نصف ٹن وزنی مصری خاتون ایمان نے آئس کریم کھا نے اور سیر کی خواہش ظاہر کردی

نصف ٹن وزنی مصری خاتون ایمان نے آئس کریم کھا نے اور سیر کی خواہش ظاہر کردی

ابوظہبی : متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی کے ہسپتال میں زیر علاج مصرکی نصف ٹن وزنی خاتون ایمان نے آئس کریم کھانے اور سیر کرنے کی خواہش ظاہر کردی ،ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایمان کئی ماہ کے علاج کے بعد اب کافی حد تک تندرست ہیں۔غیر ملکی میڈیاکے مطابقمصرکی نصف ٹن وزنی خاتون متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں برجیل اسپتال میں کئی ماہ کے علاج کے بعد اب کافی حد تک تندرست ہیں۔


انہیں ان کی خواہش پر دارالحکومت کے اہم سیاحتی مقامات کی سیر کرائے جائے گی۔ اس دوران وہ ساحلی سمندر کے قریب ابو ظہبی کورنچ میں آئس کریم سے بھی لطف اندوز ہوں گی۔برجیل اسپتال کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ نصف ٹن وزنی مصری خاتون کا وزن کافی کم ہوچکا ہے۔ ایک وقت تھا کہ وہ خود سے کروٹ نہیں بدل سکتی تھیں۔ اب ان کی خواہش کے کہ وہ ابو ظہبی کی سیر کریں۔

ان کی خواہش پرعمل درآمد کرتے ہوئے آج بدھ کو ایمان کو ابو ظہبی کی سیر کرائی جائے گی۔ وہ کچھ دیر اسپتال کے تیسرے گیٹ پر بھی رکے گی۔ اس دوران وہ آئی کریم سے بھی لطف اندوز ہوگی جس کے بعد اسے دوبارہ اسپتال منتقل کردیا جائے گا۔ایمان نے اسپتال کے کمرے سے باہر نکلنے، پارک میں بیٹھنے اور آئس کریم کھانے کی خواہش ظاہر کی تھی۔

اسپتال انتظامیہ نے اس کی یہ خواہش پوری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ایمان عبدالعاطی کےعلاج کے بارے میں بارے میں بات کرتے ہوئے ان کی طبی ٹیم میں شامل ڈاکٹر انیتا داس نے کہا کہ اگلے مراحل میں ایمان کا مزید 100 کلو گرام وزن کم کیا جاسکتا ہے۔برجیل اسپتال نے کوئی ایک ماہ قبل بتایا تھا کہ ایمان عبدالعاطی کو بھارت سے لائے جانے کے بعد علاج کے مختلف مراحل سے گذارا گیا ہے اور وہ اب کافی حد تک تندرست ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےان کے مرکزی معالج یاسین الشحات نے بتایا کہ تھا کہ ایمان نے اپنا وزن کافی کم کیا ہے۔ اب وہ خود سے کھا پی سکتی اور وہیل چیئر پر بیٹھ سکتی ہے۔ اب وہ پہلے کے برعکس معمول کے مطابق کھانا بھی کھانے لگی ہے۔

خیال رہے کہ مصر سے تعلق رکھنے والی ایمان عبدالعاطی کو اس وقت شہرت ملی تھی جب اس کا وزن غیرمعمولی طور پر بڑھتے ہوئے پانچ سو کلو گرام تک جا پہنچا تھا۔ ایمان کا مصر میں علاج کیا گیا مگرآفاقہ نہیں ہوا۔ بعد ازاں بھارت کے ڈاکٹروں نے اپنے ہاں اس کا علاج کرانے کی پیش کش کی۔

اسے بھارت لے جایا گیا جہاں اس کی حالت پہلے سے بھی زیادہ بگڑ گئی جس کے بعد اسے وہاں سے متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابو ظہبی کے برجیل اسپتال منتقل کیا گیا۔ اس اسپتال کے ماہرین کی زیر نگرانی ایمان کا علاج جاری ہے اور وہ کافی حد تک تندرست ہے۔ اس کی صحت بہ تدریج بہتر ہو رہی ہے۔