فرانسیسی صدر کا صرف دہشت گردی کا لفظ استعمال کرنے کے بجائے بار بار "اسلامی دہشت گردی" کا لفظ استعمال

فرانسیسی صدر کا صرف دہشت گردی کا لفظ استعمال کرنے کے بجائے بار بار

پیرس:فرانسیسی صدر ایمینوئل ماکروں کا کہنا ہے کہ وہ غیر مستحکم اور تیزی سے منقسم ہوتی دنیا میں فرانس کو ابھرتی ہوئی طاقت بنانا چاہتے ہیں اوردہشت گردی سے نمٹنا ان کی خارجہ پالیسی کی اولین ترجیح ہے۔


فرانسیسی صدر نے اپنے خطاب میں صرف دہشت گردی کا لفظ استعمال کرنے کے بجائے بار بار اسلامی دہشت گردی کا لفظ استعمال کیا حالانکہ داعش کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ داعش تو اسلام کے نام پر ایک بد نما دھبہ ہے ۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق پیرس میں ایک اجلاس سے خطاب میں فرانسیسی صدر نے کہا کہ وہ غیر مستحکم اور تیزی سے منقسم ہوتی دنیا میں فرانس کو ابھرتی ہوئی طاقت بنانا چاہتے ہیں۔انکا کہنا تھا کہ فرانس میں دہشتگرد گروہ داعش کے خلاف جنگ ان کی اولین ترجیح ہے

ایمینوئیل ماکروں کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صف اول کے ممالک نے اپنے اپنے علیحدہ کیمپ قائم کرلیے جو کہ ایک غلط حکمت عملی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد گروپوں کی مالی معاونت کو ختم کرنے کی حکمت عملی پر غور کے لیے 2018 کے اوائل میں فرانس ایک کانفرنس کی میزبانی بھی کرے گا۔