھی نکالتے رہے ہیں،9/11کی عمران خان نے بات کی،عمران خان اس میٹنگ میں موجود تھے اور اس کے ایک سال بعد تک وہ مشرف کے حلیف رہے، اکتوبر میں جب الیکشن ہوئے تو وہ اس وقت بھی میٹنگ میں مشرف کے ساتھ گئے تھے، اقتدار جانے کے بعدعمران خان کی تقریروں میں دکھ، تکلیف، تھکاوٹ اور بہت کچھ ہے ، سیاست میں اسی طرح عمران خان آئے اور اسی طرح ان کو جانا پڑ گیا سابق وزیراعظم نے کہا تھا کہ آخری گیند تک لڑوں گا پھر گیند انہیں ڈھونڈتی رہی میں سازش کا مقابلہ کروں گاپھر خود ڈھیر ہو گئے،کہتے تھے مقابلہ کروں گا میں سازش کے خلاف دیوار بن کر کھڑا ہو جائوں گا ،عمران خان کی حکومت نمبر گیم میں ہار چکی تھی لیکن وہ ماننے کو تیار تھے نہ ان کے حواری ؟اب عوام سے کہہ رہے ہیں کہ باہر نکلیں سازش کو ناکام بنائیں اسلام آباد میں بھی رنگ جمانے کی دھمکی دی جا رہی ہے ، اس قوم میں اتنا کرنٹ نہیں ہے کہ یہ اصلی یا نقلی سازش سے باہر نکلیں اور اس کو ناکام بنا دیں،بتایا جائے اگر ان کیخلاف امریکی سازش تیار تھی تو پھر او آئی سی میں امریکی سپیشل گیسٹ کوکیوں بلایا گیا سب کہہ رہے ہیں کہ عمران خان کی حکومت کو کوئی دھمکی نہیں دی گئی تھی جسے سابق تبدیلی سرکار ماننے کو تیار نہیں، ایک حقیقت ہے کہ عمران خان کی حکومت کو کوئی دھمکی آئی ہی نہیں اب پاکستان تحریک انصاف اپنی بقا کی جنگ لڑنا چاہ رہی ہے، وزیر اعظم کو بہت مشکل فیصلے کرنا پڑیں گے معیشت تباہ ہے ڈالر کی اڑان بے قابو ہے مہنگائی کی وجہ سے عوام پریشان ہیں، ملکی قرضہ30 ہزار سے52 ہزار پر پہنچ چکا ہے یعنی جو قرضہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے دس برس میں چڑھایا تھا وہ عمران خان ساڑھے تین برس میں لے چکے ہیں دوسری طرف سی پیک مکمل پیک ہو چکا جس کا اندازہ چینی قیادت کی ناراضگی سے لگایا جا سکتا ہے وزیر اعظم شہباز شریف کے آنے سے جہاں کچھ قوتیں خوش ہیں وہیں کچھ اینٹی امریکہ قوتیں نا راض بھی ہیں اور وہ اس حکومت کو ناکام بنانے میں کوئی کسرنہیں چھوڑیں گی اس بارے میں متحدہ حکومت کے وزیر اعظم شہباز شریف کو چاہیے کہ وہ ہر قدم پھونک پھونک کر رکھتے ہوئے عوامی اور مکی خوشحالی کیلئے کوششیں جاری رکھیں تاکہ آنے والے دنوں میں ملک میں ڈالا گیا گند صاف ہو سکے۔

مصنف کے بارے میں