ٹرمپ کے بیان کیخلاف قومی اسمبلی میں قرارداد متفقہ طور پر منظور

ٹرمپ کے بیان کیخلاف قومی اسمبلی میں قرارداد متفقہ طور پر منظور

اسلام آباد: امریکا کی نئی افغان پالیسی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان پر الزامات کے خلاف قومی اسمبلی نے قرارداد منظور کر لی۔ اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیر خارجہ خواجہ آصف نے جنوبی ایشیا پر امریکی پالیسی سے متعلق قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کی جسے منظور کر لیا گیا۔ وزیر خارجہ نے قومی اسمبلی میں امریکی صدر کے الزامات سے متعلق قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم اس وقت ایک پیج پر ہے اور قومی اسمبلی 21 اگست کی امریکی صدر ٹرمپ کی پالیسی مسترد کرتی ہے۔


قرارداد میں کہا گیا ہے ایوان اربوں ڈالر دینے کا امریکی دعویٰ مسترد کرتا ہے۔ پاکستان نےدہشتگردی کیخلاف سب سے زیادہ قربانیاں دیں جبکہ پاکستان برابری کی سطح پر امریکہ کے ساتھ تعلقات اور مذاکرات چاہتا ہے۔ حکومت پاکستان امریکہ کے معافی مانگنے تک زمینی و فضائی حدود کا استعمال امریکہ کو کرنے سے روک دے اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی مذمت کرتے ہیں۔

وزیر خارجہ خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا پرویز مشرف کے دور میں امریکا کو اڈے دیئے گئے جبکہ مشرف نے اپنے اقتدار کی طوالت کیلئے پاکستان کو جنگ میں جھونکا اور پوری قوم مشرف کی غلط پالیسیوں کی سزا بھگت رہی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا نائن الیون کے بعد مشرف امریکی جنگ کو پاکستان لے آیا اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے 4 سال میں 2 آپریشن کیے گئے۔ ہماری افواج نے دہشتگردی کو جڑ سے ختم کرنے کا ارادہ کیا اور قربانیاں دیں اور حکومت کے موثر اقدامات کی وجہ سے ملک میں دہشتگردی کم ہوئی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں مزید کہا ایوان کوئٹہ اور پشاور میں طالبان کی موجودگی کا دعوی بھی مسترد کرتا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 22 اگست کو پاکستان، افغانستان اور جنوبی ایشیا سے متعلق اپنی نئی پالیسی کا اعلان کیا تھا۔ صدر ٹرمپ کا پالیسی اعلان کے موقع پر خطاب کے دوران کہنا تھا کہ پاکستان کو اربوں ڈالر دیتے ہیں مگر وہ دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے اور پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر خاموش نہیں رہیں گے۔

پاکستان کے خلاف سخت رویہ اپناتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ہمارا ساتھ دینے سے پاکستان کو فائدہ اور دوسری صورت میں نقصان ہو گا۔ امریکی صدر نے اپنے خطاب میں بھارت کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان میں بھارت کے کردار کے معترف ہیں اور چاہتے ہیں کہ بھارت افغانستان کی معاشی ترقی میں کردار ادا کرے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں