روس کے بعد سعودی فرماں رواں شاہ سلمان اور ٹرمپ کا ٹیلی فونک رابطہ

روس کے بعد سعودی فرماں رواں شاہ سلمان اور ٹرمپ کا ٹیلی فونک رابطہ

نیویارک: روس کےصدر پیوٹن کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے کے بعد نئے امریکی صدر کا دنیا کے دوسرے بڑے ممالک سے ٹیلی فونک رابطوں کا سلسلہ جاری ہے ۔امریکی محکمہ دفاع کے مطابق  گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی فرماں رواں شاہ سلمان کا ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔ وائٹ ہائوس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ایرانی ایٹمی معاہدے پر سختی سے عمل کرانے پر اتفاق کیا ہےجبکہ دونوں رہنمائوں نے شام اور یمن میں محفوظ علاقوں کے قیام پر بھی اتفاق کیا ہے۔


وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹرمپ نے کہاکہ 7 مسلم ملکوں پر ویزا پابندی کا مطلب تمام مسلمانوں پر پابندی نہیں، ٹرمپ نے کہاکہ 90 دن میں محفوظ پالیسیاں مرتب کرنے کےبعد تمام ملکوں کو ویزا جاری کریں گے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی عرب کے فرماں رواں شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے درمیان تقریباً 1 گھنٹے تک ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی۔ وائٹ ہاوس کے مطابق بات چیت میں دونوں رہنمائوں نے ایران ایٹمی معاہدے کے حوالے سے گفتگو کی اور ایران سے اس معاہدے پر سختی سے عمل درآمد کرانے پر اتفاق کیا ۔

اس کے علاوہ شام اور یمن میں محفوظ علاقوں کے قیام اور پناہ گزینوں کی معاونت کے علاوہ شدت پسندی کے خلاف مشترکہ جدوجہد پر بھی اتفاق کیا گیا۔ غیر ملکی خبر ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ بات چیت میں دونوں ملکوں کے درمیان فوجی اور معاشی تعاون بڑھانے کے علاوہ انسداد دہشت گردی میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔