آواز کی لہروں سے انسانی خلیات دیکھنے کی حیرت انگیز ٹیکنالوجی متعارف

برطانوی سائنسدانوں نے ایک نئی تکینک کے ذریعے خلیوں کے اندر جھانکنے کا عمل انجام دیا ہے لیکن اس میں روشنی کی بجائے آواز کی لہریں استعمال کی گئی ہیں۔

آواز کی لہروں سے انسانی خلیات دیکھنے کی حیرت انگیز ٹیکنالوجی متعارف

 لندن: برطانوی سائنسدانوں نے ایک نئی تکینک کے ذریعے خلیوں کے اندر جھانکنے کا عمل انجام دیا ہے لیکن اس میں روشنی کی بجائے آواز کی لہریں استعمال کی گئی ہیں۔ توقع ہے کہ یہ نئی ٹیکنالوجی جانداروں کے سیلز (خلیات) کو تفصیل سے دکھانے والے مروجہ تمام طریقوں کو پیچھے چھوڑ دے گی اور یوں اس سے بیماریوں کی تشخیص، علاج اور دریافت کے نئے راستے کھلیں گے۔


اسے فونون امیجنگ (آواز سے عکس نگاری) کا نام دیا گیا ہے جس میں انسان کےلئے قابلِ سماعت آواز سے کم طول موج (ویو لینتھ) کی آواز استعمال کی جاتی ہے۔ اس کا فائدہ ہے کہ آواز حساس اور نازک خلیات کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچاتی۔ اس کے علاوہ یہ ٹیکنالوجی بہت گہرائی میں اور تفصیل کے ساتھ خلیے کی اندرونی دنیا کا نظارہ کراتی ہے۔

ناٹنگھم یونیورسٹی کے سائنسدان کا کہنا ہےکہ عام دنیا میں لوگ الٹراساؤنڈ کے کمالات سے واقف ہیں جس میں آواز کی لہریں جسم کی اندرونی تصویر بناتی ہیں، اسی طریقے کو تھوڑا بدل کر ہم نے خلیات کو دیکھنے کے لیے استعمال کیا ہے یعنی باری باری ہر ایک خلیے کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ سائنسدان کے مطابق پوری دنیا میں ناٹنگھم یونیورسٹی واحد مقام ہے جہاں یہ ٹیکنالوجی موجود ہے۔

اس کے مقابلے میں روایتی خردبین (مائیکروسکوپ) سے دیکھنے میں ایک جانب تو روشنی حساس خلیات کو متاثر کرسکتی ہے تو دوسری طرف کوئی شے جتنی چھوٹی ہوگی اسے دیکھنے کے لیے اتنی ہی مختصر ویولینتھ کی روشنی استعمال کرنا ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ حیاتیاتی نمونوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ نیلی روشنی کے ویولینتھ سے چھوٹے نہ ہوں کیونکہ نیلی روشنی سے خلیات کو کم سے کم نقصان ہوتا ہے تاہم اس پر بھی بحث جاری ہے۔

روشنی میں موجود توانائی جسمانی ٹشوز اور خلیات کو نقصان پہنچاتی ہے اور بعض مرتبہ کچھ معلوم ہونے کے بجائے الٹا نقصان ہوجاتا ہے۔ آواز کی لہروں میں کم توانائی ہوتی ہے اور وہ اشیا کو نقصان نہیں پہنچاتیں۔ اس طریقے سے اب خلیات کو اس طرح سے دیکھنا ممکن ہوگیا ہے جو اس سے پہلے کبھی قابلِ عمل نہ تھا۔ ماہرین کے مطابق اسٹیم سیل علاج میں انہیں ایک ایک خلیے پر کام کرنا پڑتا ہے جبکہ یہ ٹیکنالوجی اس میں بہت مدد فراہم کرسکتی ہے۔