گھریلو ملازمین کی تنخواہیں بینک کے ذریعے ادا کریں ،وزارت محنت کا انتباہ

  گھریلو ملازمین کی تنخواہیں بینک کے ذریعے ادا کریں ،وزارت محنت کا انتباہ

ریاض: وزارت محنت و سماجی بہبود آبادی کے ترجمان خالد اباالخیل کا کہنا ہے کہ گھریلو ملازمین کی ماہانہ بنیاد پر اجرت کو یقینی بنانے کےلئے متعارف کئے گئے نظام کے مثبت نتائج برآمد ہونگے۔


" یقینی اجرت " منصوبے سے فریقین کے حقوق کا تحفظ بھی ہوگا۔ عکاظ اخبار کے مطابق وزارت محنت وسماجی بہبود کی جانب سے گھریلو ملازمین کے ماہانہ تنحواہوں کی بروقت ادائیگی کےلئے ڈیجیٹل سسٹم متعارف کروایا گیا ہے جس کے تحت ملازم یا ملازمہ ریکروٹ کراتے وقت انکا معاہدہ وزارت کی ویب سائٹwww.musaned.com.sa مساند پر موجود مطلوبہ قوانین کے مطابق کیا جانا لازمی ہے۔وزارت محنت کی جانب سے معاہدے کی ڈیجیٹل تصدیق کی جاتی ہے جس کا ایک ایک نسخہ ہر فریق کے پاس محفوظ ہوتا ہے۔ قانون کے مطابق گھریلو ملازم کی مملکت آمد کے ساتھ ہی اس کی ماہانہ اجرت کو یقینی بنانے کےلئے پری پیڈ اے ٹی ایم کارڈ اسے فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ ملازم کی تنخواہ معاہدے کے مطابق مقررہ تاریخ تک بینک کو موصول ہو جائے۔

" یقینی اجرت " سسٹم کے ذریعے گھریلو ملازمین کی اجرت محفوظ ہو جائے گی اسی طرح آجروں کے پاس بھی اس بات کا ٹھوس ثبوت ہوگا کہ انہوں نے ملازمین کی تنخواہیں بروقت ادا کر دی ہیں۔ وزارت کے ترجمان ابا الخیل نے اس حوالے سے مزید بتایا کہ یقینی اجرت کا قانون مملکت میں کام کرنے والے تمام گھریلو ملازمین پر مرحلہ وار لاگو ہوگا۔اس ضمن میں وزار ت کی جانب سے ان انفرادی آجروں کو 6 ماہ کی مہلت دی گئی ہے جن کی زیر کفالت مملکت میں ملازمین موجو دہیں۔ مہلت کے مطابق ان کفیلوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے ملازمین کے بینک اکاﺅنٹ کھلوائیں اور اے ٹی ایم کارڈ انہیں فراہم کئے جائیں تاکہ ملازمین کی اجرت کے سسٹم کو یقینی بنایا جاسکے۔

ترجمان وزار ت محنت سے مملکت میں کام کرنے والی تمام ریکروٹنگ ایجنسیز کو یاد دہانی کرواتے ہوئے کہا ہے کہ وہ وزارت کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور اس امر کو یقینی بنائیں کہ گھریلو ملازمین کے ویزے جاری کروانے سے قبل وہ مساند کی جانب سے فراہم کردہ معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے یقینی اجرت کے نظام کو حتمی بنائیں گے۔ اس ضمن میں وزارت نے فریقین کے حقوق کے تحفظ اور شکایات کے لئے ٹول فری نمبر19911 بھی جاری کیا ہے جس پر کوئی بھی فریق خلاف ورزی کی صورت میں شکایت درج کرواسکتا ہے۔