بینکوں اور ڈاک خانوں کا ایڈجسٹ شدہ بل جمع کرنے سے انکار، شہری پریشان

بینکوں اور ڈاک خانوں کا ایڈجسٹ شدہ بل جمع کرنے سے انکار، شہری پریشان

لاہور: بینکوں اور ڈاک خانوں کی جانب سے ایڈجسٹ شدہ بل لینے سے انکار پر شہری لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) دفاتر اور بینکوں کے دھکے کھانے پر مجبور ہیں۔ 

تفصیلات کے مطابق شہریوں کا کہنا ہے کہ لیسکو کے دفاتر میں قطار لگا کر اور گھنٹوں انتظار کرنے کے بعد بل کم کروائے لیکن جب بینکوں اور ڈاک خانے پہنچے تو انہوں نے کم ہونے والے بلوں کو جمع کرنے سے انکار کر دیا۔ 

شہریوں کے مطابق نیشنل بینک سمیت دوسرے بینکوں میں عملے کا کہنا ہے کہ ہم کم ہونے والے بلوں کے بجائے پوری رقوم والے بل جمع کرنے کے پابند ہیں۔ 

شہریوں نے شکایت کی ہے کہ مقررہ تاریخ سے قبل بل جمع کروانے کیلئے دھکے کھانے پر مجبور ہو گئے ہیں مگر کسی طرح بھی شنوائی نہیں ہو رہی اور پہلے لیسکو دفاتر اور پھر بینکوں میں زحمت اٹھانا پڑ رہی ہے۔

صارفین کا کہنا ہے کہ بل جمع کروانے کی آج آخری تاریخ ہے اور جمع نہ ہونے کی صورت میں کنکشن منقطع ہونے کا اندیشہ ہے اور ایسے میں کوئی بھی اس کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہے۔ 

واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے عوام کی جانب سے شدید احتجاج کے بعد بجلی کے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ پرائس (ایف اے پی) ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ 

وزیراعظم کا یہ اعلان ایک کروڑ 71 لاکھ اور زرعی ٹیوب ویل کے 3 لاکھ صارفین کیلئے تھا جنہیں بجلی کے بلوں سے فیول ایڈجسٹمنٹ پرائس (ایف اے پی) سے مستثنیٰ قرار دیا گیا۔ 

دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ نے بھی فیول ایڈجسٹمنٹ ٹیکس مہنگا کر کے باقی بل جمع کرانے کا حکم دیا اور وفاقی حکومت، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی( لیسکو) سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا تھا۔ 

مصنف کے بارے میں